غیر عربوں کے لئے قرآن کا ترجمہ

غیر عربوں کے لئے قرآن کا ترجمہ
غیر عربوں کے لئے قرآن کا ترجمہ

  


قرآن الفرقان حضرت جبریل ؑ کے ذریعے ہمارے نبی ؐ آخرزمان پر عربی زبان میں وحی کی صورت میں زبانی نازل ہوا تھا۔ یعنی Script کی صورت میں نہیں اُتراتھا۔ جب حضرت جبریل ؑ نے رسول اللہ ؐ کو کہا ’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّّّکَ ا لِّذِیْ خَلَقَ‘‘ تو قرآن شریف کا نزول اِہل قریش کی عربی زبان میں شروع ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نزول کے لئے عربی زبان کا انتخاب اس زبان کی وسعت، بلاغت، ذخیرہِ الفاظ (Vocabulary)اور اس کی Phonetics )صوتی خصوصیت( کومدّ نظر رکھ کر ہی کیا ہو گا۔

حضرت جبریل ؑ کے ذریعے جب رسول اللہؐ کو اِقرا لفظ کہا گیا تو اس کا مقصد ہی یہ ہو گا کہ عربی الفاظ کے مخرج سے اللہ تعالیٰ کی منشاء 100 فیصد صحیح طور پر رسول اللہ ؐ تک قرأت Recitation کے ذریعے پہنچے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عربی زبان کے کچھ حروفِ تہجی کی Sound دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں ہے۔ مثلاً ق اورع۔ عربی زبان میں اِن حروف کا استعمال کثرت سے ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ترین منصوبہ ساز ہیں،اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایات ایک اُمّی قریش جو ہمارے نبیﷺ ہیں،تک پہنچانے کے لئے حضرت جبریل ؑ کو قرآنی ہدایات قرأت کے ذریعے اُمّی نبی ؐ تک پہنچانے کا فرض سونپا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ 100 آئت10 میں فرمایا ہے۔۔۔’’کوئی شخص ایمان نہیں لا سکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق عقل و فکر سے کام لے کر صحیح نتیجے پر نہ پہنچے۔

اس لئے ہمارا قانون یہ ہے کہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لیتے اُن پر (قرآن کی) بات واضح نہیں ہو سکتی(اور)وہ اُلجھاؤ میں رہتے ہیں‘‘۔ اسی طرح 39/9 میں فرمایا ’’کہہ دو اُن لوگوں سے جو لوگ علم رکھنے والے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے وہ (کیا) برابر ہو سکتے ہیں؟

قرآن مجید اگر انجیل اور توریت کی طرح تحریری اِنداز میں نازل ہوتا تو قرآنی الفاظ میں رد و بدل کا احتمال ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اِقرا کی شکل میں نازل ہوا اور جو ہدایات اللہ تعالیٰ ہم اِنسانوں تک نبی آخری الزمانؐ کے توّسط سے پہنچانا چاہتے تھے، اُن کا ذریعہ حضرت جبریل ؑ کوبنایاگیا۔یعنی اللہ کی منشاء بغیرDilute ہوئے حضرت جبریل ؑ کے ذریعے رسول اللہ ؐ تک پہنچ جائے۔

زبان دانی کے ماہرین کی ریسرچ ہے کہ اِنسان جب اپنا مطمح نظر دوسروں تک اپنی قوتِ گویائی (زبان) کے ذریعے پہنچاتا ہے تو وہ اپنی گفتگو میں آواز کے زیروبم اور جسم کی حرکات (Body language)سے مدد لے کر اپنے مطمح نظرکو 100فیصد دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ عربی زبان کا ذخیرہ الفاظ قریباً12 لاکھ لفظوں پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربی زبان اور وہ بھی اہلِ قریش کی کلاسیکی اور قدیم زبان، جو قرآن کی بھی زبان ہے ، کا ترجمہ دنیا کی دوسری زبانوں میں ہو بہو نہیں ہو سکتا تھا، لہٰذا قرآنی ترجمے کو سمجھانے کے لئے تفسیروں کا سہارا لینا پڑا۔

چونکہ تفسیریں عربی کی انفرادی زبان دانی اور تفسیر لکھنے والے کے علم کی بنیاد پر لکھی گئیں، اس لئے بہت سارے مسلک بن گئے۔ مسلک بنانے والوں کو ماننے والوں کے گروہ بن گئے۔ اِختلافِ رائے پیدا ہوا۔ مناظرے ہوئے، نفرتیں بڑھیں اور نوبت تکفیر تک پہنچی۔ بے چارے کم علم عوام اِن مختلف گروہوں کے حامی یا مخالف بن گئے۔

کم علم انسان جذباتی بھی ہوتا ہے۔ جذباتیت اور جہالت عدم رواداری کا باعث بنتی ہیں، یوں مولویوں کے کہنے میں آ کر ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ مذہب کے نام پر فساد برپا کرتے ہیں۔

فساد کو پیشہ ور اور سیاسی مولوی مزید ہوا دیتے ہیں۔ عوامی فساد ہر ریاست کے لئے اَمن و اَمان کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ گذشتہ سالوں میں ہم مذہبی فساداور قتل و غارت کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اس خلفشار کی جڑ کو دیکھا جائے توقرآن کی عربی کا Confused ترجمہ ہی ہے جو غیر عرب ،عربی دانوں نے کیا اور اپنے ہی ترجمے کو بنیاد بنا کر تفسیر لکھ دی جو بعد میں ایک الگ مسلک کی بنیاد بنی۔

چونکہ اِنسان کی سوچ کا اظہار الفاظ کے ذریعے ہوتا ہے، اس لئے اکثر زبانوں میں ذخیرۂ الفاظ کم ہونے کی وجہ سے اِنسان اپنی فکر (Mind) کو اپنی آواز کے زیروبم اور جسمانی حرکات (Body language) سے 100 فیصد مکمل کرتا ہے۔ یہی اِنسان جب اپنی فکر کو تحریر میں لاتا ہے تو اُس کی فکر (Mind) مزیدDilute ہو جاتی ہے، کیونکہ تحریر میں آواز کے زیر و بم کا اور نہ ہی باڈی لینگویج کا سہارا ملتا ہے۔۔۔ اور اگر اسی سوچ (Mind)کو دوسری زبان میں ترجمہ کریں گے تو اصل سوچ اور زیادہ Dilute ہو جائے گی۔

دنیا کی تمام زبانوں کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ ترجمہ ہو کر اپنا 100 فیصد تاثر کھو دیتی ہیں۔ غالب اور اقبال کی شاعری انگریزی میں ترجمہ ہو کر قاری کو متاثر نہیں کر سکتی۔ دراصل جب کوئی زبان اپنی اصل (Original) حالت میں پڑھی جاتی ہے تو اُس کے ساتھ اُس زبان کا عصری کلچر، روائتیں، تاریخی حوالے اور اُس دور کے عوامی روّیے جڑے ہوتے ہیں۔ کسی زبان کے ساتھ جب یہ Abstract حوالے جُڑے ہوں گے تو اس کا ترجمہ ہو بہو کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔

یہی واقعہ دنیا کی دوسری زبانوں میں قرآن کے تراجم کے ساتھ ہوا۔ماہرینِ زبان نے دنیا کی زبانوں کی جو درجہ بندی کی ہے، اُس میں فارسی 22 ویں نمبر پر آتی ہے(ذخیرۂ الفاظ کے حوالے سے)جبکہ عربی اپنی Richness اور قوتِ اظہار میں پہلی 5 زبانوں میں آتی ہے۔

اُرود کی جگہ ہندی کو 66 واں نمبر دیا گیا ہے۔ عربی بولنے والے موجودہ ملکوں کی عربی آپس میں نہیں ملتی، بالکل ایسے ہی جس طرح ہمارے ہاں پنجابی زبان کے 6-7 اسلوب ہیں۔ جدید عربی کا معیار مصری عربی کو بنایا گیا ہے۔ مصری عربی قرآنی عربی سے کوسوں دُور ہے۔

آمدم برسرِ مطلب۔ میرا یہ کہنا ہے کہ کاش قرآن شریف کے ترجمے کی بجائے قرآن کی ہدایات کا ترجمہ اگر ہمیں بتایا جاتا تو ہمارے دین میں اتنے تفرقات نہ ہوتے ۔ ہر مترجم کی ہدایت نمبر 4,3,2,1 وغیرہ بالکل ایک جیسی ہوتیں۔ ہمسائے کے حقوق، زوجین کے حقوق، تجارت، لین دین، ماں باپ اور اولاد کے حقوق، وراثت کے قوانین ، غرض ہمیں معاشرے میں رہنے کے لئے جو اصول بتائے جاتے، وہ ہر مترجم کے یکساں ہی ہوتے۔

جہاں تک عبادات سے متعلق موٹی موٹی ہدایات ہیں وہ ہمیں رسول اللہ ﷺکے اسوہ سے آج بھی معلوم ہیں۔ عبادات کے طریقے میں جو تھوڑا بہت فرق ہے، وہ ایسا نہیں ہے جو کسی ایک گروہ کو اسلام سے ہی خارج کر دے۔

یہ دوسری بات ہے کہ اِنسانی تنگ نظری اور ذہنی خلفشار کی وجہ سے ہمارے علماء آج بھی فساد پھیلاتے ہیں۔ آج بھی تکفیر کی تہمتیں عبادات کی ادائیگی کے طریقے پر لگتی ہیں۔ اگر قرآن کا دوسری زبانوں میں ترجمہ نہ بھی ہوتا پھر بھی کچھ عالموں نے اِنتشار پھیلائے رکھنا تھا۔ قرآن شریف کا 80فیصد سے زیادہ حصہ بنی نوع انسان کی معاشرت اور اِخلاقیات کو سدھارنے کے لئے وقف ہے۔ غیر مسلموں نے تو اُن اسلامی اصولوں کو اپنا لیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایات یونیورسل ہیں۔

ہم برِصغیر کے مسلمانوں نے اسلامی اخلاقیات ، معاشرت، معیشت اور سیاست کو پیچھے ڈال دیا اور عبادات پر مبالغے کی حد تک زیادہ زور دیا۔ چونکہ عبادت کے طریقوں میں تھوڑا بہت فرق ہے، اس لئے اس معمولی فرق کومبالغے کی حد تک بڑھا چڑھا کر ہم آپس میں خون خرابہ کرتے ہیں۔ قرآن عربی زبان میں اس لئے نہیں اُتراکہ اللہ تعالیٰ صرف عربی ہی جانتے ہیں۔

یہ تو اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تما م زبانوں کا خالق بھی ہے اور اُن پر قادر بھی۔ عربی زبان قرآن کے نزول کے لئے اس لئے استعمال ہوئی کیونکہ نبی کریمؐ کی زبان اہلِ قریش کی مُصّفا اور بلیغ عربی تھی، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ؐ کو عرب معاشرے میں حضرت ابراہیم ؑ کی آل کے طور پر چُنا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نزول کے لئے کوئی دوسری زبان منتخب کرنا ہوتی تو شائد حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت عرب خطّے میں نہ ہوتی۔

میرے نقطہ ء نظر میں قرآن شریف کو عربی میں ہی پڑھا جائے۔ اس لئے نہیں کہ خدا نخواستہ اللہ تعالیٰ صرف عربی سمجھتے ہیں، بلکہ اس لئے کہ ترجمے کے ساتھ قرآن کو پڑھنے میں ہم غیر عربی لوگ قرآن کے ترجمے کا وہی مطلب نکالیں گے جو ہم نے اپنے بچپن سے اپنے والدین کے ہم مسلکوں سے سمجھا بھی ہے اور اُس پر عمل کرتے آ رہے ہیں۔

مثلاً کوئی عاقل، بالغ مسلمان قرآن کا ترجمہ بلا واسطہ سمجھنے کی کو شش کرتا ہے اور قرآن کی سورۃ20 آئت22 سے یہ نتیجہ اَخذ کرتا ہے کہ اللہ نے موسیقی کو حرام قرار نہیں دیا ہے تو برِصغیر کے 3 چوتھائی مسلمان اُس کو گناہ گار قرار دے دیں گے، لہٰذا وہ مجبور ہو گا کہ فنونِ لطیفہ، جس میں موسیقی بھی آتی ہے، کو حرام سمجھے ۔ اِسی طرح مسلمانوں کے بڑے سکالر عبداللہ یوسف جنہوں نے قرآن کا ترجمہ 1934-38ء میں بزبانِ انگریزی کیا تھا، وہ بینک کے سود کو ربّا کے زمرے میں نہیں رکھتے۔

علامہ عبداللہ یوسف اپنے ترجمے کے حق میں ٹھوس دلائل دیتے ہیں،جنہیں مسلمانوں کا بڑا طبقہ قبول کرتا ہے۔ عبداللہ یوسف کا نقطہ ء نظر یہ ہے کہ رسول اللہ ؐ کے زمانے میں بینکنگ سسٹم نہیں تھا۔ کاغذی کرنسی نہیں تھی جو Inflation کا باعث بنتی ہے اور عوام کی بچت کو کھا جاتی ہے۔ بینک کا سود دراصل کرایہ ہے جو روپے کے لین دین پر وصول کیا جاتا ہے، لیکن قرآن شریف کی رِبّا کے بارے میں آیات کا ترجمہ دوسرے عُلما ء اُسی اکثریتی تعبیر میں کرتے ہیں، یعنی بینک کا سود بھی حرام ہے۔

اسی طرح شراب کی قرآن میں حُرمت نہیں دی گئی ہے۔ اسے نہائت بُرا کہا گیا ہے۔ یہ انسان کو نقصان دیتی ہے۔ اس خبیث مشروب سے منع کیا گیا ہے، لیکن حرام کی مہر نہیں لگائی گئی، ہاں البتہ رسولِ کریم ؐ کی حدیث سے یہ حرام قرار پائی۔ قرآن میں جس چیز یا فعل کو حرام کہا گیا ہے، وہاں قطعی طور پر حرام کہا گیا ہے۔

اَب اگر کوئی شرابی قرآن کے لفظی ترجمے کا حوالہ دے کر شراب کی حرمت سے اِنکاری ہو تو کیا وہ غلط ترجمے کا سہارا نہیں لے رہا ہو گا؟ ہم قرآن کو عربی میں ہی پڑھیں، بلکہ قرأت سے پڑھیں۔ اس سے رُوح کو تازگی ملتی ہے۔

جہاں پڑھا جائے گا، وہاں اللہ تعالیٰ کی برکات بھی نازل ہوں گی، لیکن اس میں جو ہدایات دی گئی ہیں اُن کو اگر ترجمہ کر کے عوام الناس کو پڑھنے اور اُن پر عمل کرنے کا کہا جاتا تو شائد اِتنے مسلک بھی نہ بنتے اور ہم کتابِ ہدائت پر عمل بھی کر رہے ہوتے۔

مزید : رائے /کالم


loading...