بھارتی جنگی جنون اور خطرے کی گھنٹی

بھارتی جنگی جنون اور خطرے کی گھنٹی

  



اکثر سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل ایسے اقدامات کرتی ہیں ۔جن سے وہ اپنے پارٹی کارکنان اور قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر ان کی ہمدردیاں اور ووٹ بٹورنے کے لیے بندوبست کرتی ہیں ۔اس سلسلے میں وہ اپنے عوام کے لیے ان مخصوص حالات کے لیے کئی مراعات اور پیکجز کی صورت میں ریلیف کا بھی اعلان کرتی ہیں۔ لیکن اکثر اوقات جب برسر اقتدار حکومت کو شکست فاش کا خدشہ ہو تو وہ اپنی ناکامیوں اور نامرادیوں کی وجہ سے انتخابات سے بھاگنے کے راستے تلاش کرنے کے لیے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے کے لیے تگ و دو کرتی ہے ۔جس سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انتخابات کو موخر کرنے کے لیے پر تولتی ہے ۔کچھ ایسی ہی صورتحال سے آج ہمارا ہمسایہ ملک دوچار ہے ۔جب وہاں کی حکومت اپنی شکست فاش نظر آنے کی صورت میں الیکشنز سے منہ موڑنے کے لیے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے حالات کا رخ جنگ کی طرف موڑنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے ۔وہاں ایوان اقتدار میں بیٹھے حکمران اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے عوام کی توجہ جنگ و جدل کی جانب موڑنے کے لیے مختلف حیلے بہانوں کے علاوہ ڈرامے رچا کر جنگ کے لیے جواز تلاش کر نے میں مصروف ہے۔

گزشتہ دنوں حکومت پاکستان کی جانب سے 16 اپریل سے 20اپریل کے درمیان جنگ کے خدشے کا اظہار کیا گیا ۔ جس پر مکار دشمن نے جنگ نا کرنے کا عندیہ بھی دیا ۔جس پر آنکھیں بند کر کے اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔وہ دشمن جس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔بلکہ دنا بھر میں پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہمہ تن گوش رہتا ہے ۔ایسے ہر آن تیا ر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر لمحہ تیا ر رہنا ہی عقل و دانش کا تقاضہ ہے ۔جس طرح بھارت فوجیون کو کشمیر میں مروا کر پاکستان کے خلاف ابھارنے کے لیے حربہ استعمال کیا گیا۔اسی طرح کے اور واقعات رونما ہونے کے خدشات واضح نظر آرہے ہیں ۔جن کو جواز بنا کر کاروائی کا عندیشہ ہے ۔بلکہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف محاذوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔وہ کہیں سے بھی اپنے مقصد کے حصول کے لیے کاروائی کر سکتا ہے۔موجودہ حالات میں اسکا جنگی جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔اور کنٹرول لائن پر جنگ کے بادل واضح دکھائی دے رہے ہیں۔

پاکستان امر الہیٰ ہے ۔اس کی حفاظت کے لیے ہر پاکستانی کو سر پر کفن باندھ کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا۔اور ہر آن اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے ۔کہ اگر کسی نے پہل کی تو اسکا بھر پور جواب دینے کی پاکستان صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔اور جذبہ بھی۔اسی لیے جنگی جنون کو تسکین دینے کے لیے دشمن کو سو بار سوچنا ہو گا ۔کیونکہ دشمن کی جانب سے ظلم و جبر اور ہندو انتہا پسندوں کا گٹھ جوڑ اسی طرح جاری رہا تو خطے کو جنگ سے کوئی نہیں روک سکے گا۔وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ اپنی بھر پور تیاری سے ہر لمحہ چوکس رہا جائے۔کیونکہ آزمائش کی اس گھڑی میں زرا سی کوتاہی یا غفلت دشمن کے عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار کر سکتی ہے ۔خطرے کی گھنٹیاں واضح سنائی دے رہی ہیں جو کہ دشمن کے ماضی کے طرز عمل کی بھر پور عکاسی کر رہی ہیں۔جنگیں کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوا کرتیں ۔لیکن کم عقل دشمنی میں اندھے دشمن کے زاتی مفاد آڑھے آنے کی وجہ سے اس کی عقل میں یہ بات کیسے آسکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم