پولیس کی نئی یونیفارم کی سپلائی کا من پسند افراد کو ٹھیکہ نہیں دیا گیا ،ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کا جواب

پولیس کی نئی یونیفارم کی سپلائی کا من پسند افراد کو ٹھیکہ نہیں دیا گیا ،ہائی ...
پولیس کی نئی یونیفارم کی سپلائی کا من پسند افراد کو ٹھیکہ نہیں دیا گیا ،ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کا جواب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب حکومت نے لاہورہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پنجاب پولیس کی یونیفارم قوانین کے تحت تبدیل کی گئی ہے اور کسی من پسند افراد کو یونیفارم کی سپلائی کا ٹھیکہ نہیں دیا گیا۔

1977 سے قبل بننے والے شناختی کارڈ 18 اپریل تک بحال نہ ہوئے تو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے :اسفند یار ولی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے پنجاب پولیس کی یونیفارم کی یونیفارم تبدیلی کے خلاف درخواست پر سماعت شروع کی تو پنجاب حکومت کے وکیل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے جواب داخل کرا یا جس میں کہا گیا ہے کہ یونیفارم کی تبدیلی قوانین کے مطابق ہوئی اور یونیفارم کی سپلائی کا ٹھیکہ پیپرا رولز و کے تحت دیا گیا ہے، انوار حسین نے مزید موقف اختیار کیا کہ یونیفارم کی سپلائی کے ٹھیکے میں کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی، درخواست میں الزام لگایا گیا کہ حکومت نے بلا وجہ پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کر دی ہے اور اس سب کچھ من پسند افراد کو یونیفارم کی سپلائی کا ٹھیکہ دینے کی لئے کیا گیا ہے.

درخواست گزار کے مطابق یونیفارم تبدیلی کی رقم کو پولیس اسٹیشنز کی حالت بہتر کرنے پر خرچ کیا جاسکتا تھا،سماعت کے دوران چیف جسٹس نے درخواست گزار کو بارو کرایا کہ اگر درخوست میں حقائق غلط ثابت ہوئے تو جرمانہ ہو گا،چیف جسٹس نے واضح کیا کہ غیر ضروری درخواستیں دائر نہیں ہونی چاہیے، ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو آئندہ سماعت پر حکومتی موقف کا جواب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید کارروائی 20 اپریل تک ملتوی کردی ہے۔

مزید :

لاہور -