2 لڑکوں کی انٹرنیٹ پر نوجوان لڑکی سے بات چیت شروع ہوگئی، پھر ملاقات ہوئی تو اس کے جسم میں ایسی چیز ڈال دی کہ جان کر ہی انسان کی آنکھوں میں آنسو آجائے

2 لڑکوں کی انٹرنیٹ پر نوجوان لڑکی سے بات چیت شروع ہوگئی، پھر ملاقات ہوئی تو اس ...
2 لڑکوں کی انٹرنیٹ پر نوجوان لڑکی سے بات چیت شروع ہوگئی، پھر ملاقات ہوئی تو اس کے جسم میں ایسی چیز ڈال دی کہ جان کر ہی انسان کی آنکھوں میں آنسو آجائے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)جرائم پیشہ ذہنیت کے لوگ اپنے ملک میں رہیں تو شہریوں کا جینا حرام کرتے ہیں اور بیرون ملک جا کر اپنے وطن کے نام ہی بٹہ لگا ڈالتے ہیں۔ ایسے ہی دو پاکستانیوں نے برطانیہ میں ایک لڑکی کو اغواءکرکے ایسے کام پر لگا دیا کہ سن کر ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک جائے گا۔ میل آن لائن کے مطابق 20سالہ فیصل محمود اور 21سالہ محد یوسف نامی ملزمان نے انٹرنیٹ پر لندن کی19سالہ لڑکی کو اپنے جال میں پھنسایا۔ انہوں نے لڑکی کو اچھی ملازمت کا جھانسہ دے کر اپنے پاس بلایا اور اغواءکرکے لندن سے 200میل دور واقع شہر سوانسی میں لے گئے اور وہاں منشیات فروشی کے دھندے پر لگا دیا۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان نے لڑکی کو منشیات فروشی سے انکار کرنے اور فرار ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دے رکھی تھی۔وہ اسے دن بھر منشیات کی سمگلنگ میں استعمال کرتے اور رات کو ایک گھر میں قید کر دیتے۔ لڑکی کی خوش قسمتی کہ ان کے چنگل میں پھنسنے کے پانچ دن بعد ہی پولیس نے اس گھر پر چھاپہ مارکر اسے بازیاب کرا لیا۔ پولیس نے اس چھاپے کے دوران دونوں ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا اور انہیں سوانسی کراﺅن کورٹ میں پیش کر دیا جہاں سے اب انہیں مجموعی طور پر 19سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ عدالت میں پراسیکیوٹر کیرولین ریس نے بتایا کہ ”ابتدائی طور پر لڑکی خود ان ملزمان کے ساتھ سفر کرنے پر رضامند ہوئی کیونکہ انہوں نے اسے اچھی خاصی رقم کمانے کا لالچ دیا تھا۔تاہم لڑکی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور اس سے وہاں کیا کام لیا جائے گا۔اسے سوانسی پہنچ کر معلوم ہوا کہ اسے ملزمان سوانسی کے مختلف پوائنٹس پر منشیات فروخت کرنے کے لیے لائے تھے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ