سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں،سعید غنی

سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں،سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اور صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے عدالتوں میں نہیں جانا چاہیے موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ کو عزت نہیں دی اور آج ان کو پارلیمنٹ کے وقار کا اندازہ ہوگیا ۔ کراچی میں کے الیکٹرک اور سوئی سدرن سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت کام کررہی ہے ۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو پی پی پی میڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پران کے ہمراہ پی پی پی سندھ کے نائب صدر راشد حسین ربانی، ایم پی اے جاوید ناگوری، خلیل ہوت، کرم اللہ وقاصی اور نجمی عالم بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ اور پی ایس پی کے این اے 250کے ذمہ داروں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ شمولیت کرنے والوں میں عمیر اقبال، زبیر میمن، اسماعیل ، فیضان، شکیل ، نثار، فرحان،شاہد شاہ ودیگر ہیں۔ اس موقع پر پی پی سندھ کے نائب صدر راشد حسین ربانی نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو خوش آمدید کیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ کراچی اور کراچی کے عوام کو اون کیا ہے اور آنے والے الیکشن میں پی پی پی واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرے چاروں صوبوں میں حکومت بنائے گی۔ میڈیا کے سوالوں کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر قیادت کراچی پر خاصی توجہ دیئے ہوئے ہیں اور ہم اس سے زیادہ کراچی کی عوام کیلئے کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے کراچی کی عوام کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی عوام نے ایم کیو ایم پر بہت اعتماد کیا اور ان کو 3دہائیوں سے حکومت کا حصہ بناتے رہے مگر کراچی کو ترقی یافتہ شہر نہ بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے طرز سیاست کے باعث کراچی ملک بھر میں دہشت گردوں کا شہر اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا رہا لیکن اب اس شہر سے خوف کے بادل جھڑ چکے ہیں اور یہاں کے لوگ آزادانہ فیصلہ کرسکتے ہیں ، کراچی کے عوام کی سوچ اور مزاج بدل چکا ہے ۔ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندوں نے اپنا حق ادا نہیں کیا اور دوریاں پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جیسے پیپلز پارٹی ختم کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے بڑے بڑے لوگ پارٹی میں شمولیت کرنا چاہتے ہیں مگر ہماری ترجیح گرانڈ لیول پر ہیں کیونکہ زمین پر کام کرنے والے کی بدولت ممبر قومی اسمبلی اور ممبر صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتی جاسکتی ہے اور گرانڈ پر کام کرنے والا ورکر ہی اصل طاقت رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کا فیصلہ ہے جیسے قبول کرنا ہی پڑے گا۔ مگر سیاست کو عدالتوں میں نہیں پارلیمنٹ میں رکھنا ہی بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام جمہوری حکومت کو کرنا چاہئے تھا وہ کام عدالتیں کررہی ہے اورعمران خان اور نواز شریف کی بدولت آج یہ دن قوم دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عمران خان کے موقف کی باری ہے کہ وہ ایک تاحیات ہونے والے نااہل شخص کے ساتھ کیا کرتے ہیں اور اپنے دعوں اور باتوں کی کتنی لاج رکھتے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر