مزدور طبقے کو ریلیف دینا اولین ترجیح: عمران خان، لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ، اعلان آج، وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات، کرونا سے پیدا صورتحال اقدامات اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال

    مزدور طبقے کو ریلیف دینا اولین ترجیح: عمران خان، لاک ڈاؤن میں توسیع کا ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شریک تھے۔ ذ ر ا ئع نے بتایا کہ ملاقات میں ملک کی مجموعی سکیورٹی اور داخلی صورتحال پر مشاورت کی گئی جبکہ کرونا سے ملک میں پیداہونیوالی صورتحال اور ا قد ا مات پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن کے دوران ملک میں تعینات فوج اور سکیورٹی ادار و ں کی کارکردگی کو سراہا جبکہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ذرائع کے مطابق کروناسے نمٹنے کیلئے امداد اور ریلیف کی وفاق سمیت چاروں صوبوں، گلگت اور آزادکشمیر میں تقسیم پربھی بات چیت کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں وزیراعظم کو بھا ر ت کی جانب لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جاری جارحیت پر بریفنگ دی گئی جبکہ ایل اوسی پر بلا اشتعال فائرنگ، شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور پاک فوج کی جوابی کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔خیال رہے ملک بھر میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے پاک فوج تعینات ہے جبکہ مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے لاک ڈاؤن جاری ہے۔

ملاقات

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ملک بھر میں جاری جزوی لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ کرلیا جس کا باظابطہ اعلان آج منگل کو کیا جائیگا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (این سی سی) اجلاس میں لاک ڈاؤن سے متعلق ملک بھر میں یکساں پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا، تعمیراتی سیکٹر کا پہلا فیز 14 اپریل سے کھولنے کا بھی فیصلہ کیا گیااجلاس میں کرونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے درخواست کی کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل سندھ حکومت سے مشاورت کی جائے۔وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی درخواست کو منظور کرلیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا اعلان منگل کو کیا جائے گا اور تعمیراتی سیکٹر کا پہلا فیز بھی 14 اپریل سے کھول دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن سے متعلق ایک جیسی پالیسی ہو جبکہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کو مزید توسیع دینے کا اعلان بھی کل کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز دوبارہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں قومی سطح کے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ گزشتہ روز کے اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے لاک ڈاؤن سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ملک کی مجموعی صورتحال کی روشنی میں اپنی سفارشات کمیٹی میں پیش کیں۔ اجلاس میں وفاق اور صوبوں نے لاک ڈاؤن سے متعلق یکساں پالیسی پر اتفاق کیا۔ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لاک ڈاؤن مزید 14 دن کیلئے بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن سیکٹرز کو کھولنا ہے، اس کے ایس او پیز دیئے جائیں، عملدرآمد کرائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور کرونا وائرس کے حوالے سے سندھ کی صورتحال سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا اس اہم صورتحال میں ہماری قومی پالیسی ہونی چاہیے۔ فیصلے وزیراعظم کی طرف سے آنے چاہیں، ہم سب مانیں گے۔ صوبے میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، ہمارے لوگ مر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن نہیں بڑھانا تو یہ بھی فیصلہ وزیراعظم کی جانب سے آنا چاہیے۔ آپ جو شعبے کھولنا چاہتے ہیں، وہ ایس او پیز ہمیں بھی دیں۔ کل آپ ہی اعلان کریں، جو آپ چاہیں گے، ہم عملدرآمد کرینگے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو نقدی دے رہے ہیں، ان سے 14 دن گھروں میں رہنے کی گارنٹی لیں۔ اس کے علاوہ فوڈ آئٹمز کی ایکسپورٹ پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔ اگر ہم سرپلس بھی ہوں تو بھی ایکسپورٹ روک دیں۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ 15 اپریل کے بعد کیا کرنا ہے؟ یہ فیصلہ منگل کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا۔ تاہم کوشش ہوگی کہ فیصلے وفاق اور صوبوں کی مشاورت سے ہوں۔اسلام ا?باد میں ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کمانڈ سینٹر کی بھی میٹنگ ہوگی جس میں تمام وزرائے اعلیٰ اجلاس میں شرکت کرینگے، کوشش ہے تمام فیصلے مشاورت سے ہوں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ بحثیت قوم پاکستانیوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کے اچھے نتائج آرہے ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت نے بروقت فیصلے کیے۔ پاکستان کے بروقت فیصلوں کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریکنگ کا نظام پر بھی بہت اچھا کام ہو رہا ہے جبکہ ٹیسٹنگ قابلیت بڑھانے کے لئے ہم نے بہت زور دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو کاروبار چلا رہے ہیں ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ملازمین کی صحت کا خیال رکھیں، اس کیلئے قانون سازی بھی زیر غور ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس کے 5374 کنفرم کیسز ہیں۔ ان کیسز میں 52 فیصد مقامی ہیں۔ باہر سے آنے والے متاثرین کو ہم نے سب سے پہلے روکنے کے انتظامات کیے، اب مقامی سطح پر وبا پھیلنے سے ہمیں روکنا ہے دریں اثناوزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں ہماری اولین ترجیح کمزور طبقے خصوصاً مزدور، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے جبکہ وزیر اعظم کو بتایاگیا ہے کہ کورنا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں مختلف شعبوں کی سپورٹ کے لئے 1.2 کھرب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا،ان میں سے 25 ارب روپے فوری طور پر این ڈی ایم اے کو جاری کیے گئے،طبی آلات اور طبی عملے کی سہولیات کے لئے پچاس ارب رکھے گئے۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت معیشت اور معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے دئیے جانے والے مالی پیکیج پر عمل درآمد کے بارے میں جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء سید فخر امام، حماد اظہر، عمر ایوب، اسد عمر، مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، چیئرمین این ڈی ایم اے، ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔سیکرٹری خزانہ نے معیشت کے مختلف شعبوں کو دی جانے والی مالی معاونت کی تمام تر تفصیلات اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے اجلاس کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کوکورنا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں مختلف شعبوں کی سپورٹ کے لئے 1.2 کھرب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا،ان میں سے 25 ارب روپے فوری طور پر این ڈی ایم اے کو جاری کیے گئے تاکہ کورونا وائرس کی روک تھام اور مریضوں کی تشخیص و علاج معالجے کے لئے انتظامات کیے جائیں،طبی آلات اور طبی عملے کی سہولیات کے لئے پچاس ارب رکھے گئے،ٹیکس ریلیف خصوصاً خوراک اور صحت سے متعلقہ سامان پر ٹیکسز کی چھوٹ کی مد میں پندرہ ارب روپے رکھے گئے جن میں سے اب تک دس ارب پورے ہو چکے ہیں،دیہاڑی دار مزدروں کو ریلیف کی فراہمی کے لئے دو سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،کمزور طبقوں اور پناہ گاہوں کے لئے ایک سو پچاس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن کا اجراء کیا جا چکا ہے، ان میں سے چھ ارب صرف پناہ گاہوں کے نیٹ ورک میں اضافے کے لئے فراہم کیے گئے ہیں،پٹرول اور ڈیزل کی مد میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ستر ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،یوٹیلیٹی اسٹورز پر عوام کو ارزاں نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لئے پچاس ارب روپے دیے گئے ہیں،گیس اور بجلی کے بلوں کی مد میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے ایک سو ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں،ایکسپورٹرز کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ایک سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر اسٹاک کی پوزیشن، سیل میں اضافے اور ماہ رمضان کے لئے کی جانے والی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں ہماری اولین ترجیح کمزور طبقے خصوصاً مزدور، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پرائم منسٹر ریلیف فنڈ میں دل کھول کر پیسے دیں، پاکستان کو آپ کی امداد کی ضرورت ہے، ٹائیگر فورس کی مدد سے کورونا کے خلاف جہاد میں کامیاب ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے خصوصی پیغام میں فنڈز دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے، جرمنی اور جاپان کی آبادی پاکستان سے آدھی ہے، پاکستان نے اب تک 8 ارب ڈالر ریلیف فنڈز کیلئے جمع کیے، اوورسیز فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں۔عمران خان کا کہنا تھا پاکستان سمیت پوری دنیا پر کورونا کا عذاب آیا ہوا ہے، پہلے ہی حالات اچھے نہیں تھے، ملک میں غربت بڑھ رہی ہے، امریکا نے اپنے عوام کو 2 ہزار 200 ارب روپے کا ریلیف دیا۔وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے سب رقم بھجوائیں۔پیر کوبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان سمیت دنیا میں کورونا وائرس کا عذاب آیا ہوا ہے، اس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے معاشی حالات پہلے ہی ٹھیک نہیں تھے جبکہ کورونا وائرس کے ان اثرات سے یہاں غربت بھی بڑھ رہی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی، وزیراعظم ریلیف فنڈ میں حصہ ڈالیں۔ وزیراعظم سے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ملاقات کی جس کے دوران ملک کی موجودہ صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر بھی موجود تھے۔

لاک ڈاؤن توسیع

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کب ختم ہوگی اس وقت یہ کوئی نہیں بتا سکتا، ٹیلی اسکول چینل کا آغاز بہترین قدم ہے، میرے خیال میں اسے کورونا کے بعد بھی چلنا چاہیے، بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ان کے لیے یہ چینل آگے چل کر بہت فائدہ مند ہوگا۔ٹیلی اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 'کورونا وائرس کی وجہ سے آج وہ حالات ہیں جو ملک نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے، اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جب بچے گھر میں ہیں ٹیلی اسکول چینل کا آغاز بہترین قدم ہے، جبکہ میرے خیال میں اسے کورونا کے بعد بھی چلنا چاہیے۔'انہوں نے کہا کہ 'ٹیلی اسکول چینل سے دور دراز کے علاقے بھی مستفید ہوں گے، کئی ایسے علاقے ہیں جہاں ٹی وی پہنچ گیا لیکن اساتذہ نہیں پہنچے ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ان کے لیے یہ چینل آگے چل کر بہت فائدہ مند ہوگا۔'ان کا کہنا تھا کہ 'میرے آبائی حلقے میانوالی سمیت ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں تعلیم کا معیار اچھا نہیں ہے، اس پروگرام سے ان علاقوں کے گھروں تک تعلیم پہنچے گی، جبکہ موبائل فون کی وجہ سے بڑے بزرگ بھی پڑھنا لکھنا سیکھنا چاہتے ہیں، حکومت اس پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے جو مدد ہوسکی کرے گی۔کورونا وائرس سے متعلق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 'کورونا وائرس کی اس وقت جو صورتحال ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسے ختم ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔'واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور آج مزید کیسز رپورٹ ہونے سے ملک میں متاثرین کی تعداد 5 ہزار 478 جبکہ اموات 95 ہوگئیں۔دنیا بھر میں ساڑھے 18 لاکھ لوگوں کو متاثر اور ایک لاکھ 14 ہزار کے قریب اموات کا سبب بنے والے اس مہلک وائرس کا پاکستان میں اپریل کے ماہ سے مزید تیز ہوگیا ہے۔یکم اپریل سے اب تک نہ صرف ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد دوگنا بڑھی بلکہ اموات میں بھی روزانہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔کورونا وائرس کے تیزی سے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک کے تمام صوبوں اور خطوں میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا اور تمام عوامی مقامات اور اجتماعات پر پابندی لگادی گئی تھی اور لوگوں کو سماجی فاصلہ رکھتے ہوئے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ٹیلی چینل

مزید :

صفحہ اول -