اسماء نواب کی بے گناہی نظام عدل پر سوالیہ نشان؟

اسماء نواب کی بے گناہی نظام عدل پر سوالیہ نشان؟

آج میرے پیش نظر دو خبریں ہیں ۔ ایک یہ کہ 1998ء میں اپنے والدین اور بھائی کو قتل کرنے کے الزام میں قید اسماء نواب کو 20سال بعد بے گناہ ثابت ہونے پر رہا کر دیا گیا ہے،جبکہ دوسری خبر یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کوئٹہ ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ نظام عدل میں خامیاں موجود ہیں ، جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے قانونی اصلاحات کے آغاز کا اعلان بھی کیا ہے۔ چیف جسٹس کی طرف سے عدلیہ کی خامیوں کا اعتراف عین حقیقت ہے اور نظام عدل میں اصلاحات وقت کا اولین تقاضا ہے۔

عدلیہ کی خامیاں دور کرنے اور اصلاحات کے نفاذ کے ساتھ چیف جسٹس کو اس سوال کا جواب بھی ضرور تلاش کرنا چاہئے کہ اسماء نواب کی 20سالہ بے جرم قید کا حساب کون دے گا؟اِس ضمن میں یہ ضروری ہے کہ عدلیہ کے اندر خود احتسابی کا عمل مزید مضبوط بنایا جائے اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اختیارات اور دائرہ کار میں مزید وسعت لائی جائے ۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں عدلیہ کے تقدس اور وقار کو خصوصیت کے ساتھ ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے، لیکن اس کی قیمت عدلیہ کومقدمات کے درست، بہترین، شفاف اور بروقت فیصلوں کے ذریعے چکانا ہوتی ہے۔ پاکستان کا آئین بھی عدلیہ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے روکتا ہے اور ہر پاکستانی شہری پر لازم ہے کہ وہ عدلیہ کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عدلیہ کے جج صاحبان بھی انسان ہیں اور ان سے بھی غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں ۔

اِس لئے عدلیہ کے معاملات کا جائزہ لینے اور کسی جج کے خلاف شکایت کا احتساب کرنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 209کے تحت قائم ہونے والی سپریم جوڈیشل کونسل موجود ہے۔

اس جوڈیشل کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209(8) کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لئے 11آرٹیکلز پر مشتمل ضابطہ اخلاق (Code of Conduct)بھی جاری کر رکھا ہے، جس کی پاسداری تمام معزز جج صاحبان پر لازم ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 178اور 194کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان سے جو حلف لیا جاتا ہے، وہ آئین کے شیڈول 3میں درج ہے، جس کے تحت جج اس بات کا بھی صدقِ دِل سے حلف اٹھاتا ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے عدلیہ کے لئے وضع کر دہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کرے گا۔

اگر کوئی جج اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس آئین کے آرٹیکل 209(5-B) کے تحت اس جج کے خلاف صدرِ مملکت کی تجویز پر یا از خود کارروائی کرنے کا اختیار موجود ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ عدلیہ کے ضابطہ اخلاق کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس میں بہت اعلیٰ اور ٹھوس اصول اور ضابطے وضع کئے گئے ہیں، جن پر اگر مکمل عمل درآمد ہوجائے تو عدلیہ کے تقدس اور وقار میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے۔مثلاً : اس ضا بطہ اخلاق کے آرٹیکل ایک میں لکھا ہے کہ زمین و آسمان عدل (توازن) کے ساتھ قائم ہیں۔

عدل (توازن) کا مطلب ہے کہ انصاف کے ترازو میں سے ظلم و نا انصافی کا بوجھ اتار کر دونوں پلڑے برابر کر دیئے جائیں۔ہر جج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام افعال میں اس مساوات کے قیام کو بہرصورت یقینی بنائے۔ آرٹیکل 2کہتا ہے کہ جج کو متقی ، پرہیز گار، قانون کا پابند ، محتاط، ذہین، بردبار اور الزام و طمع سے پاک ہونا چاہئے۔ اسی آرٹیکل میں ہے کہ جج کو تلخ ہوئے بغیر مضبوط اور نرم مزاج ہونا چاہئے۔

جج کا ہر عمل احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے دیانتدارانہ ہونا چاہیے۔ یہی آرٹیکل ایک جج کو پابند کرتا ہے کہ اسے پُرسکون ، متوازن اور غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ یہ آرٹیکل 2ہر جج کو اس بات کا بھی پابند کرتا ہے کہ اسے عدالت کا وقار بحال رکھنے کے لئے محتاط رہنا چاہئے اور ایسا تاثر نہیں چھوڑ نا چاہئے، جس سے جانبداری کا اظہار ہوتا محسوس ہو۔

اس عدالتی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 3کا یہ پوائنٹ موجودہ حالات میں بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی جج کو طعنہ زنی او ررسوائی سے بالا تر ہونا چاہئے اور اسے سرکاری و نجی معاملات میں غیر موزونیت سے بچنا چاہئے۔اس ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 4کا جائزہ لیں تو اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت سیاسی کیسوں کے تناظر میں یہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

اس آرٹیکل کا خلاصہ یہ ہے کہ جج کو ایسا کوئی بھی کیس سننے سے انکار کر دینا چاہئے جس سے اس کی غیر جانبداری پر حرف آتا ہو۔ اس آرٹیکل میں یہ بھی صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ جج کو لازمی طور پر ایسی رائے اور اقدام سے گریز کرنا چاہئے، جس سے مقدمہ کا جھکاؤ کسی ایک فریق کی طرف نظر آئے ۔ اعلیٰ عدلیہ میں زیر سماعت سیاسی کیسوں کے حوالے سے عدلیہ کے ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل 5 بھی نہایت اہم ہے۔

اس آرٹیکل میں لکھا ہے کہ فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران جج عوام کی نظروں میں ہوتا ہے۔ اس دوران جج کو جو شہرت ملتی ہے ، اسے اس سے زیادہ شہرت کے حصول کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ جج کو کسی عوامی تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہئے اور نہ ہی کسی جج کو سیاسی معاملے میں ملوث ہونا چاہئے۔

اس ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 8میں کہا گیا ہے کہ جج کو اپنے قریبی رشتہ داروں ، دوستوں اور دیگر متعلقین سے ایسے تحائف نہیں لینے چاہئیں اور نہ اسے کسی کی دعوت پر ایسے تفریحی دورے کرنے چاہئیں ، جو اس کے فرائض منصبی پر اثر انداز ہوں ۔16لاکھ سے زائد زیر التواء مقدمات کے تناظر میں عدلیہ کے ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل 10بھی بہت اہم ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ جج مقدمہ کے جلد از جلد فیصلہ کی کوشش کرے تاکہ سائلین کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

اس آرٹیکل میں یہ بھی تحریر ہے کہ اگر کوئی جج انصاف کی جلد فراہمی کے لئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے کام سے مخلص نہیں ہے اور یہ عمل ایک سنگین غلطی ہے۔ آمریت کا راستہ روکنے اور ججوں کے پی سی او کے تحت حلف لینے جیسے غیر آئینی اقدامات کے تدارک کے لئے آرٹیکل 11کہتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی جج کسی بھی انداز میں ماورائے آئین اقتدار کے حصول کے لئے کسی بھی اتھارٹی کی مدد نہیں کرے گا اور آئین کے شیڈول 3میں دئیے گئے ججوں کے حلف کے خلاف کوئی حلف نہیں اٹھائے گا۔

یہ گیارہ نکاتی وہ ضابطہ اخلاق ہے جس پر مکمل عمل درآمد سے عدلیہ کے اندر موجود خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے، لیکن افسوس نہ اس ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے اور نہ ہی سپریم جوڈیشل کونسل عدلیہ میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لئے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل عدلیہ کا محتسب ادارہ ہے جو بلا تفریق کسی بھی جج کے خلاف شکائت پر کارروائی عمل میں لاتا ہے، لیکن چند روز قبل جب کوہاٹ سے خیبر پختونخوا کے حاضر سروس ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج احمد سلطان ترین کی طرف سے چیف جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں مِس کنڈکٹ کے الزام کے تحت ریفرنس دائر کیا گیا تو اس ریفرنس پر کارروائی عمل میں لانے کی بجائے احمد سلطان ترین کو معطل کرکے او ایس ڈی بنا دیا گیا ۔

چیف جسٹس کی طرف سے عدلیہ میں اصلاحات لانے کا اعلان بہرحال خوش آئند اور قابل تحسین ہے، لیکن سیاسی لیڈروں کی طرح انھیں دعوے اور اعلان کرنے کی بجائے عملی طور پرایسے اقدام کرنے چاہئیں، جس سے عام آدمی کو بھی تبدیلی محسوس ہو۔ پاکستان کی تاریخ میں عدالتی اصلاحات کی جتنی آج ضرورت ہے اس سے قبل کبھی نہیں تھی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاسی کیسوں میں ہاتھ ڈالنے کے بعد عدلیہ اس وقت عوام کے کٹہرے میں ہے۔سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ میاں اللہ نواز کا ریکارڈ پر موجود یہ بیان بھی الارمنگ ہے کہ ’’ ہماری جوڈیشری میں مشکل سے 30سے 40فیصد جج ایماندار ہیں ‘‘۔

اس بیان سے یہ افسوسناک پہلو واضح ہوتا ہے کہ نہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کا احتساب کرنے میں غیر فعال ہے بلکہ کونسل کے کوڈ آف کنڈکٹ پر بھی کما حقہ عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

یہ صورتحال بھی کسی المیہ سے کم نہیں کہ اس وقت ملک میں 65 ہزار افراد کے لئے فقط ایک جج ہے اور زیر التواء مقدمات کے حساب سے ہر جج کے حصے میں 700 کے قریب مقدمات آتے ہیں ۔اب یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک جج سات سو مقدمات کی سماعت کر سکے۔

یہی وجہ ہے کہ زیر التواء مقدمات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ،لیکن ججوں کی تعداد میں اضافہ کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ۔ججوں کی کمی اور مقدمات کے اضافی بوجھ کا نتیجہ اسماء نواب کیس کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس سے عدلیہ کے وقار پر کئی سوالیہ نشان کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اس گھمبیر صورتِ حال کے تناظر میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے گھر (عدلیہ) کو صاف کرنے پرپوری توجہ دیں۔

اگر آپ عدلیہ کا قبلہ درست کرنے اور عوامی مفاد میں اصلاحات لانے میں کامیاب ہو گئے تو تاریخ میںآپ کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ اگر آپ نے عدلیہ کو مضبوط بنا دیا ،عدلیہ میں قابلِ عمل اور مفید اصلاحات کا نفاذ کر دیا ، ججوں کو ضابطہ اخلاق کا پابند کر دیا او رعدلیہ میں موجود خامیوں او رکرپشن کا خاتمہ کر دیا ، انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز رفتار ٹریک پر ڈال دیا تو آپ کے جانے کے بعد بھی کسی سرکاری یا سول ادارے کی جرأت نہ ہوگی کہ وہ مضبوط ، غیر جانبدار، ایماندار اور فعال عدلیہ کے ہوتے ہوئے عوام کی جان و مال سے کھیلنے کا سوچ بھی سکے ۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...