ماں کے بعد؟

ماں کے بعد؟
ماں کے بعد؟

  

ننھی پریوں کو کھلونوں سے کھیلتے کس نے نہیں دیکھا؟ آنکھ کی راہ سے دل میں سما جانے والا ایک عجب منظر! یہ گڑیا یہ گڈے کو گود میں بٹھاتی، خوبصورت کپڑے پہناتی، بال سنوارتی اور سینوں سے لگاتی ہیں۔ ایسا طرز سلوک، جیسے اپنی اولاد کے ساتھ روا رکھتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ ازوئے فطرت ایک لڑکی آغازِ عمر میں بھی ذوقِ ممتا رکھتی ہے۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک عورت بیوی کے روپ میں ڈھلتی ہی ماں بننے کے لئے ہے! عورت کا قدرتی روپ صرف ماں ہے، زمین پر رب کا عکس!

وہ شخص بدنصیب ٹھہرا جو خاوند تو بنتا ہے، جذبہء پدری سے لیکن محروم ہے۔ اسی طرح بھلا وہ عورت بھی کوئی عورت ہے جو اپنی فطرت میں ماں نہیں! اس کی کوکھ میں بچہ نہ ہوتو بھی وہ بااولاد ہوتی ہے۔ ماں بنے بغیر ماں! ماں کے موضوع پر ادبی و رمانوی رنگ میں سب سے جاندار کتاب رفیق احمد باجوہ مرحوم لکھ گئے ہیں ”روشن سائے!“ سایہ اور روشن؟ واقعی ماں ایک ٹھنڈا، لیکن روشن سایہ ہوتی ہے!

ہم نے جانا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا ہوئے تھے، جبکہ ماں ان کی بھی تھی۔ مطلب یہ کہ صفحہ ء خاک پر قدرت نے بغیر باپ کے تو ایک انسان کو پیدا کر دیا، ماں کے بناء کوئی نہیں۔ پیغمبر بھی ماں کی گود میں پلتے اور ان کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھتے ہیں۔ حضور پُرنور(ﷺ) نے فرمایا کہ خالق اکبر نے ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے! اے کاش، کبھی کسی کی ماں نہ مرے۔ جب ماں دار بقا کو سدھار جاتی ہے تو بختِ جگر فی الواقع جیتے جی مر جاتے ہیں۔ زندگی کے بغیر زندہ!

یہ ساری باتیں مجھے حیدر علی کی والدہ محترمہ سماجی خاتون مسرت یاسین کے سفر آخرت کا سن کر یاد آئیں۔ موصوف آج کل پی ایس او ٹو سی ایم پنجاب ہیں۔ ان کی مادرِ مہربان،جیسا کہ ہزار لوگوں نے گواہی دی، فقط حقیقی اولاد کے لئے ہی جذبہ ء محبت نہیں رکھتی تھیں، بلکہ ان کا یہ وصف عام تھا۔ہر بے بس و بے کس کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ جب کوئی ایسی ہستی دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو گویا بیسیوں کی مائیں ایک بار پھر داغ مفارقت دی جاتی ہیں۔ پرانے زخم، تازہ!

مرحومہ و مغفورہ کس کس کے لئے ماں کے جیسی تھیں؟ یہ ایک لمبی فہرست ہے، نام گنوانا،مگر اضافی ہے۔اس مرحلے پر صرف ایک دعا ہے کہ خداوند کریم ان کو باغ فردوس میں اعلیٰ مقام اور ان کے پسماندگان و لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ محروم دعا ہو جانے والوں کے لئے اس سے بڑی دعا کیا ہو سکتی ہے! بقول شاعر:

یہ کیسی آب و ہوا ہے، یہ کیا موسم ہے

کہ پھول بھی ہمیں بے رنگ و بو نظر آئے

مزید :

رائے -کالم -