قومی املاک کا نقصان اور ازالہ!

قومی املاک کا نقصان اور ازالہ!

سیاسی حکومتوں کے دوران سیاسی سرگرمیاں لازم ہیں اور ان کے لئے جلسے اور جلوس بھی ضرورت ہوتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں مختلف شہروں کے پارکوں یا کھیل کے میدانوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کرتی ہیں، بعض جلسے سڑکوں پر بھی ہو جاتے ہیں، ملک کے قیام کو 70 سال ہو گئے، اب تک یہ ہی طے نہیں ہوا کہ کس شہر میں کہاں جلسہ ہو سکتا ہے۔ لاہور بڑا شہر اور صوبے کا دارالحکومت بھی ہے، اِس میں کھیل کے میدان اور باغات بھی ہیں، جو اس مقصد کے لئے استعمال کر لئے جاتے ہیں، تاہم مینارِ پاکستان کے سبزہ زار کی بات ہی مختلف ہے۔مینارِ پاکستان اس مقام پر تعمیر کیا گیا، جہاں مارچ 1940ء میں برصغیر میں مسلمانوں کے لئے الگ وطن کی قرارداد منظور ہوئی تھی، اس مقام پر جہاں سٹیج تھی، مینار بنا کر اردگرد سبزہ زار بنا دیا گیا اور پھر یہ سبزہ زار جلسہ گاہ بن گیا یہاں ہر جماعت نے بڑے بڑے جلسے کئے،منہاج القرآن نے ہر سال تقریب عید میلاد النبیؐ شروع کی اور جماعت اسلامی نے بھی بڑے بڑے اجتماعِ عام کئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور عمران خان بھی یہاں جلسے کر چکے اور اب عمران خان نے29 اپریل کو یہاں جلسے کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔مینارِ پاکستان کا سبزہ زار دراصل اقبال پارک کا حصہ تھا اور معنوی اعتبار سے اب بھی ہے، پنجاب حکومت نے بعض ترقیاتی کاموں کے باعث اقبال پارک (سابقہ منٹو پارک) کے بعض حصے متاثر ہونے کے بعد اس کے تحفظ کے لئے ایک بڑا منصوبہ گریٹر اقبال پارک کے نام سے بنایا، اربوں روپے کے بجٹ سے یہاں جھیل، میوزیم اور رنگ برنگی روشنیوں کا انتظام کیا اس کے ساتھ مینارِ پاکستان کے سبزہ زار کی بھی تزئین کی گئی اور پھر تحفظ کے لئے یہ قرار دیا کہ جلسے منعقد نہ کئے جائیں، جلسوں کے لئے ناصر باغ کو مختص کیا گیا۔ وجہ یہ بھی تھی کہ جلسوں اور کانفرنسوں کی وجہ سے سبزہ زار بہت بُری طرح متاثر ہوتے تھے اور جلسوں کے بعد بحالی پر اخراجات بھی اٹھتے اور وقت بھی خرچ ہوتا تھا، تاہم سیاسی جماعتوں نے ہاتھ نہیں کھینچا۔اب پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل نے جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے اکابرین کو متوجہ کیا اور ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ جماعت اسلامی کے یوتھ کنونشن میں شریک نوجوانوں اور تحریک لبیک کے مظاہرین نے اقبال پارک میں زبردستی گھس کر آرائش کو نقصان پہنچایا، آرائشی روشنیاں توڑ دی گئیں اور میوزیم کو بھی نقصان پہنچایا، ان سب کی بحالی پر قریباً پانچ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ پی ایچ اے نے ہر دو جماعتوں کے اکابرین سے ازالے کے لئے کہا ہے۔

یہ عام لوگوں کے بھی علم میں ہے کہ کسی بھی شہر میں جلسے کی اجازت کے ساتھ شرائط ہوتی ہیں، بنیادی شرط سبزہ زاروں کی بحالی اور نقصان کے ازالے کی ہوتی ہے، جسے منتظمین باقاعدہ قبول کرتے ہیں،لیکن آج تک کسی نے نقصان پورا نہیں کیا، قومی املاک کو پہنچایا گیا نقصان بھی قومی ہی ہوتا ہے، اِس لئے تمام متعلقین کو غور کرنا اور اس سے اجتناب کرنا چاہئے کہ یہی اخلاقی تقاضا بھی ہے۔ یوں بھی اگر بہتری کے لئے کسی سبزہ زار کو بطور جلسہ گاہ استعمال کی ممانعت کی جاتی ہے تو اسے مان لینا چاہئے، اب بہتر عمل تو یہ ہے کہ جو نقصان ہوا اس کی تلافی بھی کی جائے اور یہ تجویز مان لی جائے کہ مینارِ پاکستان اور اقبال پارک ایسی سرگرمیوں کے لئے ممنوع ہو گا، اس سے شہر کی خوبصورتی تو بڑھے گی، ساتھ ہی عوام کو بھی تفریح کے مواقع میسر آئیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ