فاٹا میں امن کو استحکام بخشا جائے

فاٹا میں امن کو استحکام بخشا جائے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مُلک میں امن و استحکام غازیوں اور شہداء کا مرہونِ منت ہے، کوئی میڈل اُن کی قربانیوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان میں روز بروز امن آ رہا ہے، کچھ عرصہ گزرا ہے کہ فاٹا میں امن قائم ہوا اور بعض لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی، کچھ لوگ باہر اور اندر سے پاکستان کی سالمیت کے در پے ہیں، ان کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کچھ بھی کر لیں جب تک فوج اور اس کے پیچھے یہ قوم کھڑی ہے آپ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، پاکستان کے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اُن کا کہنا تھا فاٹا کے پُرامن شہریوں کی مشکلات کا پورا احساس ہے، چیک پوسٹ اور بارودی سرنگوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جب بھی مَیں بیرونِ مُلک جاتا ہوں لوگ پوچھتے ہیں پوری دُنیا میں دہشت گردوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے اور ان کے خلاف اگر کوئی کامیابی کی مثال ہے تو وہ پاکستان ہے، جس نے اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کو اُٹھا کر باہر پھینک دیا ہے،پاکستان کے پاس ایسی کیا خصوصیت ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں، مَیں ان لوگوں کو جواب دیتا ہوں کہ جب تک پاکستان میں ایسی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں پیدا ہوتی رہیں گی جو اپنے بیٹوں، بھائیوں، شوہروں اور والد کو مُلک پر نچھاور کرنے کے لئے بھیجتی رہیں گی اُس وقت تک کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی، وہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں تقسیمِ اعزازات کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

دہشت گردی کا مقابلہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں نے جس پامردی سے کیا ہے، پوری دُنیا میں اُن کی جرأت و ہمت کی مثالیں دی جاتی ہیں شہداء نے اپنے مقدس خون کی قربانیوں کی جو نظیریں قائم کی ہیں اور ان شہداء کے جرأت مند وارثوں نے جس عزیمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے اسے پاکستان سمیت پوری دُنیا میں ہر اس جگہ سراہا جا رہا ہے، جہاں جہاں عزم و ہمت کی یہ داستانیں اپنے پورے پس منظر کے ساتھ پہنچ رہی ہیں، شروع شروع میں کہیں کہیں دہشت گردوں کو اپنے منصوبوں میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں یا اب بھی وہ کبھی کبھار بعض وارداتیں کر ڈالتے ہیں وہ مایوس عناصر کی کارروائیاں ہیں اور ان سے مایوسی ٹپکٹی اور جھلکتی ہے، مجموعی طور پر پاکستان میں امن قائم ہے اور آرمی چیف نے بالکل درست کہا کہ پاکستان مشکل حالات سے باہر نکل آیا ہے اور اچھے دن آنے والے ہیں، بطور قوم ہمیں ہمیشہ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہئے، جن کی وجہ سے ہمیں یہ تمام کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

فاٹا میں اس وقت بعض عناصر ایک ایسی تحریک چلا رہے ہیں جسے بیرونِ مُلک سے حمایت حاصل ہے۔ یہ درست ہے کہ فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں شامل ہونا چاہئے اور اُنہیں وہ تمام حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو باقی مُلک کے عوام کو حاصل ہیں،لیکن فاٹا میں جو نظام مروج ہے وہ کوئی آج تو قائم نہیں ہوا، اِس جمے جمائے نظام کو ختم کرنے کے لئے کچھ وقت تو درکار ہے،لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ نظام ستر سال تک برداشت کیا،بلکہ بعض صورتوں میں اس کا حصہ بھی رہے اور اس سے مستفید بھی ہوئے، یکایک اُن پر القا ہوا کہ اُن کے حقوق غضب ہو رہے ہیں، ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہے تو اس کا آغاز کوئی آج تو نہیں ہوا اگر سات عشروں تک بنیادی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو کسی نہ کسی وجہ سے برداشت کیا گیا تھا تو مزید کچھ عرصے کے لئے بھی اگر ایسا ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں،کیونکہ یہ بات تو محسوس کی جا رہی ہے کہ بہتری کی جانب قدم اٹھا لئے گئے ہیں اور مثبت اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں، فاٹا کے علاقے خیبرپختونخوا میں ضم ہوتے ہیں یا ان کو نیا انتظامی یونٹ(صوبہ) بنایا جاتاہے، اس پر کافی غور ہو چکا ہے اور فیصلہ بھی جلد متوقع ہے،لیکن ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ فاٹا کے بعض عناصر اندرون یا بیرونِ مُلک کی انگیخت سے ایک راستے پر چل نکلے ہیں جن سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا اور ان کی راہ کھوٹی ہو گی اِس لئے ہوش کے ناخن لے کر تدبر اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جو لوگ فاٹا کے متعلق کسی بھی فیصلے کے ضمن میں بہت جلدی میں ہیں اُنہیں بھی اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

فاٹا میں سیکیورٹی فورسز کی کوششوں سے جوامن قائم ہوا ہے اُسے مستحکم کرنے اور اس کے فوائد گراس روٹ لیول تک پہنچانے کی ضرورت ہے،لیکن خون سے سینچا ہوا یہ امن برباد کرنے کی نہ تو کسی اندرونی قوت کو اجازت دی جا سکتی ہے اور نہ ہی اُن لوگوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے جو غیر ملکی قوتوں کی شہہ پر فاٹا کے محب وطن عوام کو گمراہ کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں،قوم ایسے عناصر کی حرکتوں سے پوری طرح باخبر ہے اور یہ جس رنگ میں بھی سامنے آئیں گے اُن کے ارادوں کو ناکام بنایا جائے گا، ماضی میں بھی جو عناصر اس راہ پر چلتے رہے ہیں اِس قوم نے اُن کے عزائم بروقت بھانپ لئے تھے اور اُنہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا، اب بھی وہ اگر چولا بدل کر یا پشتون حقوق کے نام پر سامنے آئیں گے تو بھی چھپے نہیں رہیں گے۔

فاٹا کے علاقوں میں جس تحریک کے برگ و بار سامنے آئے ہیں اُن کے پیچھے بعض نام نہاد لبرلز بھی نظر آتے ہیں اور اس کے عجیب و غریب مطالبات کی حمایت بھی کر رہے ہیں،لیکن فاٹا میں امن کے بعد جس امر کی حقیقی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ انتظامی ادارے ان کامیابیوں کو مستحکم کریں اور ان عناصر کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھیں جو لاقانونیت کا وہ دور واپس لانا چاہتے ہیں جب انتہا پسندوں نے فاٹا میں اپنے خود ساختہ نظریات مسلط کر رکھے تھے اور اپنے ناقص فہم اسلام کی بنیاد پر ایسے فیصلے بھی کئے جاتے، جن کی وجہ سے پاکستان کو ہدفِ تنقید بننا پڑتا ہے، نوجوانوں کو زبردستی دہشت گردی پر مجبور کیا جاتا تھا اور چادر اور چار دیواری کی حرمت محفوظ نہ تھی، انتظامی اداروں کی آزمائش یہ ہے کہ وہ اب فوجی کامیابیوں کو مستحکم کریں اور دہشت گردوں کو اِن علاقوں میں دوبارہ قدم نہ جمانے دیں۔ قبائلی عوام کے جو حقیقی مسائل ہیں اُنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے،لیکن مفروضوں کی بنیاد پر اگر مسائل کھڑے کئے جا رہے ہیں اور اُن کی آڑ میں کوئی نام نہاد تحریک چلائی جا رہی ہے تو عوام اسے اپنی بصیرت سے ناکام بنا دیں گے، پشتون عوام نے ماضی میں بھی ایسے عناصر سے کبھی دھوکا نہیں کھایا اور آئندہ بھی نہیں کھائیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ