شام میں کیمیائی حملہ بیرونی ایجنسیوں کی جانب سے ایک ڈرامہ : روس

شام میں کیمیائی حملہ بیرونی ایجنسیوں کی جانب سے ایک ڈرامہ : روس
شام میں کیمیائی حملہ بیرونی ایجنسیوں کی جانب سے ایک ڈرامہ : روس

  

ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن)روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کا کہنا ہے کہ شام میں غیر ملکی ایجنٹس کی مدد سے کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام میں مغربی مداخلت سے یورپ میں مہاجرین کی نئی لہر کا خطرہ ہے، ان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ ایک ملک کی جانب سے ’روسو فوبک مہم‘ کے ذریعے کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا۔تاہم روسی وزیر خارجہ کی جانب سے اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کے بیان پر درعمل دیتے ہوئے سرگئی لاوروو کا کہنا تھا کہ ان کے برطانوی ہم منصب عالمی کیمیائی واچ ڈاگ کی تحقیقات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بورس جانس جیسے سیاستدان اعصابی گیس حملے سے متعلق حقائق مسخ کر رہے ہیں اور او پی سی ڈبلیو کے بیان کو برطانیہ کے حق میں قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کیمیائی حملے کا جواب دینے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

خیال رہے چند روز قبل شام کے علاقے دوما میں کیمیائی حملہ کیا گیا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں کیمیائی حملے کا الزام روس پر عائد کیا گیا اور امریکی صدر کی جانب سے ماسکو کو خبردار بھی کیا گیا کہ وہ جلد یا تاخیر سے حملے کے لیے تیار رہے۔روس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میزائل حملے کی بات کر کے جنگ کو دعوت دے رہا ہے اور جس جگہ سے شام پر حملہ ہو گا روس اسی جگہ کو نشانہ بنائے گا۔

مزید : بین الاقوامی