علامہ اقبال کا تصور پاکستان ، کشمیر کے بغیر نامکمل

علامہ اقبال کا تصور پاکستان ، کشمیر کے بغیر نامکمل
علامہ اقبال کا تصور پاکستان ، کشمیر کے بغیر نامکمل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضرت علامہ اقبال ؒ کا تعلق محض اس لئے کشمیر سے نہیں تھا کہ خطہ کشمیر، ارض خداوندی پر ایک جنت نظیر وادی ہے، بلکہ علامہ کے اجداد کشمیری تھے اور اْن کی رگوں میں رواں خون خالص کشمیری ہی تھا۔ کشمیر سے اپنے تعلق پر اقبالؒ ہمیشہ فخر کرتے اور کشمیرسے جدائی کا احساس رکھتے تھے۔

علامہ اقبال صرف فلسفی شاعر ہی نہیں، انسانوں کے استحصال کے بھی خلاف تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ انسان رنگ ، نسل اور مذہب کی تمیز کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ اچھے رویے سے پیش آئیں اور باہمی احترام کی فضا قائم کریں کہ یہی رب کائنات کی منشا ہے۔ پاکستان کی نئی نسل بھی اقبال کی احترامِ آدمیت کی سوچ کو سراہتی ہے۔

کشمیر، ہندوستان سے الگ ایک خطہ اور ریاست ہے اور اس کی اپنی تمدنی و تہذیبی اور ثقافتی شناخت ہے جوہندوستانی سماج میں سما ہی نہیں سکتی۔

علامہ اقبال نے کشمیر کی اس جداگانہ شناخت کو بحال رکھنے اور منوانے کے لئے ، بذات خود پنجاب کے شہر لاہور میں اس وقت کے کشمیریوں کی قائم کردہ '' انجمن کشمیری مسلمانان '' کے ابتدائی دنوں میں شمولیت کی اور جلد ہی اْن کو انجمن کشمیری مسلمانان کا سیکریٹری جنرل بنادیا گیا۔

اپنے اس منصب کے حوالے سے اور جنت ارضی، جموں و کشمیر سے قلبی محبت کے ناطے ، اقبالؒ نے کشمیر کے اندر اور پنجاب کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے اور انہیں آزاد شہریوں کے حقوق دلوانے کے لئے جدوجہد تیز کردی۔

اقبال کا مطالبہ تھا کہ زبر دستی بے وطن اور بے گھر کر دیئے گئے کشمیریوں کوریاست میں اپنے گھروں کو واپس جانے، وہاں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیا جائے۔

اقبال ہی کی تحریک و ایما پر، انجمن کشمیری مسلمانان، نے جموں و کشمیر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو لاہور بلایا اور اْن سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں پر فوجیوں کے ظلم و ستم رکوائیں اور کشمیریوں کو اپنی مذہبی و سماجی اور تمدنی و ثقافتی اقدارو رسومات پورا کرنے کی آزادی کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں۔

مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اس موقع پر اقبال کو یاد دلایا کہ کشمیر اقبال کا آبائی وطن ہے اور کہا کہ انہیں کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے۔ اقبال نے برجستہ مہاراجہ کو جواب دیا '' ہم نے کشمیر کو فراموش ہی کب کیا ہے جو آپ ہمیں یاد دلاتے ہیں، ہم اس وقت آپ کے سامنے سرتاپا، کشمیرہی کشمیر ہیں''۔ اقبال بعد میں کشمیر گئے، لیکن دعوت کے باوجود وہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے مہمان نہیں تھے۔

اپنے سرکاری کام کاج سے فارغ ہو کراقبال کشمیر میں کچھ عرصے کے لئے ٹھہرے اور مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں بھی، وہاں کے قدرتی حسن کا ہی نہیں روزمرہ کی زندگی اور کشمیریوں کی مشکلات کا خود جائزہ لیا۔ اس کے بعد اقبال اور کشمیر کبھی جدا نہیں ہوئے۔

اقبال کہتے ہیں تنم گلے زخیابانِ جنتِ کشمیردلم ز خاکِ حجاز و نواز شیراز استیعنی کہ: میرا بدن، گلستان کشمیر کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارض حجاز سے اورمیری صدا شیراز سے ہے۔

اگر یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک در اصل انیس سو اکتیس ہی میں شروع ہو چکی تھی۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اقبالؒ کشمیر کے سیاسی جغرافیے کی بساط اْلٹ جانے کی پیش گوئی بہت پہلے کر چکے تھے۔

اور لاہور میں انہوں نے انجمن کشمیری مسلمانان کے سالانہ اجلاس میں اپنے اس خواب کو یوں بیان کیا تھا '' ہم کشمیر میں سیاست کی میز اْلٹ جانے کو دیکھ رہے ہیں، میں دیکھ رہا ہوں کہ کشمیری جو روایتی طور پر محکوم اور مظلوم ہیں، ان کے دلوں میں اب ایمان کے شرارے پھوٹ رہے ہیں۔ کشمیریوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ان کے ہنر سے جو ریشم و کمخواب کے لباس بنتے ہیں ان کو پہنتا کون ہے اور ننگے بھوکے کو ن رہتے ہیں۔

علامہ اقبال کی فکر کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ مستحکم رشتہ کی ضمانت ہے۔ اقبال کشمیر کے عظیم سپوت تھے، جنہوں نے روح آزادی کو بیدار کیا۔ حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کی کشمیر کے ساتھ بے پناہ جذباتی اورروحانی وابستگی تھی۔

اس وابستگی کا اظہار علامہ اقبالؒ نے اپنے کلام ،خطوط اورخطبات میں جگہ جگہ کیاہے۔ علامہ اقبال ؒ کے بزرگوں کا تعلق خطہ کشمیر سے تھا، جس پر علامہ اقبال ؒ کو بہت ناز تھا،جس کا اظہار انہوں نے ایک موقع اس طرح کیا کہ ان کی شریانوں میں دوڑنے والا خون کشمیر کے چناروں کی طرح سرخ ہے۔

اقبال بنیادی طور پر آزادی فکر کے شاعر ہیں جنہوں نے اپنی انقلابی شاعری کے ذریعے ظلم وجبر کا شکار انسانوں کے دلوں کے اندر آزادی وحریت کی شمع روشن کی۔

اقبال کا نظریہ تھا کہ غلامی انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی اوراس کی سوچ وفکر کو محدود کر دیتی ہے،جس کے نتیجے میں گروہی، علاقائی اورلسانی تعصبات پیدا ہوتے ہیں۔

علامہ اقبالؒ نے1932ء میں اپنے ایک مشہور خطبہ میں مسلمانا ن کشمیر کو ان قوتوں کی سازشوں سے خبردار کردیا تھا جو کشمیریوں کے اندر انتشار وافتراق پیداکرناچاہتے تھے۔

ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے کشمیر کے لوگوں کو مختلف جماعتوں اورگروہوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ایک جماعت کے پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی کو آگے بڑھانے کا مشورہ دیا تھا۔

علامہ محمد اقبالؒ کشمیری النسل تھے، خطبہ آلہ آباد 1930ء سے قبل بھی وہ ہندوستان میں کشمیریوں کی تحریک حریت کے داعی و علمبردار رہے اور اولاً آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری اور بعد ازاں کشمیر کمیٹی کے صدر بھی رہے۔ علامہ اقبالؒ نے ہی 14 اگست1934ء کو کشمیریوں کیسا تھ اظہار یکجہتی منانے کے لئے پورے مسلمانان ہند کو دعوت دی تھی۔

1931ء کے واقعات جن میں سری نگر میں 22افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اس واقعہ کے صدائے بازگشت کو ہندوستان تک پھیلانے میں علامہ اقبالؒ کا بہت بڑا کر دار تھا۔ حضرت علامہ محمد اقبال نے جب1930ء میں مسلمانان ہند کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا تھا، اسی دوران انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ معرض وجود میں آنے والی نئی مملکت اسلامیہ میں اگر کشمیر شامل نہ کیا گیا تو اس مملکت کو بنانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

حضرت علامہ محمد اقبال کی80ویں برسی کے حوالے سے بزم اقبال نے 20 اپریل کو ایک سیمینار اور دیگر خصوصی پروگرام ترتیب دیے ہیں جن میں شاعر مشرق کی ملی خدمات پر ان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

راقم الحروف جو علامہ اقبال سے گہری محبت رکھتا ہے اور اسی حوالے سے ممبر بورڈ آف گورنربزم اقبال بھی ہے، اقبالؒ کے حوالے سے ہونے والی ہر تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ علامہ کے پیغام کو نئی نسل تک درست حالت میں پہنچایا جائے تاکہ نئی نسل بھی اس پیغام اور علامہ کے افکار سے روشناس ہو سکے۔ بزم اقبال کے زیر انتظام اقبال کی برسی کے موقع پر بہت سی تقریبات ترتیب دی گئی ہیں، جن میں مذاکرے، مباحثے، کلام اقبال کی پیشکش شامل ہیں۔

کشمیر کے اسلامی تشخص کے تحفظ ،تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی اورپاکستان کے ساتھ مذہبی اورسماجی رشتوں کو مستحکم کرنے کے لئے نوجوان نسل میں علامہ اقبالؒ کے نظریات اور فکر کو بیدا ر کیا جائے۔

یہ کشمیریوں کی خوش قسمتی ہے کہ علامہ اقبالؒ کا تعلق اس سرزمین سے ہے۔کشمیری عوام آج بھی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔

حالات کے اس گرداب سے نکلنے کے لئے فکر اقبال ان کی رہنمائی کرسکتی ہے۔کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے قائدین اوربرسرپیکار نوجوانوں کو اپنی تحریک کی کامیابی اوردرست سمت کے تعین کے لئے علامہ اقبالؒ کے افکار وخیالات کو اپنانا ہوگا۔اقبال کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر ہم مسلمانوں کی بکھری قوت کو یکجا کرسکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم