سندھ ااسمبلی : گورنر کے اعتراض کے بعد جامعات بل ایک مرتبہ پھر منظور

سندھ ااسمبلی : گورنر کے اعتراض کے بعد جامعات بل ایک مرتبہ پھر منظور

کراچی (اسٹاف رپورٹر )سندھ اسمبلی نے گونر سندھ کی جانب سے اعتراضات لگا کر بھیجے جانے والے جامعات کے بل کو ایک مرتبہ پھر متفقہ طور پر منظور کر لیا جبکہ اپوزیشن نے بل کی منظوری کے دوران شدید احتجاج کیا اور ایوان میں ظالموں جواب دو، سندھ کو انصاف دو، نا منظور ،نامنظور ظالمانہ بل نا منظور کے نعروں کے ساتھ اجلاس کا بائیکاٹ کیا، دیگر دو بل بھی منظور کرلئے گئے۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعہ کو 3 بل منظور کئے گئے جن میں سے ایک بل سندھ کی جامعات کے اختیارات گورنر سے وزیر اعلیٰ سندھ کو منتقل کرنے سے متعلق تھا۔جس میں داخلہ پالیسی ،انتظامیہ معاملات میں بھی وزیر اعلیٰ کو بااختیار بنایا گیا ہے یہ بل پہلے منظور ہو چکا تھا تاہم گورنر سندھ نے اس پر دستخظ کرنے بجائے پیغام کے ساتھ واپس اسمبلی کو بھیج دیا۔ سر کاری بل نمبر 9 سندھ جامعات و ادارے ،قوانین( ترمیم) بل 2018 سینئر صوبائی وزیراور پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے پیش کیا تو اپوزیشن نے اس پر اعتراض کیا۔ نثار کھوڑو نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تمام متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا ہے اور گزشتہ روز جامعات کے وائس چانسلرز بھی گیلری میں موجود تھے۔ہم نے مشاورت سے کچھ ترامیم کی ہیں اور آج ہم یہ بل پیش کر رہے ہیں۔نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ ہم نے ترامیم کے ذریعے وزیر اعلیٰ سندھ کو اسمبلی میں جواب دے بنانا چاہتے ہیں اور بیوروکریسی کا عمل دخل ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یونیورسٹیاں ہماری ہیں ان میں خرابیاں ہوں گی تو ہماری بدنامی ہوگی۔جس پر قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ سندھ ہمارا بھی ہوتا تو میرٹ کی بنیاد پر ہم اس کی مخالفت کرتے کیونکہ اس ترامیم کی وجہ سے عملاََ یونیورسٹیز تباہ ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی یونیوسٹی میں سب کو میڑت پر داخلے ملتے ہیں۔ناصرف سندھ بلکہ ملک کے دیگر حصوں سے لوگ یہاں آکر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر حکومت نے اپوزیشن کی سفارشات کو نظر انداز کرکے بل پیش کرنے کی کوشش کی تو وہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔جس پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جب یونیورسٹیاں یرغمال بنی ہوئی تھیں تو اس وقت کسی نے کیوں نہیں بولا۔گورنر ہاو 191س سے یر غمال بنی ہوئی یونیورسٹیوں کو ہم نے نکالا ہے۔سید سر دار احمد نے کہا کہ جو اختیارات گورنر کے پاس ہیں وہ اختیارات وزیر اعلیٰ کو منتقل کئے جائیں تو مناسب ہے لیکن اور بہت ساری جو ترامیم کی گئی ہیں وہ مناسب نہیں۔ یونیورسٹیوں کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کیا گیا ہے۔موجودہ قوانین کے مطابق گورنر کے جو اختیارات ہیں وہی وزیر اعلیٰ کے سپرد کئے جائیں ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہ کریں۔فیصل سبزواری نے کہا کہ اکیڈمک پالیسز کو نا چھیڑیں اور متعلقہ اداروں کے ذمہ دران کو فیصلے کرنے دیں۔اسی دوران نثار کھوڑو نے شق وار بل ایوان میں پیش کرنا شروع کیا جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا بل کی کاپیاں پھاڑیں ،ظالموں جواب دو، سندھ کو انصاف دو، ظالمانہ بل نا منظور، زبردستی نہیں چلے گی سمیت دیگر نعروں کے ساتھ اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ایوان میں شق وار بل کی منظوری دی گئی بل کے مطابق اب یونیورسٹیوں کے تمام اختیارات وزیر اعلیٰ کے پاس ہونگے جو پہلے گورنر کے پاس تھے۔بعدازاں ایوان میں ویٹرنیری ڈاکٹرز کے متعلق بل پیش کیا گیا۔ بل پیش کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ دنیا میں ان کی بہت زیادہ اہمیت ہے ہمارے ہاں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی ہے مویشی ہماری معیشت کا اہم شعبہ ہیں لحاظ ہم عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا بل منظور کر رہے ہیں اور انہوں نے ایوان میں بل پیش کیا جس کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں مغربی پاکستان شاہراہیں ( سندھ ترمیم ) بل 2018 بھی منظور کیا گیا۔ بل کا مقصد بیان کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ ہم ہائی ویز کے حوالے سے ایک منصفانہ قانون بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ہماری ہاویز سڑکوں کے دائیں اور بائیں فاصلے کے حوالے سے مختلف پیمانے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سپر ہائی وے میں ایک طرف 120 فٹ کا فاصلہ رکھا گیا ہے اور دوسری جانب 440 فٹ کے فاصلے تک ا?بادی نہیں ہوسکتی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں جہاں جہاں موٹر ویز بنے ہیں وہاں پر 220 فٹ کا فاصلہ مقرر کیا گیا ہے۔ہم نے بھی اسی پیمانے کو مد نظر رکھا ہے اور ایوان نے اس بل کو بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ بعدازاں اجلاس 2 بجکر 10 پرپیر کی سہہ پہر 3 بجے ملتوی کر دیا گیا اور ایجنڈے میں شامل 3 بلوں کو بھی پیر تک موخر کر دیا گیا

مزید : کراچی صفحہ اول