دھرنا، انتظامیہ، عوام!

دھرنا، انتظامیہ، عوام!
دھرنا، انتظامیہ، عوام!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حالات ہی کے مطابق مسلسل بزرگ یاد آرہے ہیں، ابھی گزشتہ روز ہی پیر پگارو (ہفتم) پیر علی مردان شاہ کا ذکر کیا کہ آج پھر وہ یاد آگئے ہیں، دنیا سے رخصت ہونے سے قبل اچانک ہی ان کا ’’بیانیہ‘‘(اگر اسے کہا جاسکے تو؟)تبدیل ہوگیا اور انہوں نے کنگری ہاؤس کراچی میں میڈیا والوں سے بات کی تو بالکل نئی بات کہہ دی انہوں نے کہا ’’اب درود شریف والوں کا وقت آنے والا ہے‘‘ اس سے پہلے وہ کہا کرتے تھے، جو بچے گا سیاست کرے گا، یہ الگ بات ہے کہ ایسا وقت نہ آیا اور سبھی بچے بھی ہوئے اور سیاست بھی کررہے ہیں، بہر حال جب انہوں نے درود والوں کا ذکر کیا تو ان سے مراد یقیناً اس مسلک کی تھی جو خود ان کا بھی تھا، ہم نے لاہور میں ایک ملاقات میں کہا تھا، پیر سائیں، آپ کے دوست مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالستار نیازی تو کوئی ایسا انقلاب نہ لاسکے تو اب کون قیادت کرے گا، انہوں نے جواب دیا، دیکھتے جاؤ، جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے، جب درود والوں کا دور ہوگا۔

پیر علی مردان شاہ تو اللہ کے حضور ہیں لیکن ان کی کہی کئی باتیں یاد آتی رہتی ہیں اور یہ بھی انہی میں سے ایک ہے، ہمیں بہر حال یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا ضرور آجائے گا کہ پیر پگارو کی کہی یہ بات بھی درست ثابت ہوگی اور نہ ہی یہ علم ہوسکتا تھا کہ ایسا وقت آیا تو اس طرح کا ہوگا جیسا فیض آباد چوک اور چوک داتا دربار میں دھرنوں سے ہوا کیونکہ اہل سنت والجماعت (بریلوی) کی سیاسی جماعت توجمعیت علماء پاکستان تھی، جس کے بانی صدر علامہ ابوالحسناتؒ تھے اور متحرک صدر مولانا شاہ احمد نورانی، اب تو یہ جمعیت کئی ٹکڑوں میں ہے اور اسی میں جماعت اہل سنت اور اس کے دھڑے بنے ہوئے ہیں، تاہم یہ جو ’’انقلاب‘‘ آیا وہ بھی اس مسلک ہی کے پیروکاروں سے آیا، جنہوں نے رسول اکرمؐ کی حرمت کے نام پر تحریک لبیک یا رسول اللہؐ بنائی اور پھر یہ بھی دو ہوگئی ایک کی قیادت اشرف جلالی اور دوسرے دھڑے کی مولانا خادم حسین رضوی کے پاس چلی گئی، اختلاف بھی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور فیض آباد والے دھرنے کے باعث ہوا، اشرف جلالی نے تو فیصل چوک میں کئی روزکیمپ لگایا لیکن مولانا خادم رضوی نے فیض آباد کو مرکز بناکر اسلام آباد اور راولپنڈی کی آمدورفت کو بہت بری طرح متاثر کیا، اللہ اللہ کرکے یہ دھرنا ختم ہوا، معاہدہ ہوا، بقول دھرنا والوں کے اس پر عمل نہ ہوا اور پھر داتا دربار پر دھرنا دیا گیا جو بارہ روز تک جاری رہا، مذاکرات ہوئے ناکام ہوتے رہے، آخر کار جمعرات کو اس تنظیم والوں کی ہدائت پر متعدد شہروں کی ٹریفک بند کی گئی اور یوں طویل مذاکراتی دور معاہدے پر اختتام پذیر ہوا اس کے بعد دھرنا ختم اور ٹریفک بحال ہوگئی۔

ہم نے بھی حکومت اور انتظامیہ کی طرح اس موضوع پر کچھ لکھنے سے گریز کیا کہ جو مسئلہ اٹھایا گیا وہ بہت حساس ہے اور اس حوالے سے احتیاط ضروری ہے لیکن یہ بھی تو ممکن نہیں کہ کسی بھی عمل کے اثرات سے آنکھ چرالی جائے چنانچہ دھرنے سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر ہوتا رہا، ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی حتیٰ کہ ایمبولینس گاڑیاں تک پھنسی رہیں اس سلسلے میں دھرنے والے حضرات کو کوئی فکر لاحق نہ ہوئی، وہ اصرار کرتے رہے کہ ان کے مطالبات پورے کئے جائیں، اس حوالے سے ملک میں بہت تجزیئے بھی ہوئے اور پس منظر میں بہت کچھ تلاش کیا گیا، تاہم ہر کوئی محتاط ہی تھا۔

اب یہ معاملہ طے ہوا ہے توکچھ کہنے اور لکھنے کا بھی وقت آگیا ہے، اس سلسلے میں انتظامیہ کا موقف بہت واضح تھا کہ جس حساس مسئلہ کو لے کر یہ سب کچھ کیا جارہا ہے اس کے حوالے سے سب جذباتی ہیں اور اگر بزور دھرنا ختم کردیا جاتا تو نقصان کا اندیشہ تھا، اگرچہ ریاستی قوت سے قابو تو پالیا جاتا لیکن یہ ایک مستقل روگ بن جاتا، اس موقف ہی کے حوالے سے یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ کوئی بھی گروہ چند درجن لوگ لے کر ٹریفک بند کردے تو ایسا ہی ہوگا کہ یہاں ایسی بہت سی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں جو مختلف شہروں میں یہ حالات پیدا کرنے کی اہل ہیں کہ اس کے لئے درجنوں لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے سینکڑوں کی نہیں، بہر حال یہ ایک سوال ہے جس کا جواب برسراقتدار حضرات اور انتظامیہ پر ادھار ہے۔

جہاں تک مسئلہ ختم نبوتؐ کا تعلق ہے تو یہ نہ صرف عقیدے اور ایمان کا ہے بلکہ ہم سب جذباتی بھی ہیں تاہم ذرا پس منظر پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بزرگوں کی محنت، برکت اور کامیابی کسی اور ہی طرف لے جائی جارہی ہے ختم نبوتؐ تحریک کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ 1953ء میں ہمارے بزرگ علامہ ابوالحسناتؒ قادری کی قیادت میں شروع ہوئی، کل جماعتی مجلس عمل بنی، مظاہرے، گرفتاریاں ہوتی رہیں، علامہ ابوالحسنات، مولانا مودودی، مولانا عبدالستار نیازی، حضرت امین الحسنات سید خلیل احمد قادری (ابوالحسناتؒ کے صاحبزادے) گرفتارہوئے، مولانا مودودی، عبدالستار نیازی اور خلیل احمد قادری کو سزائے موت کا بھی حکم ہوا کہ لاہور میں منی مارشل لاء لگا تھا یہ تحریک ایک حد تک کامیاب اور ایک حد تک نامکمل رہی تھی تاہم تمام مکاتب فکر یکسو تھے اور بالاخر 1974ء میں ذوالفقار بھٹو کے ہاتھوں یہ فرض پایہ تکمیل کو پہنچا اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دے دیا گیا۔

اب تو توہین رسالتؐ کے حوالے سے باقاعدہ قانون موجود ہے لیکن ہمارے یہ بزرگ اس قانون کی روح کے مطابق عمل نہیں کرتے کہ گستاخی کے الزام میں ریاست نے کارروائی کرنی ہے ہم شکائت کرکے ثبوت مہیا کرنے کے پابند ہیں یہ یوں عرض کیا کہ حالیہ دور میں تحریک لبیک والے جو راستہ اختیار کرچکے اس سے عوام کو پریشانی ہوئی ہے، ان سب کو عوامی مشکلات اور ملکی حالات کا ادراک کرنا ہوگا، دوسری صورت میں کچھ اور مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم