حکمران کراچی کے ساتھ مفتوحہ علاقے جیسا سلوک کررہے ہیں:سینیٹر سراج الحق 

حکمران کراچی کے ساتھ مفتوحہ علاقے جیسا سلوک کررہے ہیں:سینیٹر سراج الحق 
حکمران کراچی کے ساتھ مفتوحہ علاقے جیسا سلوک کررہے ہیں:سینیٹر سراج الحق 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی ملک کی معاشی و اقتصادی شہہ رگ ہے لیکن افسوس کہ حکمران کراچی کے ساتھ مفتوحہ علاقے اور عوام کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کررہے ہیں،عوام کو بجلی اور پینے کا پانی تک میسر نہیں اور حکمران عیش و عشرت کی زندگی گزاررہے ہیں،کے الیکٹرک کے ظلم اور لوٹ مار کے خلاف اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے 20اپریل کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا اور 27اپریل کو کراچی میں ہڑتال کی جائے گی،وہ سب لوگ جو شہر کو مسائل کے دلدل سے نکالنا اور کراچی کو خوشحال اور روشن دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس احتجاج اور ہڑتال میں شریک ہوکر کراچی کو خوشحال اور روشن بنانے کی جدوجہد کو کامیاب بنائیں،نااہل قیادت اور حکومت کی وجہ سے کراچی مسائل کی آماجگاہ بن گیا ہے ، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اور مسائل کے حل کی جدوجہد اور عوام کی ترجمانی کرتی رہے گی۔

 ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسراج الحق نے کہا  کہ گیس کی کمی ، فرنس آئل اور پاور پلانٹس کو بند رکھنا عوام کا مسئلہ نہیں،عوام بجلی کے بلز اور ٹیکس ادا کرتے ہیں،بلا تعطل بجلی کی فراہمی اور مسائل سے نجات عوام کا حق اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام ان دنوں اذیت ناک لوڈ شیڈنگ کا شکا رہیں اور کے الیکٹرک کی نااہلی اور ناقص کارکردگی اور اربوں روپے کی لوٹ مار نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے،حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی،کے الیکٹرک کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور نیپرا بھی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے کچھ نہیں کررہی،عملاً حکومت ، نیپرا اور کے الیکٹرک گٹھ جوڑ نے شہریوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے جبکہ نویں اور دسویں کلاس کے امتحان ہورہے ہیں،لوڈ شیڈنگ کے باعث طلبا و طالبات کی امتحان کی تیاری اور امتحانی مراکز میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے،تاجر برادری بھی سخت پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کے حقوق اور ریلیف دلانے کے لیے کئی سالوں سے تحریک چلائی ہوئی ہے اور اس کے لیے تمام آئینی و قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کیے ہیں،اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کیا ہےاور اس وقت جماعت اسلامی کی سپریم کورٹ میں اس حوالے سے جماعت اسلامی کی پٹیشن بھی دوسال سے زیر التوا  ہے،ہم عدالت عظمیٰ سے امید اور درخواست کرتے ہیں کہ و ہ کے الیکٹرک کے حوالے سے کراچی میں حالیہ سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور ہماری درخواست کو بھی سنے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو قومی شناختی کارڈ کے حصول میں نادرا کی طرف سے بھی بے شمار مسائل کا سامنا ہے،نادرا کی وجہ سے صرف کراچی نہیں پورے ملک میں عوام کو مسائل کا سامنا ہے،جماعت اسلامی نے نادرا کے خلاف بھی تحریک چلائی ہے اور کراچی میں عوامی جدوجہد اور دباؤ کے باعث تحریک کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں اور عوام کو ریلیف ملا ہے لیکن ابھی ہم نے یہ تحریک ختم نہیں کی ہے اور عوام کے تمام مسائل کے حل تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر یونیورسٹی ترمیمی بل منظور کرایا ہے اور سندھ کی تمام جامعات کو 1973کے آئین کے تحت حاصل خود مختاری کو ختم کردیا ہے اورچانسلر کے اختیارات گورنر سے لے کر وزیر اعلیٰ کے حوالے کردیے گئے ہیں،حکومت کے اس فیصلے سے جامعات کی حالت سندھ کے سرکاری اسکولوں جیسی ہوجائے گی اور اعلیٰ تعلیم کا سارا نظام بھی تباہ وبرباد ہوجائے گا،ہمارا بھی مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت جامعات ترمیمی بل کو فوری واپس لے،کرا چی کے دو کروڑ سے زائد شہریوں کو پینے کے پانی کے حوالے سے بھی شدید مشکلات اور پریشانیاں لاحق ہیں،مجھے بڑا شرم آتی ہے جب کراچی میں پانی کے مسائل پر بات کرتاہوں، انسان چاند پر پہنچ چکا ہے اور مریخ پر جانے کی تیاریاں کررہا ہے لیکن کراچی کے عوام کو پینے کاپانی میسر نہیں،گرمی کے موسم میں پانی کا بحران بہت شدت اختیار کرگیا ہے، کراچی کی 60فیصدآبادی پانی کے شدید بحران کا شکار ہے،پانی کے بحران میں سب سے بڑا مسئلہ Kـ4منصوبے کا مسلسل تاخیر کاشکار ہونا اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم ہے،Kـ4کی تعمیر میں وفاقی و صوبائی حکومتوں نے شروع سے ہی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت و لاپرواہی دکھائی ہے، سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنے دور میں Kـ3منصوبہ مکمل کر کے Kـ4کا آغاز کیا تھا لیکن بدقسمتی سے ان کی حکومت کے بعد آنے والی سٹی حکومت نے اس منصوبے کو تاخیر کا شکار کیا ہے اگر یہ منصوبہ اپنے وقت پر مکمل ہوجاتا تو کراچی کے عوام پانی کے اس بحران اور مسائل کا شکار نہ ہوتے جو آج ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری بے شمار بلدیاتی مسائل کا شکار ہیں۔کراچی کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ بلدیاتی حکومت اور بلدیاتی نمائندے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں ، سندھ حکومت اور مقامی حکومت نے تو اپنی نااہلی اور ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے مگر وفاقی حکومت نے کراچی کو نظر اندا ز کر رکھا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی ملک کا حصہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شا م پر امریکہ اور اتحادیوں کا حملہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ،روس اور امریکہ نے شام کے عوام کو تختہ مشق بنالیا ہے اور نئے نئے میزائیل اور ہتھیاروں کے تجربات شام کے اندر کیے جارہے ہیں ،خواتین اور بچوں کی آہ بکا جاری ہے لیکناو آئی سی اور  یواین او  سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں سب خاموش ہیں ،ہم کہتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کو اگر پنجہ آزمائی کرنی ہے تو ایک دوسرے کے علاقوں کو نشانہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کرنل جوزف کی طرف سے پاکستانی شہری کی شہادت کی مذمت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سینٹ میں ہم تحریک بھی جمع کراچکے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق کاروائی کی جائے اور ورثا   کو انصاف فراہم کیا جائے، اگر سفارتی استثنیٰ کی بات کی جائے تو میں حکومت سے سوال کرتاہوں کہ ملا ضعیف بھی ایک سفیر تھا لیکن اس کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کردیا گیا، قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ امریکی جیل میں قید ہے، کسی بھی حکومت نے اس کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کیا،ہمارے وزرائے   اعظم اور عسکری ذمہ داران کئی مرتبہ امریکا گئے لیکن ان میں سے کسی نے بھی ڈاکٹر عافیہ کے لیے ایک لفظ تک نہیں بولا۔

مزید : قومی