جہانگیر ترین کی کپتان سے دوری، ملتانی مخدوم کی مراد بر آئی؟

جہانگیر ترین کی کپتان سے دوری، ملتانی مخدوم کی مراد بر آئی؟
جہانگیر ترین کی کپتان سے دوری، ملتانی مخدوم کی مراد بر آئی؟

  

ملتان میں یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ جہانگیر ترین کی وزیر اعظم عمران خان سے دوری پر شاہ محمود قریشی پھولے نہیں سما رہے۔ وہ چند روز پہلے ملتان آئے تو ان کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی کہ اب وہ خود کو سونی گلیوں میں مرزا یار کی طرح پھرتا محسوس کر رہے ہیں حالانکہ کرونا وبا اور لاک ڈاؤن کے دنوں میں شاہ محمود قریشی کو ملتان کی یاد تو اس لئے آئی تھی کہ شہر میں ان کے خلاف بینرز لگ گئے تھے، جن پر لکھا تھا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو اگر ان دنوں میں امداد کی ضرورت ہے تو اپنے حلقے کے ووٹرز سے رجوع کریں تاکہ راشن ان کے گھر پہنچایا جا سکے۔ شاہ محمود قریشی اور ان کے بیٹے زین قریشی چونکہ دونوں ہی ایم این اے اور دونوں ہی لاک ڈاؤن کے بعد سے غائب تھے، اس لئے ان کے خلاف بینرز لگ گئے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ اس کے پیچھے مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کا ہاتھ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن صرف انہی باپ بیٹے پر نہیں بلکہ شہر سے منتخب ہونے والے پی ٹی آئی کے تمام ارکانِ اسمبلی کا تزکرہ کر رہے ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کی طرف مڑ کے بھی نہیں دیکھا۔ اب بھی صرف احساس پروگرام کے بارہ ہزار روپے کی امداد پر یہ لوگ فخریہ انداز میں تصویریں بنا رہے ہیں، حالانکہ انہیں چاہئے کہ اپنی جیب سے حلقے کے عوام میں راشن تقسیم کریں، جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں بیکار بیٹھے ہیں، مگر اس جانب وہ توجہ دینے کو تیار نہیں۔

کہنے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ آج اگر جہانگیر ترین ملتان میں راشن کے تھیلے تقسیم کرنا شروع کر دیں تو شاہ محمود قریشی نہ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہو جائیں گے کہ ایسی امدادی مہم شروع کریں۔ لیکن جہانگیر ترین تو نظر سے غائب ہو گئے ہیں انہیں چینی سکینڈل میں نام آنے پر اپنی پڑ گئی ہے وہ میڈیا پر بیٹھ کر اپنی صفائیاں دے رہے ہیں اپنے خلاف سازش کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اب میرے عمران خان سے پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ انہوں نے اس بات کا اظہار تو کیا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر ایک لابی ان کے خلاف سر گرم ہے۔ لیکن انہوں نے کسی سیاسی بندے کا نام لینے کی بجائے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام لیا ہے۔ بات پارٹی میں مخالفت کی ہو رہی ہے تو سیکرٹری کا ذکر کیسے آ سکتا ہے وہ تو پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ شاید اس موقع پر جہانگیر ترین پارٹی کے موجودہ اپنے مخالفین کو ہلہ شیری نہیں دینا چاہتے وگرنہ کون نہیں جانتا کہ شاہ محمود قریشی کو اس وقت کتنی خوشی ہوئی تھی جب جہانگیر ترین سپریم کورٹ کے حکم سے نا اہل ہوئے تھے۔ ملتان میں ان کے حامیوں نے جشن منایا تھا اور پورے شہر میں ان کے نام کے بینرز لگ گئے تھے۔ پھر کون نہیں جانتا کہ نا اہل ہونے کے باوجود پارٹی اور حکومت میں جہانگیر ترین کی اہمیت پر سب سے زیادہ، اعتراض شاہ محمود قریشی کو تھا گویا وہ عمران پر بھی یہ دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ جہانگیر ترین کو پارٹی اور حکومتی معاملات سے دور رکھیں سب کو وہ میڈیا ٹاک بھی یاد ہے جو شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین کی کابینہ اجلاسوں میں شرکت پر کی اور کہا کہ نا اہل ہونے کے باوجود ان کا کابینہ اجلاس میں بیٹھنا اپوزیشن کو اعتراض و تنقید کے مواقع فراہم کرتا ہے، اس لئے ہم نے احتجاج کیا ہے۔

درمیان میں ایک خبر آئی تھی کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں صلح ہو گئی ہے۔ دونوں نے میڈیا پر اس کا اظہار بھی کیا لیکن یہ کیسی صلح تھی کہ جس نے بعد ازاں ان دونوں کو کبھی اکٹھے بیٹھنے نہیں دیا۔ اگر یہ صلح ہو جاتی تو ملتان میں تحریک انصاف ان دونوں کی وجہ سے جس دھڑے بندی کا شکار ہے، وہ بھی ختم ہو جاتی۔ مگر وہ تو پہلے سے بھی زیادہ زوروں پر ہے۔ پھر سب نے دیکھا کہ جہانگیر ترین پر برا وقت آیا تو شاہ محمود قریشی نے ان کی حمایت میں ایک جملہ تک نہیں کہا۔ ان کے ساتھ اظہار یکجہتی نہیں کیا۔ ایک شخص جو عرصہ دراز سے یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ پارٹی میں اس کی پوزیشن نمبر ٹو ہو جائے، لیکن عمران خان نا اہلی کے باوجود جہانگیر ترین سے یہ پوزیشن واپس لینے کو تیار نہ تھے، آج اگر یہ لگ رہا ہے کہ جہانگیر ترین راستے سے ہٹ گئے ہیں اور عمران خان ان سے دور ہو چکے ہیں تو اس کی خوشی کا کیا ٹھکانہ ہوگا، کوئی اندازہ کر سکتا ہے۔ جہانگیر ترین شاہ محمود قریشی کی طرح جدی پشتی سیاستدان تو نہیں ہیں، البتہ وہ ان سے زیادہ زیرک اور منجھے ہوئے ضرور ہیں۔ اس مشکل صورت حال میں وہ بہت سوچ سمجھ کے قدم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر بہت سے مخالفین کو پریشان کر دیا ہے کہ جو کچھ بھی ہو جائے ان کی وزیر اعظم عمران خان سے دوستی اور وفاداری قائم رہے گی۔

یہ تو میڈیا کے اینکرز اپنے مطلب کی باتیں کہلوانا چاہتے ہیں تاکہ یہ تاثر دے سکیں کہ جہانگیر ترین چاہیں تو کسی وقت بھی عمران خان کی حکومت ختم کر سکتے ہیں۔ مگر جہانگیر ترین ایسا کیوں کریں گے؟ ان کے پاس عمران خان کے سوا کوئی دوسری چوائس ہی نہیں کیونکہ وہ کرپشن کے خلاف عمران خان کی جدوجہد میں ساتھ رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی میں ان کا جانا نا ممکن ہے وہ اپنا علیحدہ گروپ آسانی سے بنا سکتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ اس گروپ کو عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے استعمال کریں۔ انکوائری رپورٹ میں نام آنے کے بعد جہانگیر ترین نے بڑے اہم سوال اُٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سبسڈی تو ہر سال ہر حکومت دیتی رہی ہے اور اس رپورٹ میں بھی بہت سے دوسروں نے سبسڈی لی ہے، پھر سارا نزلہ انہی پر کیوں گرایا گیا ہے؟ انہوں نے 80 شوگر ملز میں سے صرف 9 شوگر ملز کا فرانزک آڈٹ کرانے کے حکم کو بھی چیلنج کیا ہے کہ اس میں کس بنیاد پر 9 کو منتخب اور 71 کو چھوڑا گیا۔ یہ سوالات اٹھا کر وہ در حقیقت یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں تحریک انصاف کے اندر سے ٹارگٹ کیا گیا ہے اور اس گروپ کی سرپرستی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کو جنوبی پنجاب کی آواز سمجھا جاتا ہے۔ دونوں نے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیابی دلانے کے لئے بڑی جدوجہد کی۔ پھر اس موقع پر جہانگیر ترین کو تنہا کیوں چھوڑ دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف میں جنوبی پنجاب صوبے کے گروپ کو جس کی سربراہی خسرو بختیار کر رہے تھے، تحریک انصاف میں جہانگیر ترین لائے تھے۔ نام تو رپورٹ میں ان کا بھی ہے، انہیں ایک وزارت لے کر دوسری دے دی گئی۔ لیکن کپتان سے دوریاں صرف جہانگیر ترین کی پیدا کی گئیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اس کھیل میں ملتانی مخدوم کا کتنا ہاتھ ہے، یہ عقدہ ابھی نہیں کھلا، شاید 25 اپریل کے بعد کھل جائے۔

مزید :

رائے -کالم -