جنوبی ایشیا کی معیشتیں بھرپور طوفان کی زد میں

جنوبی ایشیا کی معیشتیں بھرپور طوفان کی زد میں

  

عالمی بینک نے کورونا وائرس کی وبا کو جنوبی ایشیا کی معیشت کے لئے ایک ”بھرپور طوفان“ کے مترادف قرار دیا ہے بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو شدید کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، رواں مالی سال فی کس آمدنی میں بھی کمی کا امکان ہے جی ڈی پی کی شرح نمو مزید سکڑنے کے بعد منفی 2.2فیصد سے منفی 1.1فیصد ہو سکتی ہے۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں ترسیلات زر میں بھی کمی ہو گی ”ساؤتھ ایشیا اکنامک فوکس“ کے نام سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان کی شرح نمو 0.3سے 0.8فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ اس سے اگلے برس 2022ء میں شرح نمو 3.2سے لے کر 3.3فیصد تک رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں خطے کے دوسرے ملکوں بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، مالدیپ، نیپال اور بھوٹان کی معیشتوں پر بھی کورونا کی وبا کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ابھی تک تو کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کورونا کی وبا کتنا پھیلے یا سکڑے گی اور اگر سکڑے گی تو کب سکڑے گی، وبا پر قابو پانے کے لئے تاحال کوششیں کامیاب بھی نہیں ہو رہیں، بعض ادویات تجربات کے مراحل میں ہیں اگر کسی دوائی سے چند مریض صحت یاب ہو گئے ہیں تو بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آگے چل کر یہ ادویات کتنی موثر ثابت ہوں گی حکومتوں کی تمام تر کوششیں لاک ڈاؤن کے اردگرد ہی گھوم رہی ہیں، امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ساری توجہ آئسولیشن اور سماجی فاصلوں پر ہے جبکہ لاک ڈاؤن اور دوسرے اقدامات کا براہ راست اثر معیشت پر پڑ رہا ہے۔ہر قسم کے کاروبار بند ہو گئے ہیں، پاکستان جیسے ملکوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ جو بسلسلہ روزگار خلیجی ملکوں میں مقیم تھے وہ بھی تہی دست ہو گئے ہیں یہ حکومتیں انہیں اپنے ملکوں کو واپس جانے کے لئے کہہ رہی ہیں سعودی حکومت نے اپنے اقامہ ہولڈروں کو چھ ماہ کی چھٹی دے دی ہے۔ ویسے بھی بیروزگاری کی حالت میں یہ لوگ کتنا عرصہ ان ملکوں میں رہ سکتے ہیں، معمول کے حالات میں یہ لوگ اپنے اہل خانہ کو باقاعدگی سے رقوم بھیجتے تھے یہ ترسیلات زر خاندانوں کی گزر بسر کے ساتھ زرمبادلہ کا بھی بڑا ذریعہ تھیں، پاکستان کی برآمدات کئی سال سے کم ہو رہی تھیں۔ یہ ترسیلات زر اس کمی کے ازالے کا باعث بھی بن رہی تھیں۔ اب یہ سلسلہ بھی رک گیا ہے اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کورونا کے مقابلے کے ساتھ ساتھ ملکوں کو معیشت کا پہیہ رواں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے صنعتوں کی بندش کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہی ہوگا، شرح نمو منفی میں چلی جائے گی اور اگلے دو سال میں بمشکل بحالی کی جانب گامزن ہو گی۔

اس ساری صورت حال کو پیش نظر رکھ کر وزیراعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ اور قرض دار ملکوں سے قرضوں میں ریلیف طلب کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اپنے وسائل کے ساتھ پاکستان بیک وقت قرضوں کی ادائیگی اور کورونا کے ساتھ نہیں نپٹ سکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ ریلیف صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں، دنیا کے باقی غریب ملکوں کے لئے بھی طلب کیا ہے۔ جن ملکوں سے ریلیف طلب کیا گیا ہے وہ خود بھی کورونا سے متاثر ہیں ان میں سے بعض ملک اپنی اندرونی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ غریب ملکوں کی امداد کے پروگرام پر بھی عمل پیرا ہیں، عالمی بینک پاکستان کی بیس کروڑ ڈالر کی امداد کر چکا ہے۔ تاہم قرض دینے والے ملک قرضوں کی واپسی کے ضمن میں ریلیف دینے کا فیصلہ کب کرتے ہیں ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، پوپ فرانسس نے بھی ایسٹر کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اگر قرضے ختم نہیں ہو سکتے تو کم ضرور کئے جائیں۔ انہوں نے تنازعات والے علاقوں میں کشیدگی کم کرنے کی بھی اپیل کی۔

عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے جن ملکوں کی معشیت پر کورونا کے اثرات کا ذکر کیا ہے یہ سب ”سارک“ کے رکن ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ تنظیم مصیبت کی اس گھڑی میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکی اور نہ ہی اس سے کوئی توقع رکھی جا سکتی ہے مالدیپ جیسے ملک تو بہت زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ ان کی آمدنی کا سارا انحصار سیاحت پر ہے اور کورونا نے یہ صنعت بالکل بند کرا دی ہے ائر لائنوں کے جہاز گراؤنڈ ہو چکے ہیں چند خصوصی پروازیں ہی چل رہی ہیں جو پھنسے ہوئے لوگوں کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جا رہی ہیں، بھارت سارک کا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اسے اس تنظیم کو متحرک کرنے کی بجائے کشمیر کی کنٹرول لائن پر گولہ باری ہی سے فرصت نہیں حالانکہ عالمی ادارے اور عالمی شخصیات بار بار اپیل کر رہے ہیں کہ یہ وقت تنازعات کو ہوا دینے کا نہیں ان کے خاتمے کا ہے۔ نریندر مودی سے ان حالات میں کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ جب یورپی یونین جیسی انتہائی کامیاب برادری کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے درست کہا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کے پاس صحت پر خرچ کرنے کے لئے وسائل نہیں، اس لئے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ مدد کب آتی ہے اس کے بارے میں تو کچھ کہنا مشکل ہے لیکن صحت کے جو وسائل پاکستان کو دستیاب ہیں ان کے استعمال میں بھی دانشمندی کا ثبوت نہیں دیا جا رہا۔ وفاقی وزراء کی ایک ٹیم کے ذمے شاید یہی کام ہے کہ وہ سندھ کی حکومت کے لتّے لیتی رہے۔ سندھ اگر ٹیسٹ کٹس کے غیر معیاری ہونے کی شکایت کرے تو اس کے ازالے کی بجائے جواب میں الزام تراشی شروع کر دی جائے، ڈاکٹر اگر حفاظتی سامان مانگیں تو انہیں کہا جائے کہ وہ سیاست کر رہے ہیں جگت بازی اور طعن و تشنیع بھی حسبِ توفیق جاری رکھی جائے یوں لگتا ہے کہ وزیروں کے پاس جلے کٹے بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ایسے میں کورونا کے معیشت پر جو اثرات مرتب ہوئے ہیں انہیں روکنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کہیں نظر نہیں آتیں۔ قرض خواہ ملکوں نے قرضوں میں ریلیف کی کوئی پالیسی بنائی تو وہ صرف پاکستان کے لئے نہیں ہوگی دوسرے ملکوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ویڈیو پیغام کے ذریعے جو اپیل کی ہے سفارتی چینل کے ذریعے بھی متعلقہ ملکوں اور اداروں سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ وزیراعظم نے پاکستان اور غریب ملکوں کے لئے قرضے معافی کی باضابطہ اپیل کر دی ہے تو اس سلسلے کو باضابطہ طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -