’’ امن کی آشا . جنگ کی بھاشا ‘‘

’’ امن کی آشا . جنگ کی بھاشا ‘‘
’’ امن کی آشا . جنگ کی بھاشا ‘‘

  

کچھ لوگ کہہ گئے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے . کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے . کچھ کا فلسفہ حیات , جس کی لاٹھی اس کی بھینس  ہوتا ہے . کچھ چانکیہ کے مرید ہوتے ہیں اور بغل میں چھری اور منہ پہ رام رام الاپتے رہتے ہیں . کچھ لوگ , شیر کی ایک دن کی زندگی جینے کی تمنا کے ساتھ جیتے ہیں . کچھ کے نزدیک گیدڑ کے سو سال ہی سب کچھ ہوتے ہیں . کچھ مرنے اور مارنے کے سوا کچھ اور نہیں سوچ سکتے . کچھ چاہتے ہیں کہ ہمہ وقت امن کی فاختائیں اڑاتے رہیں .

دنیا بھر کی قوموں کے اپنے اپنے جینے اور مرنے کے طور طریقے ہیں . انسان کی فطرت بڑی انوکھی ہے ، بڑی سیمابی ہے ، وہ زیادہ عرصے تک کسی ایک حالت , کسی ایک کیفیت میں نہیں رہ پاتا . اس کا مزاج ہمہ وقت متغیر رہتا ہے ، من و سلوی بھی اسے ایک وقت کے بعد کھلنے لگتا ہے . انسانی تاریخ کی ابتدا سے اب تک انسان کچھ وقت تک تو سکون و عافیت سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور پھر اچانک ایک دوسرے سے الجھنے لگتے ہیں . قبیلے ہوں یا قومیں؟ بہت زیادہ عرصے تک امن و امان کی حالت میں نہیں رہ سکتے . امن کی آشا سے جنگ کی بھاشا تک کا سفر طے ہونے میں کبھی بہت زیادہ وقت نہیں لگتا  اور جو قوم, جو قبیلہ ہمہ وقت خود کو جنگ کے لیئے تیار نہیں رکھتا وہ بہت جلد جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے . امن کی بھاشا سمجھنے اور سمجھانے کے لئیے جنگی تیاریاں کرتے رہنا پڑتا ہے اور ہر طرح سے ہر وقت جنگ کے لیئے تیار رہنا پڑتا ہے اور اپنی ہر طرح کی جنگی تیاری کو ہمہ وقت سب کے سامنے نمایاں رکھنا پڑتا ہے تاکہ کسی کو بھی کبھی جنگ کی ہمت نہ پڑے .

انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے سے کمزور کو حقیر اور کمتر سمجھتا ہے اور اگر اس کی دسترس میں ہو تو اسے دبانے کی خواہش رکھتا ہے اور مستقل دباتا رہتا ہے،اپنے برابر والے سے نرمی اور دوستی برتتا ہے اور اپنے سے طاقتور اور مضبوط کے سامنے دَب کے , سر جھکا کے رہتا ہے،قوم , قبیلہ, ملک , انسانوں کی مجموعی نفسیات اور فطرت کی عکاسی کرتا ہے اور لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ شدت سے دوسری قوموں , دوسرے قبیلوں اور دوسرے ملکوں کے انسانوں کو محکوم بنانے کی ازلی خواہش کو پرورش دیتا رہتا ہے . انسانی نفسیات کی اس کمزوری کا آج تک کوئی دیرپا علاج دریافت نہیں ہو سکا ہے . ہم انفرادی سطح پر بھی لا شعوری طور پر اس سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور گروہ کی شکل میں تو ہماری یہ لا شعوری سوچ عملی رویوں میں ڈھلنا شروع ہو جاتی ہے . ہم طاقتور سے ڈرتے ہیں خواہ اس کی طاقت کی شکل صورت کچھ بھی ہو  اور ہم کمزور کو ڈراتے ہیں خواہ زبان سے اس کا اقرار نہ بھی کریں .

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

ہم دل سے امن و سکون سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہماری فطرت ہمیں ایک دوسرے سے چونچیں لڑانے پہ اکساتی رہتی ہے . یہ اور بات ہے کہ ہماری جبلت ہمیں ذاتی حفاظت کے خیال سے ہمیں شعوری طور پر طاقتور اور کمزور کی تفریق سکھاتی رہتی ہے کہ کب ہم کس پر کمر کس کر تل سکتے ہیں اور کب ہم خاموش رہ کر اپنی عافیت برقرار رکھ سکتے ہیں . فطرت , نفسیات اور جبلت کی اسی کشمکش نے امن کی آشا اور جنگ کی بھاشا جیسے الفاظ اور رویوں کو جنم دیا ہے . فطرت , نفسیات اور جبلت کی یہ اندرون خانہ جنگ روز اول سے جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گی ،کوئی بھی فرد یا معاشرہ کلی طور پر اس کشمکش سے چھٹکارا نہیں پا سکتا ،البتہ اس میں کچھ کمی , کچھ بیشی لائی جا سکتی ہے . یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اس حقیقت کو دل و دماغ سے قبول کر لیں کہ کسی بھی آئیڈیلزم یا فلسفے سے انسان کی شخصیت کا یہ اندرونی تضاد وخلفشار ختم نہیں کیا جا سکتا .

طاقت کا نشہ ہمیشہ بڑھتا ہی رہتا ہے تاوقتیکہ اس سے بڑی طاقت یا قدرت اسے کم یا ختم نہ کر دے . دنیا کا کوئی مذہب , کوئی نظریہ حیات , کوئی ضابطہ اخلاق آج تک اپنی تمام تعلیمات کے باوجود اپنے اپنے پیروکاروں کے ذہنوں سے ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے اور آس پاس اور آمنے سامنے والوں پر اپنی برتری اور شان و شوکت جھاڑنے اور منوانے کی سوچ ختم نہیں کر پایا ہے . نبیوں کی امتیں ہوں یا پیغمبروں کی قومیں ہوں یا رہنماؤں اور پیروں پیشواؤں کے گروہ اور قبیلے ہوں ؟ دنیا کے کسی بھی خطے میں کبھی بھی کلی طور پر امن اور سکون نہیں رہا ہے اور نہ رہ سکتا ہے . انسانی نفسیات اور فطرت کے قاعدوں , قانونوں اور اصولوں کے تحت ایسا ہونا غیر فطری اور ناممکن ہے .

انفرادی سطح پر کوئی شخص کتنا ہی امن پسند , صلح جو اور نرم خو کیوں نہ ہو , مگر وہ بھی دنیا میں رہتے ہوئے تمام عمر کے لیئے اپنے آدرش کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتا . زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں اسے کسی نہ کسی سے الجھنا پڑتا ہے خواہ اس کی کوئی غلطی بھی نہ ہو . ہاں اگر کوئی سب کچھ تیاگ کے جوگی یا یوگی بن جائے اور بن باس لے لے تو اور بات ہے . انسانی نفسیات اور فطرت کی یہ کمزوری جب سمجھ میں آ جائے تو بہتر زندگی کے لیئے ضروری ہو جاتا ہے کہ پھر ہم خود کو زندگی کے ہر معاملے میں ممکنہ حد تک خود کفیل بنائیں اور انفرادی اور قومی و اجتماعی سطح پر مضبوطی اور استحکام کے تمام ذرائع اپنائیں  تاکہ کسی دوسرے فرد یا گروہ یا قوم یا ملک کو ہم پر منفی نگاہ ڈالنے کی جرات نہ ہو . ہمیں اس حد تک مضبوط , مستحکم اور طاقتور ہونا اور رہنا چاہئیے کہ کوئی ہم کو دبا نہ سکے اور ہم اپنی آزادی برقرار رکھ سکیں لیکن ہمیں اتنا زیادہ بھی طاقتور نہیں ہونا چاہئیے کہ طاقت کا نشہ ہمیں اوروں پہ قابو پانے اور قابض ہونے پہ نہ اکسانے لگے .

اعلی ترین طاقت کا مظاہرہ کمزوروں کی بھرپور مدد کر کے ہوتا ہے . اس سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے اور اس سوچ کے ساتھ ہی ہمیں اپنی ہر طرح کی طاقت اور ہر طرح کے اختیار میں اضافے کی تگ و دو کی ضرورت ہے. اپنے گھر , اپنے خاندان , اپنے معاشرے کی سطح پر بھی اور قوم و ملک کے اجتماعی مفاد کے لیئے بھی. ہم اپنے سے کمزور کی مدد اسی وقت اچھی طرح کر سکتے ہیں جب ہم ذہنی طور پر پر سکون ہوں گے کہ ہم سے ذیادہ طاقتور ہمیں کسی بھی حوالے سے تنگ نہیں کرے گا اور اپنے سے زیادہ طاقتور کو اس کی حدود میں رکھنے کے لئیے ہمیں اس کے برابر نہ سہی اس کے مقابلے کے لیئے ہمہ وقت ہوشیار و تیار رہنا ہوگا ، تبھی ہم اپنی آزادی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی طاقت و توانائی کو اپنے سے کمتر اور کمزور کی مدد میں صرف کر سکیں گے .

(ڈاکٹر صابر حسین خان شہر قائد میں رہائش پذیر اور ملک کے مشہور ماہر نفسیات ہیں ،علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے  اور مختلف قومی و عوامی مسائل پراخبارات میں ان کے کالمز شائع ہوتے رہتے ہیں۔ فیڈ بیک اور دیگر مسائل کے  کے لئے وٹس ایپ نمبر 03456680988 پر ڈاکٹر صابر حسین خان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ ) 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ