جنسی درندگی۔۔۔خاموش رہیں؟

جنسی درندگی۔۔۔خاموش رہیں؟

جنسی درندگی کے دلخراش واقعات پے در پے ہو رہے ہیں،ان واقعات کو دکھائیں یا چھپائیں؟ چیختے چلاتے حقائق سے نظریں ملائیں یا کنی کترائیں؟ ہمیں ان گندے واقعات پر اشتہاری مہم چلانی چاہئے یا نظر انداز کر دینا چاہئے ؟ دِل چیر دینے والے واقعے کی خبراور تصویر کتنی بار دیکھیں‘ کتنی دفعہ ؟کتنی دفعہ ذہن پر ہتھوڑے برسیں گے، دل پر چرکے لگیں گے اور آنکھیں جھلکیں گی ۔

کیا اتنی بار دکھائی جائے کہ دیکھنے والے اکتا جائیں ‘یایہ کوئی خبرہی نہ رہے اور ایک بے حسی طاری ہو جائے، جس طرح چند سال پہلے تک دہشت گردی میں مرنے والوں کے بارے میں ہم بے حس ہو گئے تھے، جن میں پانچ دس افراد کا قتل کوئی خبر نہیں رہی ‘پانچ دس خاندانوں کا اجڑنا معمول کی بات بن چکا تھا ۔

وزارتِ انسانی حقوق کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ ریکارڈ کے مطابق 2013ء سے جنوری 18ء تک ملک میں بچوں سے زیادتی کے سترہ ہزار آٹھ سوکیس ہوئے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم ’ساحل ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز نو بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں، یعنی ہر سال تین ہزار سے زائد بچے جنسی درندگی کا نشانہ بنتے ہیں، جن میں 60فیصد 6سے 15سال کی بچیاں ہوتی ہیں۔یہ وہ کیس ہیں جو ریکارڈ پر آتے ہیں،سینکڑوں واقعات ذلت کے خوف یا پولیس کے پیچیدہ اور توہین آمیزطریق کارکی وجہ سے کسی کو بتائے ہی نہیں جاتے۔

یہ واقعات خطرے کی گھنٹی ہیں، لیکن سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی گھن گرج میں ایسی ننھی منی گھنٹیوں کی آوازیں دب جاتی ہیں۔

درندگی کے ان واقعات کے پیچھے جو اخلاقی بیماری،نفسیاتی نقص اور سماجی خلل کار فرما ہے،اسے تحمل سے سمجھنے اور اسباب پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاک دامن ان کوبے دینی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور چاک دامن ایسے واقعات کا اشتہار جگہ جگہ چسپاں کرتے ہیں۔

ہمارے مُلک میں جنسی سرگرمی یا خواہش پر بات نہیں کی جاتی‘یہ ایک ٹیبو (taboo) یا ممنوع موضوع ہے ، حالانکہ ہمارے مُلک کا نام فحش ویب سائٹس کی سرچ کرنے والے ٹاپ ٹین ممالک میں آتا ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ جنسی خواہش کی تسکین کے لئے خفیہ سرگرمیاں ہو رہی ہیں جو اب جنسی درندگی کی بھیانک کارروائیوں کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔

ہم کب تک ’ممنوعہ موضوع،پر بات سے کتراتے رہیں گے ،جبکہ اس کی خباثتیں دھماکوں کی صورت پھٹ پھٹ کر سامنے آ رہی ہیں۔ہم بات کرنے اور لکھنے میں شرماتے ہیں، لیکن ’گند کار‘ گندگی پھیلانے میں ذرا نہیں جھجکتے۔

ہم ایک بند گلی کی نکڑ میں سہمے ہوئے کھڑے سوچ رہے ہیں، جبکہ ’گندکار‘دیواریں پھلانگ رہے ہیں،حدیں توڑ رہے ہیں ۔بداخلاقی پر خاموش رہنے سے بڑی بداخلاقی اور کیا ہو گی، بداخلاقی کو برادشت کرنے سے بڑی بزدلی اور کیا ہو گی؟گند کے تعفن سے دماغ کھول رہے ہیں، لیکن اس کو اٹھانے اور ٹھکانے لگانے پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ۔

ہم اخلاقی گند پر کھل کربات نہیں کرسکتے‘ معاشرے کے بھیانک حقائق پر بحث نہیں کر سکتے۔ ہم اخلاقی بحران کا شکار ہیں، لیکن کہیں سے کوئی موثر آواز نہیں اٹھتی۔

منبر و محراب محبت کی خوشبو سے خالی ہیں، درس گاہیں کتابیں رٹا رہی ہیں،نمبر بنا رہی ہیں۔حکومت خود مسائل کا حصہ ہے ‘حل کہاں سے آئے ؟پکڑے جانے کا خوف نہیں ‘پکڑنے والے ہاتھ خود آلودہ ہیں، جرائم سے سانجھ بنا رکھی ہے ۔

اس کے سماجی پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم ایک دوسرے سے کٹتے جا رہے ہیں‘ اجنبیت اور وحشت کے جزیروں میں ایک دوسرے سے خوفزدہ ہو کر بیٹھے ہیں۔دوسروں کے بچے ‘میرے بچے نہیں،اِس لئے مجھے ان کی فکر نہیں۔

گلی میں چلتی بیٹی میری نہیں تو اس کی طرف اٹھنے والی میلی نظر اور گندے ہاتھ سے مجھے کیا؟ ایک دوسرے کے بچوں سے بے نیاز ی نے سارے بچے غیر محفوظ بنادیئے ہیں ۔

بھیڑئیے تو گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔اس انسان نما جانور پر کتنی حیوانیت طاری ہوتی ہے، جب کسی ننھی بیٹی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے،آگے کیا کرتا ہے،تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے ۔

کیساتماشہ لگا ہے کہ ایک طرف نیوز چینلزان درندگیوں پر ماتم کررہے ہوتے ہیں، دوسری طرف انہی میڈیا گروپس کے تفریحی چینلز ہیجان انگیز ڈرامے،گانے اور فلمیں دکھا رہے ہوتے ہیں۔ صرف ٹی وی ہی نہیں انٹرنیٹ پر تو جنسی مواد کی بھرمار ہے۔

پچاس روپے میں کئی جی بی فحش مواد سے موبائل بھرجاتا ہے ۔ہر طرف جنسی خواہشات بڑھانے کا سامان سستے دام میں موجود ہے، مگر اس کی تسکین کے جائز ذرائع موجود نہیں۔

شادی میں مشکلات ‘بکھرتا ہوا فیملی سسٹم ‘ ناہموار ازدواجی زندگی،بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح، ان موضوعات پربات ہو تو جنسی درندگی کے اسباب کا سراغ بھی مل سکتا ہے۔

بچوں سے زیادتی کے واقعات کو روکنے کے لئے ایک حل یہ پیش کیا جاتا ہے کہ بچوں میں آگہی پیدا کی جائے کہ وہ اجنبی لوگوں سے دور رہیں ‘وہ ساتھ لے کر جانے کی کوشش کرے تو شور مچائیں۔

بچے کو یہ بھی سمجھا یاجائے کہ آپ کے جسم کے پرائیویٹ حصوں کو کوئی چھوئے تو منع کریں اور والدین کو بتائیں، سکولوں کے نصاب میں بھی یہ چیزیں شامل کرنے کی تجویز ہے۔

ایسے لوگ بھی ہیں،جو بچوں کو سکولوں میں جنسی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں جیسی امریکی اور یورپی سکولوں میں دی جاتی ہے،ا ن لوگوں کو نرم ترین الفاظ میں عقل کے اندھے ہی کہا جاسکتا ہے ۔

انہیں یہاں اور وہاں کی سماجی اور ثقافتی اقدارکا علم ہی نہیں ‘انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ ممالک جنسی تعلیم دے کر جنسی جرائم کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہے ،جس میں ذرّہ بھر بھی عقل ہو تو ایسی بات سوچ کر بھی جھرجھری لے گا۔

ہمارے ہاں تو اس کے نتائج اتنے خوفناک ہوں گے کہ سب کچھ برباد ہوجائے گا۔ سزاؤں کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے ‘ایسے قبیح اور گھناؤنے جرائم کی سزائے موت سرعام‘شہر کے چوک میں ہونی چاہئے۔

ہمارے نزدیک ایشوز صرف سیاسی ،سفارتی، معاشی اورانتظامی ہیں، جبکہ سماجی ،اخلاقی اور نفسیاتی ایشوزسرے سے ہیں ہی نہیں ۔کوئی سیاسی جماعت سماجی اور اخلاقی اقدار کو منشور میں شامل نہیں کرتی۔

روزگار، معاشی ترقی ،انرجی، انفراسٹرکچر، تعلیم،صحت اورخارجہ امور پراپنی پالیسی بتائیں گی، مگر بکھرتے اور بگڑتے سماجی ڈھانچے پر کوئی بات نہیں کریں گی ۔ کوئی نیوزٹی وی چینل اس پر گرینڈ ڈیبیٹ کرانے کو تیار نہیں،کسی یونیورسٹی کو ان موضوعات پر ریسرچ اور سیمینار کرانے میں دلچسپی نہیں۔

ہمیں اپنی اقدار کو ازسر نو دریافت کرنا ہے، ان میں نئی روح اور توانائی بھرنا چاہئے، کیونکہ ہم اپنی اخلاقی اقدار کو پروان چڑھائیں گے تو معاشرے میں بہتری آئے گی،مگر بدقسمتی سے کہیں بھی اس پر کام نہیں ہورہا ۔

تحمل اور برداشت‘ کمزوروں سے رحم دلی،ایک دوسرے کی مدد‘ پڑوسیوں کی خبر گیری، رشتہ داروں سے حسن سلوک بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، مگر انہی سے مضبوط معاشرہ بنتا ہے‘یہی ہماری اخلاقی اقدار ہیں، جنہیں زندہ کرکے بہت ساری خباثتوں پر قابو پاسکتے ہیں ۔ کوئی قومی لیڈرہے اس پر بھی بات کرے،سیاست دان کی نظر تو صرف الیکشن پر ہوتی ہے !

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...