سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی کوئی سقم نہیں ، معاملہ پارلیمنٹ بھیجتے تو بہتر تھا

سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی کوئی سقم نہیں ، معاملہ پارلیمنٹ بھیجتے تو بہتر ...

لاہور(نامہ نگار)سپریم کورٹ کی جانب سے 62(1)ایف کی تشریح کے تحت سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کوپارلیمانی سیاست سے تاحیات نا اہل کئے جانے پر آئینی و قانونی ماہرین نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجوہ نے نمائندہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ تاریخی فیصلہ ہے جو بہت پہلے آجانا چاہیے تھا، یہ فیصلہ ارکان پارلیمنٹ کے لئے بھی مشعل راہ ہوگا ،اب کوئی چور ،اچکا اور جھوٹا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکے گا جو کہ عوام کی جیت ہے ۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق کیا جس میں کوئی ابہام نہیں ،مسلم لیگ (ن) پہلے دن سے ہی عدلیہ پر تنقید کررہی ہے ،کیسے ممکن ہے کہ وہ اس فیصلے کو بھی تسلیم کرے گی؟ ممبر پنجاب بار کونسل فرہاد علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بالکل ٹھیک ہے ،آزاد عدلیہ کا جو خواب قوم نے دیکھا تھا آج شرمندہ تعبیر ہوگیا ،وکلائبرادری سپریم کورٹ کے ساتھ ہے ، سپریم کورٹ نے کسی کی خواہش یا پسند نہ پسند پر فیصلہ نہیں کرنا ہوتا، انہوں نے آئین اور قانون کی منشا کے مطابق فیصلے کرنا ہوتے ہیں اور یہ فیصلہ بھی آئین اور قانون کے عین مطابق کیا گیا ہے ، اب مسلم لیگ (ن) کے رہنمااسے سیاسی سٹنٹ کے طور پر استعمال کرے گے کیوں کہ وہ پہلے دن سے ہی عدلیہ اورججز کی توہین اوراس پر کیچٹر اچھالنے کے درپے ہیں۔لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر عرفان صادق تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے ، جب پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا تو اس وقت یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کو ٹھیک لگ رہا تھا ،اب جب ان کے خلاف فیصلہ آیا ہے تو انہیں غلط لگ رہاہے ، عدالتیں کسی کی پسند ناپسند اور ان کی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتیں ،وہ آئین اور قانون کے تحت فیصلے کرتی ہیں اور ان کے نزدیک اس فیصلے میں بھی سپریم کورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے س پر وکلاء سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔مجتبیٰ چودھری ،پاکستان بارکونسل کے سابق کوآرڈینیٹر مدثر چودھری اورمرزاحسیب اسامہ سمیت دیگر وکلاء کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے آئینی طور پر صحیح فیصلہ دیا تاہم ان کے نزدیک اگر 62(1)ایف کا معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوا دیا جاتا تو بہتر تھا ، آئینی اور قانونی طور پر اس فیصلے میں کوئی سقم نہیں ہے لیکن سیاسی جماعتوں کے رہنما اس معاملہ پر کوئی قانون سازی کرلیتے تو یہ بہتر تھا۔

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...