پاک ترک تعلقات سے پیچیدہ مسائل اور خون ریزی پر قابو پانے میں مدد ملے گی ، مملکت صدر

پاک ترک تعلقات سے پیچیدہ مسائل اور خون ریزی پر قابو پانے میں مدد ملے گی ، ...

اسلام آباد(این این آئی، یو پی آئی)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے دانشوروں کے میل جول سے وسط ایشیا اورر ای سی او ممالک کے درمیان ایک نیا لسانی میل بننے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جس کی مدد سے جدید شاہراہ ریشم سے زیادہ سے زیادہ فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے اور خطے میں امن و استحکام قائم کرنے میں مدد ملے گی،پاکستان اور ترکی دونوں ملکوں کے دانشوروں کے باہم رابطوں سے ایک ایسی بنیاد قائم ہو گی جو خطے کو سیاسی اور تہذیبی ہی نہیں بلکہ اقتصادی اعتبار سے بھی قوت فراہم کرے گاجس سے اس علاقے کے مختلف پیچیدہ مسائل اور خون ریزی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار یونس ایمرے ا نسٹیٹیوٹ(ترک مرکز ثقافت)کے زیرِ اہتمام منعقدہ تصویری نمائش کے افتتاح پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ترکی کے سفیر احسان مصطفی یْوردہ کول ، ڈاکٹر خلیل طوقار اور فاروق عادل نے بھی خطا ب کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیاں باہمی تعلق کی گہرائی اور گرم جوشی کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ مشترکہ تاریخ کی وجہ سے دونوں ملکوں اور ان کے عوام کو اخلاص ومحبت کے لازوال رشتے سے منسلک کر رکھا ہے۔ خلافت عثمانیہ کی بقا کے لیے مسلمانوں نے مشکل وقت میں ترکوں کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا،یہاں تک کہ خواتین نے اپنے قیمتی زیورات بھی چندے میں دے دیے۔ ترک بھائی مشترکہ تاریخ سے بخوبی آگاہ ہیں اور نئی نسل تک منتقلی نے سنھیں بے حد متاثر کیا۔ ترک بچوں کی طرح پاکستانی بچے بھی تاریخ کے مختلف مراحل، خاص طور پر برصغیر کو غیر ملکی تسلط سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں ٹیپوسلطان شہید سمیت دیگر حریت پسندوں کے ساتھ خلافتِ اسلامیہ کے فراخ دلانہ اور جرات مندانہ تعاون سے آگاہ ہی نہیں بلکہ ان کے شکر گزار بھی ہیں۔ دو طرفہ محبت کے ایسے ہی مظاہرے پاکستان اور ترکی کے پْر خلوص تعلق کو نمایاں حیثیت عطا کرتے ہیں کیونکہ اس تعلق کی بنیاد مفادا ت کے بجائے ایک جیسے خیالات، جذبات اور اندازِ فکر پر رکھی گئی ہے۔ یہ دوطرفہ تعلقات تاریخ کی ہر مشکل گھڑی میں مضبوط رہے۔ قدیم شاعر اور صوفی یونس ایمرے سے منسوب ثقافتی ادارے اور انسٹیٹیوٹ کے پاکستان میں قیام سے پاک ترک علمی، ادبی اور ثقافتی رشتوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ ترک شاعر، ادیب اور دانشور مسلسل پاکستان کے دورے کر رہے ہیں جس کے مفید نتائج برآمد ہوں گے۔ جدید شاہراہِ ریشم یعنی ایک خطہ ایک روڑ اس پیش رفت کی بے تابی سے منتظر ہے تاکہ خطے کے درمیان مسافتوں کو کم کیا جا سکے۔ اس لیے پاکستان اور ترکی کو جڑواں بھائی کہہ دینے سے بھی میں احسان مصطفی یْوردہ ،پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقارکو دل کی گہرائی سے مبارک باد دیتا ہوں جنھوں نے اس نمائش کا اہتمام کر کے نئی نسل کو اپنے بزرگوں کے ورثے اوراِن کے درمیان تعلقِ خاطر کو اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی۔قبل ازیں فاروق عادل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ترکی دیرینہ تعلقات کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جس کے تانے بانے جلا ل الدین رومی ، ٹیپو سلطان ، مغلیہ سلطنت اورتحریک خلافت سے ملتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے دل ملت اسلامیہ کے مرکز و محور سلطنت عثمانیہ کے ساتھ دھڑکتے تھے۔ ترکی سے دلی تعلق کے رشتوں میں پاکستانی اور بھی بہت سی جہتوں سے جڑے ہوئے ہیں، ڈاکٹر علامہ اقبال اور جلال الدین رومی کا بھی ایک قلبی ا ور روحانی تعلق اور رشتہ تھا جو ان کی شاعری میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔

مزید : علاقائی