"روشن پاکستان روشن تھر "

"روشن پاکستان روشن تھر "

  

27 سال بعد تھر کی سرزمین سے ملنے والا کوئلہ گولڈ سونا بن گیا تھر پاکستان کو روشن کرنے لگا آج سے 27 سال قبل 1992ء میں پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن محترمہ بےنظیر بھٹو نے اسلام کوٹ کے نزدیک تھاریو ہالیپوٹہ کےمقام پر اربوں ٹن کوئلوں کے ذخائر دریافت کےبعد 27 سال قبل پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن محترمہ بےنظیر بھٹو نے اپنے ہاتھوں سے اس منصوبے کاافتتاح کیاتھا ۔ اس منصوبے نے کئی نشیب فراز دیکھے اور بالآخر 27 سال بعد تھر کی سرزمین پر روشن ہونے والا چراغ اب پاکستان کو روشن کرنے لگا ہے گذشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تھر میں 330 میگاواٹ کے 2 تھر کول پاور پلانٹس کا افتتاح کردیا ہے جن سے 60 برس تک 660 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی ،پاکستان میں تھر کول سے بجلی بننا شروع ہوگئی ہے ۔ اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے ہمراہ تھر کول بلاک ٹو پہنچے اور پہلے پاور جنریشن پلانٹس کا افتتاح کردیا۔دونوں تھرکول پاور پلانٹس سے 660 میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی جو رواں سال جون کے آخری ہفتوں میں کمرشل بنیادوں پر فراہم کردی جائے گی ابتدائی طور پر دونوں پلانٹ سے 100، 100 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگئی ہےچیئرمین اینگرو خورشید احمد جمالی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 سال سے یہ کٹھن سفر طے کیا ہے اور پاکستان کا واحد پروجیکٹ ہے جس پر تخمینے سے کم رقم خرچ ہوئی ہے 4 ہزار میگاواٹ بجلی بنائیں گے، ونڈ کاریڈور اور ہائیڈرو پاور کو استعمال کرکے توانائی منصوبے بنائیں گے وفاقی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ امپورٹیڈ فیول اور دیگر ذرائع استعمال کرنے کے بجائے ملک میں موجود وسائل پر توانائی منصوبے بنائے جائے دوسری جانب چین کے نمائندے وان یو کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کاکامیاب بنانا پاکستان اور چین کی حکومت کا بڑا کارنامہ ہے، سندھ حکومت سے چائنہ کا تعاون ہے،سی پیک میں جرمنی،جاپان بھی شامل ہیں جب کہ اس منصوبے سے بجلی کے بحران میں کمی ہوگی یہ علاقہ بہت پرامن ہے،تھر میں تاریخی مقامات بھی ہیں۔

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اوپن پٹ کول مائننگ کا دورہ کیا جس کے دوران اپنے موبائل سے تصاویر بھی لیں بلاول بھٹو زرداری نے تھرکول فیلڈ بلاک 2 کا دورہ کیا ۔اس دوران وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور وزیر توانائی امتیاز شیخ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے چیئرمین پیپلز پارٹی کو کوئلہ کے معیار کی کان کنی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جب کہ انہوں نے مزدوروں سے ملاقات کی اور کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔واضح رہے کہ 17 جون 2015 میں پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے تھرکول کے 1400 میگاواٹ کے 4منصوبوں کی منظوری دی تھی، منصوبے کے تحت پہلے پاور پلانٹ کو گزشتہ ماہ 19 مارچ کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا گیا تھا اور پہلے پاورپلانٹ سے بھی 330 میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع ہوئی تھی کل پیپلزپارٹی کےچیرمین بلاول بھٹو نے تھرکول پراجیکٹ کے چھ سو میگاواٹ کے پاور پلانٹس کا باضابطہ افتتاح کیا ۔اس موقع پر بلاول بھٹو نے اسلام کوٹ والوں کےلیے مفت بجلی دینے کا اعلان کیا تھر کےغریب لوگوں کی زندگی روشن ہو یا نہ ہوں مگر تھر سے پاکستان ضرور روشن ہونے چلاہے امیدہےکہ اس توانائی کےعظیم منصوبے کی تکمیل سے تھرکی سرزمین اورغریب تھری باشندوں کو ضرور اسکے ثمرات ملےگے کچھ عرصہ قبل اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے تھر میں غربت بھوک افلاس بے روزگاری علاج معالجے کی سہولیات کا جاہزہ لینے کےلیے تھر کا دورہ کیا تھا ،اس کےبعد وزیراعظم عمران خان نےتھر کا دورہ کیا تھا ۔وزیراعظم نے تھرکے مختلف اعلانات کےساتھ تھری باشندوں کےلیے ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان کیا میں یہاں تھر کےغریب تھری باشندوں کی زندگی انکے مسائل اور تھرکے حالات اور مشکلات کی مختصراً تھرکی منظر کشی کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

تھر کےلوگوں کو روزگار پینے کے صاف میٹھے پانی تعلیم  غربت کے  خاتمے اور ہرسال تھر   میں قحط سالی  سے نمٹنے کےلیے ٹھوس جامع عملی اقدامات اور  تھر  کےلیے ایک    بڑے  بھرپور جامع  پیکج کی  ضرورت ہے  تھر کےلوگوں کاکہناہے کہ وزیراعظم کو تھر میں غربت  بھوک افلاس بےروزگاری تعلیم  کےحوالے سے ٹھوس مستقل بنیادوں پرحل کےلیے کام  کرنا چاہیےاس  دور جدید میں  جب انسان مریخ پر  پہنچ چکا ہے  مگر تھرکے غریب تھری باشندے ہروقت مشکلات کا شکار  ہے تھرپارکرضلع کے اکثر وبیشتر گاؤں گوٹھوں میں غربت بھوک افلاس کے  ڈیرے ہیں تھر غذائی قلت سے ہرسال  تھر میں  غذائی قلت سے سینکڑوں بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں تھرمیں غربت بھوک افلاس  بےروزگاری اور  غذائی قلت سے مصوم پھولوں بچوں ہلاکتوں انسانی زندگی کی  مشکلات کےباعث  تھر  میڈیا کامحوربنا ہوا ہےصحرائے تھر صحارا اور  گوبی  کےبعد  دنیا کاتیسرا بڑا ریگستان  ہے تھر میں اگر قدرت مہربان ہوجائے  باران رحمت کا نزول ہوجائے تو تھرجنت نظیر وادی کا روپ دھار لیتا ہے اور اگر تھر کی پیاسی زمین پرمطلوبہ بارشیں نہ ہوتو صحرائے تھر میں قحط سالی شروع ہوجاتی ہے تھری باشندے شدید مشکلات کا شکار  ہوجاتے ہیں تھرمیں  شدید ترین گرمی ہوتوغریب تھری باشندے پینے کے پانی کی بوند بوند کوترستے ہیں اگر شدید ٹھنڈ سردی ہوتو غریب تھری باشندے اپنے جھونپڑیوں میں سردی سے   ٹھٹھرتے ہیں شدید سردی میں جھونپڑیوں میں رہنے والے مصوم پھولوں میں نمونیا کھانسی سینے کے امراض ہوجاتے ہے افسوس ناک امر یہ ہےکہ صرف رواں سال میں تھر میں غذائی قلت اور  مختلف  بیماریوں سے غذائی قلت پینے کاپانی سنگین مسئلہ بن  چکا ہے آج  بھی اس دور جدید غریب تھری باشندے خصوصاً غریب خواتین ننگے پیروں اپنے سروں پر بھاری مٹکے لاد کر اپنی اور اپنے مصوم بچوں کی  پیاس بجھانے خاطر پینے کے  پانی کی تلاش میں کئی کئی میل کا مفاصلہ طے کرنے  پرمجبور ہے ۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

ستم ظریفی کی حد تو یہ  ہےکہ تھر بلیک گولڈ "کوئلہ"کے اربوں ٹن ذخائر اور دیگر قدرتی  معدنیات  کی دولت  سے مالامال ہونے کےباوجود پانی کی  بوند بوند کےلیے ٹھوکریں کھانے پرمجبور اور بےبس ہے اس  سال دنیا کے  تیسرے  بڑے صحرائے تھر میں مطلوبہ بارشیں نہ  ہونے سے تھر میں  قحط سالی ہے  تھر میں  قحط کے باعث  پینے کے پانی کابحران سنگین ہوچلا ہے صحرائے تھر میں انسانی زندگی کے لیے "پانی"زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے غریب تھری باشندوں کو  شدید ترین گرمی میں تپتی ریت میں خچروں اونٹوں  گدھوں اور غریب تھری خواتین ننگے پیروں اپنے سروں  پر مٹکے ڈرم اور کین لاد کر میلوں پیدل پانی بھر کر لانا پڑتاہے شدید سردی کی سرد راتیں سردی میں  ٹھٹھرکر گذارنا پڑتی ہےغریب تھری باشندے پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہے تو تب کہیں پانی کا ایک قطرہ وہ اکٹھا کرپاتے ہے  تھرکی خواتین اپنے سروں پر بھاری مٹکے رکھ کر پانی کیلیے کئی میل کی مسافت طے کرتی ہیں بعض اوقات تو تھر میں انسان اور جانور اونٹ گدھا خچر ایک ہی گھاٹ پر پانی پینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔

 تھر میں قدرت کا نظام ہے کہ اگر مطلوبہ اوقات میں باران رحمت کا نزول بارشیں ہوجائے تو تھر ایک جنت نظیر حسین  وادی کا روپ دھار لیتا ہے تھر میں مطلوبہ بارشیں ہوجائیں تو تھر کشمیر سے زیادہ حسین منظر پیش کرتا ہے اور اگر تھر میں مطلوبہ بارشیں نہ ہوتو شدید قحط سالی ہو جاتی ہے صحرائے تھر میں شدید قحط سالی کے دوران انسانوں کے ساتھ بے زبان جانور بھی بیراج علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تھر میں حکومت سندھ کا دعویٰ ہے  کہ وہ تھرکےلوگوں کےلیے بہت کچھ کررہی ہے مگر حقائق اسکے برعکس ہے زیادہ تر معاملات پرسیاسی انداز میں توجہ دی جاری ہے  غریب تھری باشندے حکومت سندھ کی  امداد کےنام پر پچاس کلو گندم کےحصول کےلیے ہاتھ پھیلانے پر مجبورہے وفاقی حکومت کا تو تھر کی طرف کوئی خاص دھیان نہیں ہے تھر کےاکثر لوگ  شکوہ کرتے نظرآتےہیں کہ وفاقی  حکومت تھرکےمسائل مستقل بنیادوں پرحل کریں غریب تھری باشندوں کی اکثریت کاکہناہے کہ پچاس کلوگندم کی  فراہمی حل نہیں ہے وزیراعظم  عمران  خان کی وفاقی حکومت تھر میں قحط سالی غربت بھوک افلاس کا  حل  مستقل بنیادوں پر  کیوں نہیں کرتی ۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا بھی تھر سے ایک  خاص تعلق رہا  ہے اور حالیہ الیکشن میں مخدوم  شاہ  محمود قریشی نے تھر سے   الیکشن میں حصہ لیا تھا شاہ صاحب کو    تھر کےحالات پر خصوصی توجہ دینی  چاہیے تھر میں پاکستان کو بلیک گولڈ "کوئلے "پاکستان کوروشن کرنے انرجی کے منصوبے شروع ہے تھری باشندوں کا  واحد ذریعہ معاش مال مویشی کی تجارت میں ہے یا  پھر تھر میں بارشیں ہونے کی صورت میں تھر میں بنجر زمینوں کوآباد کرکے کھیتی باڑی  کرتے ہیں تھرمیں پانی کا زیادہ تر انحصار بارشوں پر کیا جاتا ہےغریب تھری باشندوں کا واحد ذریعہ معاش مال مویشی کی تجارت پر ہے تھر میں لوگوں نے پانی کے حصول کے لیے کنویں کھود رکھے ہیں لیکن اس وقت ان کنوؤں میں پانی زیادہ تر خشک ہوچکا ہے یا پھر پانی انتہائی خشک اور زہریلا ہوچکا ہے ہیلتھ ماہرین کے مطابق تھر کے زیر زمین پانی میں سنکھیا شامل ہے۔ 

اسی وجہ سے غریب تھری باشندے پینے کے پانی کا زیادہ تر انحصار بارشوں کے پانی پر کرتے ہیں جب اچھی بارشیں ہوتی ہے تو تھر کے باشندے تالابوں جسے تھر کی مقامی زبان میں "ترائی "کہتے ہیں اس میں بارش کا پانی ذخیرہ کرلیتے ہیں تھر میں زمین دوز ٹینک بنائے جاتے ہیں جس میں پانی ذخیرہ کیاجاتا ہے۔ پھر یہ کئی روز کا بوسیدہ پانی تھری باشندے استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تھر میں بارشیں ماہ جون سے اگست تک بارشوں کا سلسلہ رہتا ہے اگست تک اگر تھر میں مطلوبہ بارشیں ہوجائیں تو ٹھیک ہے ورنہ پھر ضلعی انتظامیہ تھر میں قحط ڈکلیئر کردیتی ہے جس کے بعد تھر میں امدادی کارروائیاں شروع کی جاتی ہیں اس کے علاوہ حکومت سندھ نے تھر میں پینے کے کھارے پانی کو میٹھا کرنے کے بڑی تعداد میں آراو پلانٹ لگائے گئے ہیں مگر یہ تھر میں آبادی کے لحاظ سے نہ کافی ہیں جس میں سے تو اکثر وبیشتر تو صحیح کام نہیں کررہے ہیں۔ ان تھری باشندوں کے بقول اکثر وبیشتر آراو پلانٹ سیاسی سفارشی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں  تھر میں غربت بھوک افلاس بیروزگاری کے باعث غریب تھری باشندے شدید مشکلات کا شکار ہے ۔

ہر سال تھر میں غذائی قلت کے باعث سینکٹروں بچے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں اب تھرمیں شدید گرمیاں شروع ہے غریب تھری باشندوں کی  مشکلات کم نہیں  لیکن افسوس کہ  سندھ کی ترقی کا نعرہ لگانے والوں کو یہ سب نظر نہیں آرہا تھرکول میں ان پاور پلانٹس سے بجلی کی پیدا وار کی کامیابی کے بعد غریب تھری باشندوں کے دلوں میں امید کی کرن پیدا ہوچلی ہےکہ شائد اب تھر کی قسمت جاگ جائے حکومت سندھ کےساتھ ساتھ وفاقی حکومت تھر کی ترقی وخوشحالی اور  تھری باشندوں کے  مسائل کے مستقل حل کےلیے ایک جامع     پیکج دے  گی تاکہ   تھر کے مسائل کا مستقل ٹھوس حل نکل آئے تھری باشندوں کی اکثریت کا کہنا ہےکہ اب ہم امداد کے لیے ہاتھ پھیلا پھیلا کر تنگ ہوچکے ہے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت تھر کے غریب لوگوں کے مسائل کےحل غربت کے خاتمے بےروزگاری کے خاتمے تعلیم صحت اور ضروریات زندگی کے دیگر مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیےجائیں اور تھر میں لوگوں کو روزگار کی فراہمی کےلیے ہنرمندی کی انڈسٹریاں گھریلو انڈسٹریاں قائم کی جائیں  تھر میں ڈیری فارم کی صنعت کو فروغ دیا جائے کیونکہ تھر کے غریب لوگوں کا واحد ذریعہ معاش مال مویشی کی تجارت ہے اگر وفاقی حکومت اور سندھ حکومت تھرپارکر میں ایگریکلچر فیکٹر میں کام کریں تھر کے غریب لوگوں کو زرعی فصلوں کی کاشت کےلیے بیج وغیرہ مفت فراہم کیے جائیں پانی کی سہولت دی جائے تو تھر میں زراعت کو کافی فروغ  ملےگا تھرمیں وفاقی حکومت کا  ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ تھر میں سبزیوں اور کچھ  فروٹ کی کاشت کے  محدود چھوٹے پیمانے پر  کامیاب تجربات کرچکا   ہے   لوگوں کو بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع ملین گے تو دوسری طرف تھر میں غربت بھوک افلاس کے خاتمے میں بھی بڑی حد تک مدد ملےگی ۔تھر میں پانی ذخیرہ کےلیے چھوٹے بڑے ڈیم بنائے جائیں میٹھے پانی کی فراہمی کے جامع حکمت عملی بنائی جائیں تو تھر میں کافی حد تک قحط سالی پر بھی قابو پایا جاسکتا غریب تھری باشندوں کی سرزمین تھر پاکستان کو روشن کرنے چلا تھر کی سرزمین قدرت کے بےشمار معدنیات کی دولت سے مالامال ہے میری دلی آرزو تمنا ہےکہ پاکستان کےساتھ ساتھ تھر کے غریب لوگوں کی زندگی کی حقیقی خوشیاں ملے اس منصوبے سے پاکستان کےساتھ تھر کے غریب لوگوں کی زندگی بھی روشن ہو تھر میں غربت جہالت بھوک افلاس کے سائے چھٹے تھر میں روشنی منور ترقی خوشحالی کا انقلاب آئے غریب تھری باشندوں کی حقیقی خوشیاں لوٹ آئے تھر کے مسکین غریب تھری باشندوں کی زندگی کی تمام بنیادی سہولیات حاصل ہو تھر میں وفاق اور سندھ حکومت اپنی اپنی ذمےداریاں احسن طریقے سے ادا کریں.

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ