بشارالاسد کو تو آپ جانتے ہی ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان کی بیگم کون ہیں اور ان کا تعلق کس ملک سے ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

بشارالاسد کو تو آپ جانتے ہی ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان کی بیگم کون ہیں ...
بشارالاسد کو تو آپ جانتے ہی ہیں لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان کی بیگم کون ہیں اور ان کا تعلق کس ملک سے ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام کے صدر بشار الاسد سے کون واقف نہیں، لیکن بہت کم لوگ ہیں جو ان کی غیر ملکی اہلیہ کے متعلق جانتے ہیں۔بہت سے دیگر عرب رہنماﺅں کی طرح بشار الاسد کی اہلیہ بھی غیر ملکی ہیں البتہ ان کے آباﺅ اجداد کا تعلق شام سے ہی ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ڈیلی سٹار کے مطابق شامی صدر کی اہلیہ برطانوی نژاد خاتون اسما الاسد ہیں، جو شام کی خاتون اول بننے سے پہلے امریکی شہر نیویارک میں انویسٹمنٹ بینکر کے طور پر کام کرتی تھیں ۔ ان کی پیدائش 11اگست1975ءکے دن لندن میں ہوئی اور ان کا نام اسما اخراس رکھا گیا۔ ان کے والد دل کے ڈاکٹر فواز اور والدہ سفارتکار سحر تھیں۔

اسما کی ابتدائی پرورش مغربی لندن میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم ٹیفرڈ چرچ آف انگلینڈ ہائی سکول میں ہوئی، بعدازاں وہ کوئنز کالج میں داخل ہوئیں جہاں انہیں ایما کے نام سے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے کالج سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کی جبکہ فرانسیسی ادب میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ بعدازاں وہ نیویارک منتقل ہوگئیں جہاں وہ انویسٹمنٹ بینکر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ ان کی ملاقات بشارالاسد سے لندن میں اس وقت ہوئی جب وہ آئی سپیشلسٹ بن رہے تھے۔ جب اسما اوربشارالاسد کی خفیہ شادی ہوئی تو اس وقت بشارالاسد شام کے صدر کا عہدہ سنبھال چکے تھے۔ بشارالاسد اور اسما الاسد کے تین بچے ہیں، حافظ کی پیدائش 2001ءمیں زین کی پیدائش 2003ءمیں اور زارم کی پیدائش 2004ءمیں ہوئی۔

صدر بشارالاسد کی پیدائش 11 ستمبر 1965ءکے روز شام کے شہر دمشق میں ہوئی۔ ان کے والد حافظ الاسد ان سے پہلے شام کے صدر تھے جو 1971ءسے 2000ءتک اقتدار میں رہے۔ بشارالاسد نے 1988ءمیں دمشق یونیورسٹی کے میڈیکل سکول سے ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کی اور فوج میں بطور ڈاکٹر فرائض سرانجام دینا شروع کردئیے۔ بعدازاں وہ مزید تعلیم کے لئے لندن چلے گئے اور ویسٹرن آئی ہسپتال سے آفتھلمالوجی میں سپیشلائزیشن کرکے آنکھ کے ڈاکٹر بن گئے۔ شام میں ان کے بھائی باصل اپنے والد کے جانشین سمجھے جاتے تھے لیکن جب ایک کار حادثے میں ان کی موت ہوگئی تو بشارالاسد کو واپس آنا پڑا۔ وہ واپس آکر شامی فوج میں بھرتی ہوئے اورپانچ سال کے عرصے میں کرنل کے عہدے تک پہنچ گئے۔ ان کی والد کی وفات کے چار ماہ بعد انہیں صدر منتخب کرلیا گیا۔ 17 جولائی 2000ءسے لے کر اب تک وہ اقتدار میں ہیں۔ ان کے خلاف 2011ءمیں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا جو جلد ہی عوامی سطح پر بھی پھیل گیا۔ بشارالاسد کی حکومت نے احتجاج کرنے الوں پر سخت ترین کریک ڈاﺅن شروع کردیا۔ سیرین نیٹ ورک آف ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی افواج اور اتحادیوں نے اب تک جتنے افراد کو قتل کیا ہے ان میں سے 94 فیصد عام شہری تھے۔

مزید : بین الاقوامی