او پیک کےقیام سے او پی ایف کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے: بیرسٹر امجد ملک

او پیک کےقیام سے او پی ایف کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے: بیرسٹر امجد ملک
او پیک کےقیام سے او پی ایف کی کارکردگی بہتر ہورہی ہے: بیرسٹر امجد ملک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی (طاہر منیر طاہر) اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشنOPF کے بورڈ آف گورنر ز کے چیئر مین بیرسٹر امجد ملک گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے دورہ پر تھے اس موقع پر انہوں نے امارات میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں اوورسیز پاکستانیز ایڈ وائزری کونسل OPAC کے ممبران اور قونصلیٹ آف پاکستان دوبئی کے قونصل جنرل ریٹائرڈ بریگیڈیر سید جاویدحسن،ویلیفئر قونصلر اور دیگر سٹاف سے اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل کیلئے بات چیت کی۔

اوور سیز پاکستانیز ایڈوائزری کونسل OPAC کے ممبران اور دیگر پاکستانی کمیونٹی کے ارکان سے ان کی ایک میٹنگ دوبئی کے ایک پوش ہوٹل میں ہوئی جس کا اہتمام پی ایم ایل این شارجہ کے صدر چوہدری نورالحسن تنویر،سابقہ ممبرمیاں منیر ہانس،پریس قونصلر عاشق حسین شیخ،ویلیفئر قو نصلر مسز صولت ثاقب اور مسز عاصمہ علی اعوان نے بھی شرکت کی۔جبکہ دیگر لوگوں میں تابش زیدی،شوکت رئیس قریشی،پی ایم ایک این متحدہ عرب امارات کے صدر چوہدری محمد الطاف،ملک رحمن بنگش،عبداللہ خان،غلام مصطفی مغل،شیریں درانی،فرزانہ کوثر،فرزانہ چغتائی ،خلیل بونیری،امجد اقبال امجد،مظہر چوہدری،ذمردبونیری،محمد یونس پراچہ،رانا ارشد،طاہر بھنڈر،جواجہ عبدالوحید پال،مظفر باجوہ اور شہزاد بٹ کے علاوہ متعدد لوگوں نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران متذکرہ شرکاء میں کچھ لوگوں نے سٹیج پر آکر اظہار خیال کیا اور کہا کہ 1978 ء میں قائم ہونے والا ادارہ OPF تاحال اپنی افادیت ثابت نہیں کر سکا۔اوور سیز پاکستانیوں کو فائدہ نہیں پہنچاسکا۔اس کا سینکڑوں افراد پر مشتمل سٹاف اپنے ہی مسائل حل کرنے میں لگا ہو اہے۔جسے ایک عام اوورسیز پاکستانی کا خیال ہی نہیں ہے۔ماضی میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ OPF کے افسران اپنے دفاتر سے باہر نکل کر مسائل زدہ اوورسیز پاکستانیوں تک خود پہنچے ہوں اور ان کے مسائل معلوم کئے ہوں۔

پوری دنیا میں80 یا90 لاکھ سے بھی زائد پاکستانی بسلسلہ روزگار موجود ہیں اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ابھی تک تمام اوورسیز پاکستانیوں کو OPF اس افادیت اور خدمات کا پتہ ہی نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ OPF تمام اوورسیز پاکستانیوں تک اپنی آواز پہنچانے میں ناکام رہاہے۔جبکہ بہت سے اوورسیز پاکستانیز ایسے بھی ہیں جو او پ ی ایف سے استفادہ میں ناکام رہے ہیں۔ افسران نے ان کی آواز نہیں سنی یا ان کی درخواستیں او پی ایف کی فائلوں میں دب گئیں۔ اگر او پی ایف میں ایک شکایات سیل بھی بنادیا جائے اور میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر بھی کی جائے تو واضح نظر آئے گا کہ کس قدر پاکستانی او پی ایف سے شکایات رکھتے ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہیں لگے گی کہ کتنے فیصد پاکستانی او پی ایف کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ او پی ایف کے اوپیک ممبران کے ساتھ حالیہ اجلاس میں شرکاء نے مزید کہا کہ او پی ایف کے افسران کی کارکردگی کو بھی جانچا جائے کیونکہ بہت سے افسران محض تنخواہیں لے کر محکمہ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں جن سے چھٹکارا لازم ہے۔

او پی ایف بورڈ آف گورنر کے ممبر چودھری نور الحسن تنویر نے کہا کہ آج کے اہم اجلاس میں قونصلیٹ جنرل آف پاکستان دبئی کے قونصل جنرل کو خود موجود ہونا چاہیے تھا تاکہ ان کی موجودگی میں اوورسیز پاکستانیز کے مسائل پر بحث ہوتی اور وہ ان مسائل کا از خود نوٹس بھی لیتے لیکن وعدہ کے باوجود وہ اجلاس ہذا میں نہیں آئے جبکہ میڈیا کی کم حاضری پر چودھری نور الحسن تنویر نے پریس قونصلر کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ الفجیرہ کے پاکستانی سکول کے بارے ذکر کرتے ہوئے چودھری نور الحسن تنویر نے کہا کہ الفجیرہ کے پاکستانی سکول کا حال بہت برا ہے عین ممکن ہے کہ پاکستان کے غریب اور متوسط درجہ کے بچوں کا یہ سکول بند ہی ہوجائے۔ اس سکول کی حالت زار کو بہتر کرنے کے لئے ہم نے او پی ایف سے تین ملین درہم دینے کی التماس کی تھی۔ اگر او پی ایف سے تین ملین مل جاتے تو اتنی ہی رقم ہم یو اے ای میں مقیم صاحب ثروت پاکستانیوں سے اکٹھے کرکے قونصلیٹ کے تعاون سے سکول کی بلڈنگ مکمل کرلیتے۔ سکول ہذا میں 500 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ 100 بچے داخلہ کے منتظر ہیں لیکن الفجیرہ کی وزارت تعلیم نے کہا ہے کہ اگر سکول کی حالت درست نہ ہوئی تو 31 مارچ 2018ء کو سکول بند کردیا جائے گا۔

چودھری نورالحسن تنویر نے کہا کہ 600 سے زائد بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگاہو اہے لیکن او پی ایف جس کے پاس ہمارے اربوں روپے پڑے ہوئے ہیں اور او پی ایف ہماری مدد بھی نہیں کررہی۔ انہوں نے سکول کے بورڈ آف گورنرز کے رکن خلیل بونیری یکی سکول کے بارے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خلیل بونیری کی ذاتی کوشش سے یہ سکول چل رہا ہے اگر سرکاری امداد نہ آئی تو پاکستانی بچوں کا یہ سکول بند ہوجائے گا اور ان کا تعلیمی مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ انہوں نے حکومت پاکستان صوصاً او پی ایف قونصلیٹ جنرل آف پاکستان دبئی اور سفارتخانہ پاکستان ابوظہبی سے مطالبہ کیا ہے کہ خدا کے لئے اپنے اپنے حصہ کا فرض ادا کریں اور سکول کو بند ہون ے سے بچائیں۔

ایک اور پاکستانی سکول جو دبئی میں واقع ہے اس کے حالات بھی دگرگوں ہیں۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم پاکستانی سکول جو کچھ عرصہ قبل چند مفاد پرست عناصر کے قبضہ میں تھا اسے بڑی کوشش کے بعد قبضہ سے چھڑایا گیا۔ اس سلسلہ میں پاکستانی قونصلیٹ دبئی کا بھرپور ساتھ دیا گیا اور سکول کو ناجائز قبضہ سے چھڑایا گیا۔ جب تک سکول کو مسئلہ درپیش تھا قونصلیٹ نے ہمیں اور کمیونٹی کو ساتھ رکھا لیکن جیسے ہی مسئلہ حل ہوا قونصلیٹ نے ساتھ دینے والوں کو پوچھا ہی نہیں۔ خود ہی اپنی مرضی سے سکول کے بورڈ آف گورنرز کا چناؤ کرلیا گیا اور پاکستانی کمیونٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ سکول بورڈ آف گورنر چلائے جبکہ قونصلیٹ صرف معاملات پر نظر رکھے۔ علاوہ ازیں موجودہ بورڈ آف گورنرز میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے کمیونٹی کے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے جبکہ سکول میں ہونے والی سابقہ بدعنوانیوں کا حساب لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کاررواء ی کی جائے کیونکہ سابقہ دور میں سکول ہذا کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ہے۔ چودھری نور الحسن تنویر نے اس سلسلے میں مزید کہا کہ سکول کے بورڈ آف گورنرز میں بچوں کے والدین کو بھی شامل کیا جائے۔

او پی ایف بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل بہت زیادہ اور گھمبیر ہیں۔ مسائل کو جاننے اور ان کے حل کے لئے ہی او پیک اوورسیز پاکستانیز ایڈوائزری کونسل کا قیام عمل میں لا گیا تھاتاکہ اوپیک کے ممبران مسائل کی نشاندہی کریں اور مسئلے کا حل بھی بتائیں۔

اس طرح اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔ بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ او پی ایف نے اوورسیز پاکستانیز کی فلاح و بہبود کے لئے ایک ارب روپے کی رقم مختس کی ہے، اس سے بذریعہ بے نظیر انکم سپورٹ سکیم اور بیت المال کے ذریعے اوورسیز پاکستانیز کو امداد دلوارہے ہیں جبکہ تارکین وطن کو پانچ پانچ مرلے کے گھر بھی دلوائے جارہے ہیں۔ بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ او پی ایف تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔

اس موقع پر او پی سی اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب اور او پی ایف اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اسلام آباد کا تقابلی جائزہ بھی لیا گیا اور کہا گیا کہ او پی چی نے بہت کم عرصہ میں جس طرح کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کئے ہیں وہ قابل مثال ہے جبکہ او پی ایف جیسے پرانے ادارے کی کارکردگی او پی سی کے مقابلہ میں بہتر نہیں ہے۔ اجلاس میں شریک لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ او پی ایف بھی او پی سی کی طرح لوگوں کے کام سرعت اور دلچسپی سے کرے تاکہ اس ادارہ کے قیام کے اصل مقاصد حاصل ہوسکیں۔ 

مزید : عرب دنیا