اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 122

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 122
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 122

  

کسی شخص کو حضرت ابو الحسن نوریؒ نے دوران نماز داڑھی سے مشغلہ کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا ’’اپنا ہاتھ خدا کی داڑھی سے دور رکھو۔‘‘

آپ کا یہ کلمہ سن کر بعض لوگوں نے خلیفہ وقت سے شکایت کی کہ یہ کلمہ کفر ہے اور جب خلیفہ نے آپ سے سوال کیا کہ تم نے یہ جملہ کیوں کہا؟‘‘

تو آپ نے فرمایا ’’جب بندہ خود خدا کی ملکیت ہے تو اس کی داڑھی بھی خدا کی ملک ہے۔‘‘

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

یہ جواب سن کر خلیفہ نے کہا ’’خدا کا شکر ہے مَیں نے آپ کو قتل نہیں کیا۔‘‘

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 121 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دن بغداد میں حضرت حاتم اصمؒ نے خلیفہ وقت سے ملاقات کرتے ہوئے فرمایا ’’السلام علیکم یا زاہد۔‘‘

خلیفہ بولا ’’میں تو زاہد نہیں ہوں بلکہ آپ زاہد ہیں۔‘‘

اس پر آپ نے فرمایا ’’خدا کا یہ فرمان ہے قل متاع الدنیا قلیل یعنی اسے نبیؐ فرمادیجئے کہ دنیا کی متاع بہت تھوڑی ہے۔‘‘ اور چونکہ تو قلیل شے پر قانع ہوگیا ہے۔ اس لیے زاہد ہے اور مَیں دنیا و آخرت پر بھی قانع نہ ہوسکا تو پھر میں کیسے زاہد ہوگیا۔‘‘

***

ایک شکستہ حال نوجوان نے مسجد میں حضرت فتح موصلی سے ملاقات ہوئی اس نے آپ سے عرض کیا ’’میں ایک مسافر ہوں۔ چونکہ مقامی لوگوں کا مسافر کا خیال رکھنا فرض ہے اس لئے میں یہ کہنے حاضر ہوا ہوں کہ کل فلاں مقام پر میری موت واقع ہوگی۔ لہٰذا آپ غسل دے کر انہیں میرے بوسیدہ کپڑوں میں مجھے دفن کردیں۔‘‘

اتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان چلا گیا۔ اگلے دن آپ مقررہ مقام پر تشریف لے گئے تو اس نوجوان کا انتقال ہوچکا تھا اور آپ اس کی وصیت کے مطابق عمل کر کے جب قبرستان سے واپس ہونے لگے تو قبر میں سے آواز آئی۔

’’اے فتح موصلیؒ ! اگر مجھے قرب خداوندی حاصل ہوگیا تو مَیں آپ کو اس کا صلہ دوں گا۔ مزید کہا ’’دنیا میں یوں زندگی بسر کرو کہ حیات ابدی حاصل ہوجائے۔‘‘

***

حضرت یوسف بن حسینؒ نے حضرت جنید بغدادیؒ کو تحریر کیا ’’اگر خدا نے تمہیں نفس کی شدت سے آشنا کردیا تو کوئی مرتبہ بھی حاصل نہ کرسکو گے اور اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں کچھ امین مقرر کیے ہیں لیکن امت محمدیؐ کے امین اولیائے کرام ہیں۔ عورتوں اور لڑکوں کی صحبت صوفیائے کرام کے لئے تباہ کن ہوتی ہے او رجو قلبی لگاؤ سے خدا کو یاد کرتا ہے اس کے قلب سے خود بخود ماسوا اللہ کی یاد نکل جاتی ہے اور صادق وہی ہے جو گوشہ تنہائی میں خدا کو یقاد کرتا ہے اور موحد وہ ہے جو خدا کی بارگاہ میں حاضر رہ کر اوامرونواہی کی پابندی کرتا ہے او ربحر تو حید میں غرق ہونے والے کی تشنگی کبھی رفع نہیں ہوتی اور زاہد وہی ہے جو خود کو کھو کر خدا کی تلاش کرتا رہے اور بندے کو بندہ ہی کی طرح رہنا سزاوار ہے اور جو غوروفکر کے بعد خدا کو پہچان لیتا ہے وہ عبادت بھی بہ زیادہ کرتا ہے۔‘‘

***

شیخ شہاب الدینؒ کا لقب حق گو تھا۔ آپ کو حق گو اس لیے کہتے ہیں کہ سلطان محمد تغلق نے حکم دے رکھا تھا کہ مجھے محمد عادل کے نام سے پکارا جائے۔ آپ نے اس کے سامنے اس حکم کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم ظالموں کو عاد نہیں کہہ سکتے۔‘‘

اس پر سلطان نے حکم دیا کہ آپ کو دہلی کے قلعے پر سے نیچے پھینک دیا جائے۔‘‘ چنانچہ سلطان کے حکم کی تعمیل کی گئی۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 123 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے