کشمیری کمسن آصفہ بانو سے بداخلاقی اور قتل پر بھارتی سپریم کورٹ کا نوٹس

کشمیری کمسن آصفہ بانو سے بداخلاقی اور قتل پر بھارتی سپریم کورٹ کا نوٹس

نئی دہلی (صباح نیوز)بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کے بعض وکلا کی طرف سے پولیس کوایک کم سن لڑکی کی آبرو ریزی اور قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف پولیس کو ایک مقامی عدالت میں فرد جرم دائر کرنے سے روکنے کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا ہے اور از خود کیس کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے ایک گاوں رسانہ کی آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو اس سال 17جنوری کو اچانک لاپتا ہوگئی تھی۔ ایک ہفتے کے بعد اس کی لاش گاوں کے مضافات میں جھاڑیوں میں ملی تھی ،پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس کی تحقیقات کے مطابق آصفہ کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔کم سن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے اس واقعے کو اگرچہ تین ماہ ہو رہے گزشتہ دو دن سے اس کے خلاف بھارت کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں اور بالی وڈ کی کئی اہم شخصیات کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا رہا ہے جبکہ نئی دہِلی میں نریندر مودی کی حکومت میں شامل چند اہم وزرا نے اس واقعہ کو نا قابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا یقین دلایا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے جس میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم خان ولکر ار جسٹس ڈی وائی چندراچد شامل تھے جمعہ کوجموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کٹھوعہ بار ایسو سی ایشن کے نام اس معاملے پر ہڑتال پر جانے، آصفہ کے والدین کی طرف سے مقرر کردہ وکیل کو عدالت میں ان کی نمائندگی کرنے سے روکنے اور کٹھوعہ کی عدالت میں فردِ جرم دائر کرنے کے عمل میں رخنہ ڈالنے پر نوٹس جاری کردیا۔ عدالتِ عظمی نے 19 اپریل تک جواب طلب کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول