شہر میں درآمدی کوئلے کے غیر قانونی یارڈ بند کئے جائیں، ثاقب اعجاز

شہر میں درآمدی کوئلے کے غیر قانونی یارڈ بند کئے جائیں، ثاقب اعجاز

کراچی(پ ر) کے پی ٹی کے کوئلہ یارڈ کی موجودگی اور کوئلے کی منتقلی کے باعث کلفٹن اور متعلقہ علاقوں میں لوگوں کیلئے سنگین ماحولیاتی خطرات موجود ہیں جن کے باعث وہاں کے رہائشیوں میں کئی خطرناک بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین ماحولیات نے نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے تحت منعقد فضائی آلودگی پر قانونی درخواست پر میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔ ماہرین نے کہا کہ لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کیلئے فوری طور پر اس کوئلے کے یارڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا جائے اور حکومت فوری طور پر اس پر عملدرآمد کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کوئلے کی دوسرے شہروں میں منتقلی کو اجازت دینا اداروں کی طرف سے ایک مجرمانہ عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں ایک ماحول دوست پالیسی تیار کرے تاکہ انسانی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور جب تک اس طرح کے اقدامات نہیں کیا جائے اس کو فوری طور پر بند کر دینا چاہئے۔ بریفنگ سے خطاب کے دوران ماہر ماحولیات ثاقب اعجاز حسین نے کہا کہ کلفٹن کے علاقے میں کوئلے کو اسٹاک کرنے اور علاقے سے منتقلی کے اس عمل کو فوری طور پرروکا جائے کیونکہ اس کے علاوہ اس کا کوئی اور حل موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی کے حکام کوئلے کو منتقلی کے دوران سنگین ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد ہونے تک کوئلے کو اسٹاک کرنے اور نقل و حمل پر پابندی لگائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کلفٹن کے رہائشیوں کی صحت بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے اگر اسے نہ روکا گیا تو کئی قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے کو تلف کرنے سے وہاں موجودآبی حیات کو بھی شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق کے مطابق کلفٹن اور اطراف کے علاقوں میں ہوا کے معیار میں کافی خرابی آچکی ہے اور یہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار سے کافی نیچے ہے جس سے اس کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کوئلے کی درآمد کے بارے میں کوئی سسٹم موجود نہیں ہے کس معیار کا کوئلہ یہاں لایا جا رہا ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر درخواست گزار وینو ایڈوانی نے بھی گفتگو کی اور کہا کہ انہیں اس بات پر تعجب ہے کہ کوئلے کے اتنے نقصان ہونے کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار کیلئے کوئلے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان ، چائنا کی ٹیکنالوجی کے ذریعے کوئلے سے بھی بجلی بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ چائنا خود اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی کی پیداوار بند کر چکا ہے۔ انہوں نے مطالبلہ کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس صورتحال میں کوئی مضبوط پالیسی تیار کرے اور ماحولیاتی آلودگی کو بڑھنے سے روکے۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ قاضی علی اظہر نے کہا کہ ملک میں کوئلے کے ذریعے چلنے والے بجلی منصوبوں کو فوری بند کردینا چاہئے تا کہ ملک میں ماحولیاتی آلودگی بڑھنے سے بچائی جا سکے۔

Back

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...