کورونا اور مقصد ِ حیات

کورونا اور مقصد ِ حیات
کورونا اور مقصد ِ حیات

  

دُنیا تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ اچانک کورونا وائرس نے پوری دُنیا پر دہشت طاری کر دی اور انسانوں کو اس سے محفوظ رہنے کا راستہ لاک ڈاؤن میں نظر آیا اور سب کچھ تھم گیا۔ دُنیا بھر میں لوگ گھروں میں مقید ہو گئے۔ سڑکوں پر تیزی سے بھاگتی اور اندھا دھند دھواں چھوڑتی گاڑیاں غائب ہو گئیں۔ فضا بہتر ہونے لگی۔پاکستان کے دل لاہور میں ایئرانڈکس پچاس سے نیچے چلا گیا اور شاید مدتوں بعد اس شہر بے مثال کی فضا کو آکسیجن کے اعتبار سے صحت مند قرار دیا جانے لگا مگر کورونا وائرس کے خطرے نے اس فضا کو خطرناک بنا دیا۔ بہت سے سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی وبا کو دھرتی ماں کے لئے مفید قرار دیا، کیونکہ فضا میں اوزون کی تہہ بہتر ہو رہی ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے آرام کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا اور کثرت کی خواہش نے انہیں غفلت میں ڈال رکھا تھا۔ وہ اب گھروں میں مقید ہیں اور ان کا مقصد حیات صرف اور صرف کورونا سے محفوظ رہنا ہے۔ ٹیلی ویژ

ن بتا رہا ہے کہ لاکھوں افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں،جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ کو ئی نہیں چاہتا کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہو۔ اس صورت حال میں مقصد حیات کا سوال زیادہ شدت سے اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ دُنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کا مقصد حیات صرف زندہ رہنا ہے۔ حالات انہیں کچھ اور سوچنے کی اجازت نہیں دیتے۔ کچھ لوگوں کا مقصد حیات زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنا ہے۔ افریقہ میں ایک قبیلے کے لوگوں کا یقین ہے کہ ان کے دیوتا نے انہیں دُنیا میں خوش رہنے کے لئے بھیجا ہے۔ وہ جہاں پیدائش پر جشن مناتے ہیں وہاں موت پر بھی خوب دھوم دھڑکے کے ساتھ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ اکثر مذہبی لوگوں کا خیال ہے کہ زندگی کا مقصد مذہب کے اصولوں کے مطابق گزارنا ہے، کیونکہ اسی صورت میں انسان سرخرو ہو سکتا ہے۔ ایک دانشور کے مطابق جس طرح انگریزی حروف B اور D کے درمیان C ہوتا ہے اسی طرح زندگی ہے۔ B(Birth) اور D(Death) کے درمیان C(Choice) ہوتا ہے۔ آپ کی زندگی وہی ہوتی ہے کہ آپ پیدائش اور موت کے وقفے کے درمیان اپنے انتخاب کا حق کیسے حاصل کرتے ہیں۔ زندگی کو چار روزہ بھی کہا جاتا ہے۔ بانو قدسیہ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافت زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر سب کچھ بہت اچھا ہو تو سال لمحے معلوم ہوتے ہیں۔ اشفاق احمد ان کی زندگی میں آئے تو اب ان کے جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض چند دن رہے تھے یا ایک دن کے مہمان کی طرح آئے تھے۔

ایک غیر مسلم دانشور کا خیال ہے کہ زندگی کا مقصد کوئی نہیں ہے اور جو مذہبی لوگ زندگی کا کوئی مقصد بتاتے ہیں وہ اکثر انسانیت کو بڑے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق دنیا میں بہت سا خون خرابہ اس لئے ہوا کہ کچھ لوگوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ انہوں نے اپنا نظریہ دنیا پر مسلط کرنا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زندگی کا مقصد اپنے آپ کو بہتر انسان بنانا ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانے کے لئے جدوجہد کرنا ہی مقصد حیات ہے۔ آپ کو اکثر لوگ دوسروں کو یہ مشورہ دیتے ہوئے نظر آئیں گے کہ کوئی مقصد حیات ہونا چاہئے۔ وہ لوگ اگر دیانتداری سے اپنے آپ سے سوال کریں کہ ان کا مقصد حیات کیا ہے تو اس کے جواب میں اکثر ان کی صرف اور صرف کنفیوژن سے ملاقات ہو گی۔

مجھے نیشنل جیوگرافک کی ایک ڈاکومنٹری فلم یاد آ رہی ہے جس میں کچھ سائنسدان تبت گئے تھے۔ ان کی ریسرچ کا مقصد یہ تھا کہ انتہائی بلندی پر زندہ رہنے کے لئے انسانی جسم میں کیسی کیسی تبدیلیاں آتی ہیں؟ انہوں نے دیکھا کہ ان لوگوں کے سانس لینے کے اعضا میں واضح طور پر تبدیلیاں نوٹ کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو زندگی گزارنے کے متعلق مشورے بھی دیئے، مگر پروگرام کے آخر میں ایک سائنس دان خاتون نے دیانتداری سے کہا کہ وہ جب یہاں آئے تھے تو ان کا خیال تھا کہ وہ ان لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلیاں لائیں گے۔ انہیں اچھی زندگی گزارنے کے لئے مشورے دیں گے، مگر چند ماہ یہاں گزارنے کے بعد ان کی رائے تبدیل ہو گئی ہے۔ خاتون سائنس دان کے مطابق اگر انسانی ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ کو خوشی ماپنے کا پیمانہ بنا لیا جائے تو ان لوگوں کے ہونٹوں پر دن میں نیو یارک یا لندن میں رہنے والے لوگوں کی نسبت زیادہ مسکراہٹ آتی ہے اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم انہیں کچھ سیکھا نہیں سکتے، بلکہ زندگی کو خوشی کے ساتھ گزارنے کے لئے ہمیں ان سے کچھ سیکھنا چاہیے۔

بچپن میں ہم نے ایک ایسے بادشاہ کی کہانی پڑھی تھی، جس کا شہزادہ مغموم اور اداس رہتا تھا۔ ایک دانا حکیم نے مشورہ دیا کہ شہزادے کو ایک ایسے شخص کی قمیض پہنائی جائے جو ہمیشہ خوش رہتا ہو۔ پوری سلطنت میں بڑی مشکل سے ایک ایسا شخص مل تو گیا، مگر اس کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ اس کے گلے میں کوئی قمیض ہی نہیں تھی۔

ایک دانشور کا خیال ہے کہ زندگی کا مقصد یہ نہیں ہے کہ مقصد زندگی کی تلاش میں وقت ضائع کیا جائے۔ زندگی کو اچھے انداز میں گزارنا ہی بہترین مقصد حیات ہے۔ دُنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اچھا ڈاکٹر یا انجینئر بننے کو ہی زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ بہت سے لوگ زندگی کی کامیابی بڑی بزنس ایمپائر میں تلاش کرتے ہیں۔ اکثر صوفی زندگی کا مقصد دوسروں کی خدمت کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عبادت کی قضا ہو سکتی ہے، مگر خدمت کی کوئی قضا نہیں ہے۔

آپ انٹرنیٹ پر زندگی کے مقصد کو تلاش کریں تو آپ کی بے شمار جوابوں سے ملاقات ہو گی۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ حقیقی راہنمائی صرف اور صرف قرآن سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے اگر آپ گھر پر ہیں تو قرآن پاک پڑھیں اور پورے یقین اور توجہ سے پڑھیں آپ کو اپنی زندگی کے مقصد کے سوال کا بہت اچھا جواب مل جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -