فصلی بٹیروں کا موسم

فصلی بٹیروں کا موسم

پاکستان کی سیاسی روایات کے عین مطا بق جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے، ویسے ویسے کئی سیاست دان اپنی جماعتوں کو چھوڑ کر نئی سیاسی صف بندیاں کر رہے ہیں۔

ظاہر ہے اس طرح کے سیاست دان کسی بھی طرح کا سیاسی نظریہ نہیں رکھتے، بلکہ صرف انتخابات میں کامیاب ہو نا اور حکومتی جماعت کا حصہ بن کر بھرپور فائدے حاصل کرنا ہی ان کا واحد مقصد ہوتا ہے۔

ابھی چند روز قبل جنوبی پنجاب سے مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے کئی ارکان جنوبی پنجاب کے حقوق اور الگ صوبے کے مطالبے پر مسلم لیگ (ن) سے الگ ہو گئے۔ جب سابق وزیراعظم نواز شریف سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ آپ ایسے افراد کو اپنی جماعت میں شامل کرتے ہی کیوں ہیں جو سیاسی جماعت سے وفادار رہنے کی بجائے ہر حکومت کا حصہ بن جا تے ہیں؟ تو اس پر نواز شریف نے جواب دیاکہ ہم لو گ ان کو اپنے ساتھ شامل نہیں کرتے،بلکہ یہ خود ہی ہماری جماعت میں آ جاتے ہیں،یعنی اگر کھلے الفاظ میں بات کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ electablesیا اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے سیاست دان خود ہی وقت کی نبض کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اس وقت کون سی جماعت میں جانے سے ان کو اقتدار ملے گا، بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں بھی ایسے مفاد پرست سیاست دانوں کا ماضی دیکھے بغیر ان کو اپنی جماعت میں شامل کر لیتی ہیں۔

یہاں بنیادی سوال یہی ہے کہ ہماری سیاست میں یہ رویہ کیوں پا یا جا تا ہے؟۔۔۔ دراصل کسی بھی ملک کے سیاسی مزاج کی تعمیر میں اس ملک کے تہذیبی، ثقافتی،مذہبی اور معاشی ڈھانچے کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ کسی ملک کا سیاسی نظام ایک طرح سے اس ملک کے معاشی نظام اور سماجی رویے کا عکاس ہوتا ہے۔

پاکستان میں قومی اسمبلی کی کل 272 نشستوں میں سے 185 کے لگ بھگ نشستیں ایسی ہیں، جو دیہی اور قصباتی علاقوں پر مشتمل ہیں۔ان نشستوں میں اب بھی واضح طور پر مخصوص برادریوں، ذاتوں، زمین داروں، جاگیر داروں اور پیروں کا بھر پور سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے۔

1947ء میں آزادی کے وقت موجودہ پاکستان کا 59فیصد علاقہ براہ راست جاگیرداری نظام کے زیر اثر تھا اور چونکہ ان علاقوں میں مسلم لیگ کے بہت سے اراکین کا تعلق ماضی میں یونینسٹ پارٹی سے رہا تھا جو سرا سر جاگیرداروں کے مفادات کی نگہبان جماعت تھی، اس لئے قیام پاکستان کے بعد اس نظام کو ختم کرنے کی کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی۔

جاگیردار سیاست دانوں کی اکثریت کسی بھی طرح کے سیاسی اصول یا نظریے سے بالاتر ہو کر ہر حکمران کے ہاتھ پر بیعت کرتی رہی چاہے وہ فوجی حکمران ہی کیوں نہ ہوں۔

پاکستان میں منتخب حکومتیں تو جاگیر داروں یا electables پر انحصار کرتی ہی ہیں،مگر یہاں پر تو کسی فوجی حکمران نے بھی اپنی حکمرانی کے لئے جا گیر داروں پر ہی انحصار کیا۔

اگر 1959ء میں ملک میں عام انتخابات ہو جاتے تو ممکن تھا کہ اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت سرمایہ دارانہ انقلاب کی راہ ہموار کرتی، لیکن اس سے پہلے ہی مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔1964ء کے انتخابات میں بھی جاگیر داروں کی واضح اکثریت نے ایوبی آمریت کی چھتری تلے پناہ لی۔

جنرل ضیاء الحق کا دور تو اس حوالے سے یادگار رہے گا کہ انہوں نے جاگیرداری نظام کو بھی ایک طرح سے’’ اسلامک‘‘ بنا دیا اور1981ء میں شر یعت کو رٹ نے فیصلہ دیا کہ ’’جاگیرداری خدا کی عطا کردہ ہے کسی حکمران کے شایان شان نہیں کہ وہ خدائی کام میں مداخلت کرے‘‘ اِس لئے زمین کی اصلاحات 1977ء کے قانون کو کا لعدم قرار دے دیا گیا۔ 12اکتوبر1999ء کو جنرل پرویزمشرف کی آمد کے بعد کئی سادہ لوح دانشوروں نے جاگیرداری نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

یہ وہ دانشور تھے جو اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ اسی نظام کے باعث فوجی آمروں کو منتخب حکومتوں پر شب خون مارنے کا موقع ملتا ہے۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ 2002ء کے انتخابات میں جا گیر داروں کی اکثریت کو اسمبلیوں میں بھیجنے کے لئے ریا ستی مشینری کا بھر پور استعمال کیا گیا۔

اگر یہاں صحیح معنوں میں زمینی اصلاحات کر کے جاگیرداری نظام کو ختم کر دیا جاتا اور اقتدار کی باگ ڈور متوسط طبقے کے ہاتھ میں ہوتی تو جب بھی کوئی فوجی مہم جو جرنیل اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتا، اسے بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا، چونکہ جاگیرداری نظام میں مزاحمت کا جذبہ ہوتا ہی نہیں، اِس لئے یہاں ہر فوجی آمر کو خوش آمدید کہا جاتا رہا۔

یہ ہے وہ سب سے بڑی تلخ حقیقت، جس کے باعث پاکستان میں سیاسی جماعتیں نظریاتی اعتبار سے کمزور ہیں۔ آج بھی جمہوری حکومتوں کو اپنی سیاسی قوت کے لئے ایسے طبقات پر انحصار کرنا پڑتا ہے جن کا مقصد ہی اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) ایک طرف پرویزمشرف کو آمر کہتی ہے تو دوسری طرف اس کی اپنی صفوں میں کئی ایم این ایز، ایم پی ایز حتیٰ کہ کئی وزراء ایسے ہیں، جنہوں نے مشرف دور میں اس کے ہاتھ مضبوط کئے۔

افسوس اب بھی کئی سیاست دان، سول سوسائٹی ، میڈیا اور دا نشوروں کی اکثریت اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی کہ جب تک یہ بوسیدہ سیاسی اور معاشی ڈھا نچہ برقرار رہے گا، تب تک پاکستان میں جمہوریت بھی خطر ے میں رہے گی۔

2011ء میں منظر عا م پر آنے وا لی کتا ب۔۔۔ Pakistan: A Hard Country ۔۔۔ کے مصنف اینا تھول لیو ن نے بنیادی طور پر یہ موقف پیش کیا ہے کہ پاکستانی سیاست اور سماجی رویے اب بھی Kinship یا برادریوں، ذاتوں کے گرد گھومتے ہیں۔

ریاست یا قوم کے ساتھ وفا داری کا رشتہ استوار ہو نے کی بجا ئے پاکستانی سماج میں Kinship کی بنیاد پر استوار ہو نے والے رشتے زیادہ مضبوط ہیں اور یہی امر پاکستان میں کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

لیون کی بات کو نظر انداز کرنا اِس لئے ممکن نہیں، کیونکہ اکثر مغربی دانشوروں کی طرح لیون نے کسی تھنک ٹینک میں بیٹھ کر اپنا تجزیہ پیش کرنے کی بجائے خود پاکستان کے کئی دورے کئے اور بیس سال کے گہر ے مشاہدے اور مطالعے کے بعد اس سوچ کو پیش کیا۔۔۔

اب سیاسی ہوا کا رخ دیکھ کر بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں کے ایسے سیاست دانوں نے، جن کا تعلق اشرا فیہ سے ہے اور جن کے خاندان کئی دہائیوں تک ان علاقوں سے منتخب ہو کر حکومتوں کا حصہ بنتے رہے ہیں،انہوں نے بلوچستان اور جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو بنیاد بنا کر نئی سیاسی جماعتیں بنا نے کا اعلان کر دیا ہے۔

سیاست پر گہری نظر رکنے والا کوئی بھی فرد کیا اس بات پر یقین کرنے کے لئے تیار ہو گا کہ اشرافیہ کے ایسے حصے، جو خود بھی بلوچستان اور جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے ذمہ دار ہیں، وہ ان علاقوں کو محرمیوں سے نکال پا ئیں گے؟

آج مسلم لیگ (ن) سمیت کئی جماعتیں یہ شکوے کر رہی ہیں کہ چند مقتدر قوتوں کے اشارے پر ان کی سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے اس الزام میں حقیقت ہے یا نہیں،مگر اس سے پہلے ان سیاسی جماعتوں کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ کئی کئی برسوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کیا ان سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں نے ایسے اقدامات متعارف کروانے کے بارے میں سوچا جن سے ملک میں رجعت پسندی، ذات پات، برادری ازم اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹ دینے اور لینے پر قدغن لگے۔سیاست دراصل سماجی رویے کے ہی تابع ہوتی ہے۔

سماجی شعور نے سیاسی شعور کا تعین کرنا ہوتا ہے، نہ کہ سیاسی شعور نے سماجی شعور کا ۔سماجی شعور کو نظر انداز کرنے کے باعث سیاسی جماعتیں بھی عملیت پسندی کے نام پر ایسے ایسے سمجھوتے کر لیتی ہیں، جن کی وجہ سے ’’اسٹیٹس کو ‘‘ برقرار رہتا ہے۔ حالیہ عرصے میں کیا پاکستان میں کسی بڑی سیاسی جماعت نے سماجی شعور کی ترقی کے لئے عوام کی تربیت کرنے کا کوئی انتظام کیا؟ کیا کسی بڑی سیاسی جماعت نے عوام کو یہ با ور کروایا کہ تھانہ ،کچہری، نلکوں ، نالیوں کی تعمیر اور نوکریوں کی سیاست کا تعلق پارلیمانی نظام کے تحت منتخب ہونے والے نمائندوں سے ہوتا ہی نہیں،بلکہ ان مسائل کے حل کے لئے عوام کو اپنے آپ کو بلدیاتی سطح پر حقوق حاصل کرنا ہوتے ہیں؟کیا پاکستانی عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ جاگیرداری نظام، برادریوں کی سیاست، فرقہ پرستانہ سیاست، پیر پرستی اور انتہاؤں کو چھوتی ہوئی زر پرستی حقیقی جمہوریت کے لئے ایسے زہر ہیں، جو اسے کھوکھلا کر دیتے ہیں؟اگر سیاسی جماعتوں کا کوئی بھی طالب علم اس وقت پاکستان میں فعال تمام بڑی سیاسی جماعتوں پر تحقیق کرے، ان کے پروگرام ، منشور، پالیسیوں کو دیکھے تو اسے یہی رائے دینا پڑے گی کہ پاکستان میں کوئی بھی فعال اور بڑی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے، جس کے ہاں عوام کے سماجی شعور کو بلند کرنے کے لئے کسی بھی قسم کاپروگرام موجود ہو ۔

بدقسمتی سے اس وقت صرف سیاست دان ہی نہیں، بلکہ میڈیا، سول سوسائٹی اور دیگر فعال طبقات بھی سیاسیات کی اس اہم حقیقت کو سمجھنے کے لئے تیار نظر نہیں آتے کہ کسی معاشرے میں سیاسی تبدیلی سے پہلے سماجی شعور کی سطح بلند ہونا ضروری ہوتی ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...