’’علم و عمل کا سورج غروب ہو گیا ‘‘عالم اسلام کے جید عالم دین اور دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مہتمم مولانا محمد سالم قاسمی 92سال کی عمر میں انتقال کر گئے 

’’علم و عمل کا سورج غروب ہو گیا ‘‘عالم اسلام کے جید عالم دین اور دارالعلوم ...
’’علم و عمل کا سورج غروب ہو گیا ‘‘عالم اسلام کے جید عالم دین اور دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مہتمم مولانا محمد سالم قاسمی 92سال کی عمر میں انتقال کر گئے 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دیوبند(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستان میں علمائے دیوبند کے سرخیل، خانوادہ قاسمیہ کے عظیم چشم وچراغ، خطیب اسلام اور دار العلوم دیو بند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی آج بھارت میں انتقال کرگئے، انکی عمر 92سال تھی، مولانا سالم قاسمی کے انتقال سے  پاکستان اور بھارت سمیت پوری علمی دنیا سوگوار ہوگئی ہے،مولانا سالم قاسمی کی نماز جنازہ آج شب 10بجے ادا کی جائے گی اور مزار قاسمی میں تدفین عمل میں آئے گی ،دوسری طرف پاکستان علما کونسل کے سربراہ علامہ حافظ  طاہر محمود اشرفی،مولانا فضل الرحمن ،مولانا سمیع الحق ،مفتی تقی عثمانی ،مفتی رفیع عثمانی،مولانا احمد لدھیانوی ،مولانا فضل الرحمن خلیل سمیت دیگر نے مولانا محمد سالم قاسمی کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہندوستان میں واقع عالم اسلام کے عظیم دینی ادارے’’ دار العلوم دیو بند ‘‘ مہتم اور حکیم اسلام مولانا محمد طیب قاسمی کے صاحبزادے مولانا محمد سالم قاسمی 92سال کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے ہیں ،ان کا شمار عالم اسلام کے جید ترین علما میں ہوتا تھا ،انہوں نے کئی بار پاکستان کا بھی دورہ کیا ۔مولانا محمد سالم قاسمی 8جنوری1926کو بھارتی شہر دیو بند میں پیدا ہوئے ،انہوں نے ابتدائی تعلیم دارالعلوم دیوبند میں ہی حاصل کی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہیں تدریس سے وابستہ ہوگئے تھے۔ 1987میں تقسیم کے بعد دارالعلوم وقف دیو بند میں چلے گئے تھے اور اپنے والد مولانا قاری محمدطیب قاسمیؒ کے انتقال کے بعد دارالعلوم دیوبند میں بطور مہتمم تمام ذمہ داریاں سرانجام دینے لگے۔تین روز قبل مولانا سالم قاسمی کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی جس کے بعد دیوبند میں ہی علاج کرایا گیا، لیکن طبیعت میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی جس کے بعد مولانا سالم قاسمی جسمانی اعضا نے بھی کام کرنا بند کردیا تھا، تاہم آج تقریباً 3بجے مولانا محمد سالم قاسمی نے آخری سانس لی اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔واضح رہے کہ مولانا محمد سالم قاسمی دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم ناناتویؒ کے پڑپوتے اور سابق مہتم حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمی کے بیٹے تھے۔ وہ ماضی میں مسلم پرسنل لا بورڈ ہندوستان کے رکن مجلس عاملہ اور اب نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے، اس کے علاوہ مجلس مشاورت، رکن مجلس انتظامیہ وشوریٰ ندو العلما، رکن مجلس شوریٰ مظاہرالعلوم وقف، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے رکن، سرپرست کلد ہند رابطہ مساجد، سرپرست اسلامک فقہ اکیڈمی جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔مولانا محمد سالم قاسمی کو مصری حکومت کی طرف سے برصغیر کے ممتا زعالم دین کے نشان امتیاز سے سرفراز کیاجاچکا ہے جبکہ اس کے علاوہ اُنہیں مولانا قاسم نانوتویؒ ایوارڈ، حضرت شاہ ولی اللہؒ ایوارڈ اور بہت سے دیگر انعامات واعزازات سے نوازا گیاتھا۔

پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی ،مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی ،مفتی رفیع عثمانی ،مولانا فضل الرحمن ،مولانا عبد الغفور حیدری ،حافظ حسین احمد ،مولانا سمیع الحق ،مولانا فضل الرحمن خلیل ،مولانا محمد احمد لدھیانوی ،علامہ عبد الحق مجاہد ،مولانا محمد ایوب صفدر ،مولانا عبد الحمید وٹو ،مولانا مطیع اللہ سعیدی،مولانا اسد اللہ فاروق ،مولانا محمد شفیع قاسمی ،مولانا اورنگزیب فاروقی سمیت دیگر نے مولانا محمد سالم قاسمی کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا محمد سالم قاسمی کے انتقال سے ایک اور چراغ علم و عمل اور رشد و ہدایت گل ہو گیا ،انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سر بلندی اور درس تدریس میں گذار دی ،ان کے ادارے سے لاکھوں افراد نے دین اسلام کا فیض حاصل کیا ،ان کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،اس دور میں وہ اسلاف کی ایسی نشانی تھی کہ جنہیں دیکھ کر مسلمان فخر محسوس کیا کرتے تھے ۔

مزید : بین الاقوامی