’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘محکمہ لٹریسی کا ڈائریکٹوریٹ آج تک نہ بن سکا

’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘محکمہ لٹریسی کا ڈائریکٹوریٹ آج تک نہ بن سکا

ملتان(جنرل رپورٹر)صوبہ پنجاب میں محکمہ لٹریسی کے قیام کے بعد سے آج تک اس محکمہ کا نہ ڈائریکٹوریٹ بن سکا نہ ہی کوئی اتھارٹی بنائی جا سکی جس کی وجہ سے نہ کبھی تعلیم بالغاں کا کوئی پروگرام کامیاب ہو سکا ہے نہ ہی پڑھا لکھا پنجاب کا نعرہ سچ ثابت ہو سکا ہے۔تفصیل کے مطابق ملک میں شرح خواندگی میں اضافے اور تعلیم بالغاں کے لئے صوبائی سطح پر محکمہ لٹریسی قائم ہوا ۔مختلف ادوار میں(بقیہ نمبر24صفحہ12پر )

متعدد پراجیکٹ اورمنصوبے بنائے گئے جن میں لٹریسی سنٹرز،پنجاب لٹریٹ پروگرام،لٹریسی تھرو این جی اوز،پڑھا لکھا پنجاب ،آؤ پڑھیں وغیرہ شامل ہیں مگر کوئی منصوبہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ آفیسرز لٹریسی تعینات کئے گئے اور ضلعی دفاتر بنائے گئے افسران کو ہر ضلع میں گاڑیاں بھی دی گئیں مگر کچھ عرصہ بعد ہی ڈسٹرکٹ آفیسرز کی پوسٹیں ختم کر دی گئیں اور دفاتر بھی ختم کر دئے گئے کیونکہ یہ سب اخراجات ورلڈ بنک سے کرائے گئے تھے اور حکومت نے تمام فنڈز ہڑپ کر لئے تھے ۔ اب یہ محکمہ آخری سانسیں لے کر دم توڑ چکا ہے اس لئے اس محکمہ کا انتظام و انصرام اب محکمہ تعلیم سکولز کو دے دیا گیا ہے اور محکمہ تعلیم سکولز نے اس کو جزوی طور پرچلانے کے لئے اس کے معاملات کسی نہ کسی ہیڈماسٹر کو سونپے ہوئے ہیں جو کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔حکومت کی شرح خواندگی میں اضافے کے لئے یہ دلچسپی ہے کہ اس وقت شرح خواندگی ملک میں 54فی صد تک ہی ہے اور اس میں خواتین میں شرح خواندگی صرف 26فی صد ہے۔صوبہ کے محکمہ لٹریسی کے 16ہزار ملازمین ابھی تک کنٹریکٹ پر ہیں اور ان پر ملازمت چھن جانے جانے کی تلوار بھی لٹک رہی ہے ۔حکومت نے رہی سہی کسر این جی اوز کے ذریعے پوری کر دی جس میں این جی اوز کو رقم دی جاتی رہی کہ وہ گھروں میں قائم لٹریسی سکولوں کی نگرانی کریں مگر یہ این جی اوز اپنی جیبیں بھرتے رہے ۔پنجاب ٹیچرز یونین ملتان کے صدر طاہر وڑائچ نے کہا کہ لٹریسی محکمہ کو بے اثر کر دیا گیا ہے جبکہ سکولوں کے پڑھانے والے اساتذہ کو انرولمنٹ پر لگا دیا گیا ہے جبکہ یہ کام لٹریسی کا ہے اس لئے محکمہ لٹریسی کو فعال کیا جائے ۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری ملتان ریاض خان نے کہا کہ اگر شرح خواندگی میں اضافے کو سنجیدہ لیا جائے تو کامیابی حاصل ہوگی اس کے لئے پلاننگ کی جائے ۔جہاں سرکاری سکول نہیں ہیں وہاں لٹریسی سکول کھولے جائیں تو وہاں تعلیم پینچ سکتی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...