کاہنہ، سودی کاروبار عروج پر،چنگل میں پھنسے کئی افراد جائیدادیں گنوا بیٹھے

کاہنہ، سودی کاروبار عروج پر،چنگل میں پھنسے کئی افراد جائیدادیں گنوا بیٹھے

کاہنہ ( نامہ نگار)سود خور بے بس اور مجبور لوگوں کو معمولی رقم دے کر ان کے گھر یا پلاٹ کابیع نامہ دھوکے سے تیار کر وا لیتے ہیں جو بعد میں سود در سود رقم بنا کر مقامی پولیس کی مدد سے ڈرا دھمکا کر یا عدالتوں سے ڈگریاں کروا لیتے ہیں ۔جن لوگوں کے پاس مکان یا جائیداد نہیں ہوتی انہیں معمولی رقم دے کر بھاری رقم کا چیک لکھوا لیتے ہیں ۔بہت زیادہ منافع بخش ہونے کی وجہ سے کاہنہ کے لوگوں میں اس کا روبار کا رجحان بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اس کاروبار کے لیے لوگوں نے باقاعدہ خواتین ایجنٹ بھرتی کر رکھی ہیں ۔ جو گھر گھر جا کر لوگوں کو ان سود خوروں سے قرض لینے کے دھندے میں پھنسانے کے لیے ورغلا تی ہیں ۔کاہنہ میں سود کا کاروبار 15%سے 20%ما ہانہ سود کی شرح سے ہو رہا ہے ۔سود خوروں کو مقامی سیا ستدانوں اور پولیس کے کچھ ملازمین کی سرپرستی حا صل ہے ۔سوا گجو متہ کی رہائشی بیوہ کشور بی بی نے بتایا کہ ان کے خاونداحمد حسن خاں نے اپنے بیٹے کو سعودی عرب بھیجوانے کے لیے گجومتہ کے ایک سود خور میاں بیوی سے مبلغ ایک لاکھ ستر ہزار روپے سود پر لیے جس کے لیے انہوں نے ان کے گھر کا باقاعدہ ایک گروی نامہ لکھوایا جو بعدازاں انہوں نے اشٹام فروش کی ملی بھگت سے میرے خاوند کا ایک جعلی بیع نامہ تیار کر لیا جس کے ذریعے اب وہ ہمارا مکان ہتھیانا چاہتے ہیں ۔جبکہ وہ تمام قرضہ سود سمیت ادا بھی کر چکے ہیں ۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یہ گروہ اس کہ علاوہ بھی بہت سے غریبوں کو سود کے چنگل میں پھنسا کر اُن کو انکی قیمتی جائیدادوں سے محروم کر چکا ہے۔علاقے کی فلاہی اور سماجی تنظیموں نے علاقے میں بڑھتے ہوئے سودی کاروبار اور بیاج خوروں کے مظالم پر سخت تشویس کا اظہار کیا اور اعلیٰ حکام سے اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1