زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……(2)

زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……(2)
زندگی کی رفتار کتنی تیز ہو چکی ہے……(2)

  

اقبال کی یہ غزل ”زبورِ عجم“ میں ہے جو 1927ء میں اقبال کی وفات سے 11سال پہلے شائع ہوئی اور جس کے بارے میں خود اقبال نے بال جبریل میں کہا:

اگر ہو ذوق تو خلوت میں پڑھ زبورِ عجم

فغانِ نیم شبی، بے نوائے راز نہیں

بال جبریل 1935ء میں یعنی زبورِ عجم کی اشاعت سے آٹھ برس بعد شائع ہوئی۔ یہ زبورِ عجم، اقبال کی فارسی غزلیات کا مجموعہ ہے۔ ان فارسی غزلوں میں نہایت ارفع درجے کے رنگِ تغزل کے علاوہ موضوعات کی اتنی رنگارنگی ہے کہ قاری کو فارسی کے تقریباً سارے معروف غزل گو اساتذہ کے دواوین یاد آتے ہیں اور ساتھ ہی اقبال کی ہمہ جہت انفرادیت پر بھی قلب و نظر جھوم جھوم جاتے ہیں۔

کرونا وائرس کے موجودہ دورِ پُرآشوب میں کہ جس میں زندگی کی ارزانی اس زندگی کا ایک نیا روپ دکھاتی ہے اور حضرتِ انسان کی اس فکرِ نارسا کو مہمیز کرتی ہے جو نجانے کتنی صدیوں سے پروان چڑھ کر اور ارتقائی ادوار سے گزر کر ابھی چار ماہ پہلے تک ہمیں نظر آ رہی تھی۔ تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ زندگی کا ایک ذرۂ حقیر بڑی خاموشی سے لاکھوں انسانوں کو نگلنا شروع کر دے گا۔کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آنے والے ماہ و سال میں دنیا کی یہ شکل و صورت اتنی اجنبی اور اتنی مختلف ہو جائے گی کہ اس کا کوئی ہلکا سا تصور بھی مستقبل کے فکر انسانی کے محیط میں نہیں آ سکے گا۔ اب تک شرق و غرب اور شمال و جنوب سے جو اشاریئے اس وائرس کے نتائج کے، دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں ان پر نہ صرف یہ کہ یقین نہیں آتا بلکہ انسانی ایقان کے سارے حصنِ حصیں مسمار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

ہمیں معلوم ہے کہ تخلیقِ کائنات کے بارے میں اب تک دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ روحانی یا آسمانی تھیوری ہے جسے قرآن میں ”کُن فیکون“ سے عبارت فرمایا گیا ہے۔ یعنی اللہ نے صرف کُن کہا (یعنی ہوجا) اور فیکون(پس وہ ہو گیا) ہم مسلمانوں کا ایمان بھی اسی تھیوری پر استوار ہے اور مسلمان کسی بِگ بینگ (Big Bang) جیسی خرافات سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا۔ اور دوسری وہ مادی تھیوری ہے جو چارلس ڈارون (1809ء۔1882ء) کے نظریہ ء حیات کی تھیوری ہے۔ یہ تھیوری گویا ایک اتنی پیچیدہ اور ضخیم کتاب ہے کہ جس کے پیش لفظ کا خلاصہ بھی اس کالم میں سمویا نہیں جا سکتا۔ تاہم اب اس کرونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ دیکھتے ہوئے بعض حلقے یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ یہ وائرس ”کُن فیکون“ کی تھیوری کو گویا عقبی موڈ (Reverse Mode) میں ڈال رہا ہے اور سوال کر رہا ہے کہ کرونا وائرس کا یہ ”تماشا“ کیا اس ریورس موڈ کی ابتدا ہے؟…… اللہ مجھے معاف کرے، مجھے اس سوال کا جواب نفی کی بجائے اثبات کی طرف زیادہ گامزن معلوم ہوتا ہے۔

لیکن دوسری طرف میرا یہ ایمان بھی ہے کہ یہ کرونا وائرس ایک عارضی وقفہ ہے اور یہ انسانی زندگی کو پیچھے کی طرف نہیں لے جا سکتا۔ انسان کو اگر اشرف المخلوقات کہا گیا ہے تو یہ ذرۂ ناچیز (وائرس) آج نہیں تو کل غائب ہو جائے گا۔ البتہ یہ ایک ہنگامی وارننگ ہے کہ انسان جس زندگی کو اتنا عزیز گردان رہا ہے وہ کتنی سستی اور کتنی ناپائیدار ہے۔ انسانی زندگی کے شرف پر سارا قرآن گواہی دے رہا ہے لیکن جہاں یہ حضرتِ انسان اشرف ترین ہے وہاں ارذل ترین بھی ہے۔ انسان اپنے ارذل ترین ہونے کے سٹیٹس کو فراموش کر بیٹھا تھا، اس لئے اسے یاد دلایا جا رہا ہے کہ جہاں اپنی بلندی اور رفعت پر اِترائے وہاں اپنی پستی اور گراوٹ کو بھی نہ بھولے۔

اس حوالے سے اقبال کی جو غزل مجھے رہ رہ کر یاد آ رہی ہے اور کرونا وائرس کے مستقبل کو تاریک دیکھ رہی ہے اس کو قارئین بھی ذرا دیکھ لیں۔دنیا کے کسی بھی لسانی ادبیات میں خالق و مخلوق کا وہ تصور (Concept) پیش نہیں کیا گیا جو اقبال نے اس غزل میں ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس غزل کا فارسی متن (Text) بھی دیکھ لیں …… ترجمہ تو میں نے ہر شعر کے نیچے لکھ ہی دیا ہے:

ما از خدائے گم شدہ ایم او بجستجوست

چوں ما نیاز مند و گرفتارِ آرزوست

]خدا ہمیں گم کر بیٹھا ہے اور اب ہماری تلاش میں ہے۔ اب گویا وہ ہماری طرح نیاز مند بھی ہے اور گرفتارِ آرزو بھی[

……………………

گاہے یہ برگِ لالہ نویسد پیامِ خویش

گاہے درونِ سینہ ء مرغاں، بہ ہاؤ ہوست

]کبھی لالہ کے پھول کی پتی پر اپنا پیغام لکھ دیتا ہے کہ میں یہاں ہوں اور کبھی باغ میں صبح کے وقت جو پرندے چہچہاتے ہیں ان کے سینے میں اپنی موجودگی کا سراغ دیتا ہے)

درنرگس آرمید کہ بیند جمالِ ما

چنداں کرشمہ واں کہ نگاہش بہ گفتگوست

]کبھی نرگس کی آنکھ میں آ بیٹھتا ہے اور مسلسل محوِ انتظار رہتا ہے کہ شائد کوئی انسان نظر آ جائے…… یوں وہ نرگس کی آنکھ میں بیٹھا نگاہوں ہی نگاہوں میں ہم سے ہمکلام ہونے کا آرزو مند ہے[

……………………

آہے سحر گہے کہ زند در فراقِ ما

بیرون و اندروں، زبر و زیر و چار سوست

]یہ جوہر صبح ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں تو یہ گویا خدا کی ٹھنڈی آہیں ہیں جو وہ ہماری جدائی میں صبح و شام دائیں بائیں چار سو بھرتا رہتا ہے[

……………………

ہنگامہ بست از پئے دیدارِ خاکئے

نظّارہ را بہانہ تماشائے رنگ و بوست

]اس آدمِ خاکی کو دیکھنے کے لئے اس نے کیا کیا ہنگامے کھڑے نہیں کئے اور یہ جو رنگ و بو کے جلوہ زار پیدا کر دیئے ہیں تو یہ سب ہمیں دیکھنے کے بہانے ہیں [

……………………

پنہاں بہ ذرہ ذرہ و ناآشنا ہنوز

پیدا چو ماہتاب و بآغوشِ کاخ کوست

]وہ ذرہ ذرہ میں مستور ہے۔ لیکن پھر بھی ہمیں پا نہیں سکا اور ہم سے ناآشنا ہے۔ وہ کبھی چاند میں آ بیٹھتا ہے اور کبھی محلوں اور گلیوں کی آغوش میں چھپ جاتا ہے[

…………………………

در خاکدانِ ما گہرِ زندگی گم است

ایں گوہرے کہ گم شدہ ء مائیم یا کہ اوست؟

]یہ ہماری دنیا جو خاکدان کہی جاتی ہے۔ اس میں کہیں زندگی کا موتی گم ہو گیا ہے۔ اب تم خود ہی سوچو کہ یہ گمشدہ گہر ہم ہیں کہ خدا ہے[

…………………………

قارئین گرامی! یہ بظاہر سات شعروں پر مشتمل ایک مختصر سی غزل ہے لیکن اپنے مفہوم کی گہرائی اور وسعت کے تناظر میں ایک نہائت انقلابی غزل ہے۔ علمائے ظاہربیں بڑی آسانی سے صرف ایک غزل کی بنیاد پر اقبال کے خلاف بڑے سا بڑا فتویء کفر لگا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی ابہام بھی نہیں۔ بڑے صاف اور سیدھے سادے الفاظ ہیں۔ لیکن اگر اس کا بغور مطالعہ کریں تو اقبال کا مدعا اس غزل سے انسان کی اُس کم وقعتی اور بے قدری کا ابطال ہے جو آج کے کرونا وائرس میں موت کی ارزانی میں نظر آتا ہے اور بعض خود ساختہ علماء اور ناسمجھ ملاؤں نے سوشل میڈیا پر عام کر رکھا ہے۔ ان ملاؤں کا ادعا ہے کہ انسان محض ذرۂ ناچیز اور بے اختیار ہے اور اس کا وجود گھاس کے تنکے کے برابر بھی نہیں۔

صوفیا کے ہاں یہ تصور عام ہے کہ خدا کو ڈھونڈو، وہ گم ہو گیا ہے۔ ہم خدا کو بھلا بیٹھے ہیں اس لئے وہ ہمیں بھی ہمیں بھلا رہا ہے۔ وہ ہم سے ناراض ہے، روٹھا ہوا ہے، اسے منالیں تو اسی میں ہماری عافیت ہے وغیرہ وغیرہ …… لیکن اقبال نے ان علماء و صوفیاء کے برعکس یہ لائن اختیارکی ہے کہ خدا خود انسان کی تلاش میں ہے اور مختلف روپ دھار کر انسان کو ڈھونڈ رہا ہے…… انسانی عروج کی کوئی حد نہیں۔ عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں …… والا تصور کلامِ اقبال میں جابجا ملتا ہے۔ میں اقبال کی خودی اور بے خودی کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، اپنے قارئین کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہ کرونا وائرس اللہ کریم کی نشانیوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ شائد وہ ذاتِ واحد و لاشریک انسان کو زیادہ پختہ کار بنانا چاہتی ہے۔ وہ اپنی ہی تخلیق کو کیسے مٹا سکتی ہے؟…… ہاں جب مٹائے گی تو اس کی نشانیاں قرآن و احادیث میں جابجا ملتی ہیں۔ انسان فی الحال بڑی تیزی سے اپنے عروج کی طرف گامزن ہے لیکن یہ کرونا وائرس ابھی اس عروج کی شروعات ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کل کلاں اس وائرس کی ویکسین دریافت اور تیارکر لی جائے گی اور یہ ویکسین انسانی صحت کی دائمی پختگی کی دلیل اور اس ناپختگی کا علاج ہو گی جو آج مشرق و مغرب میں انسانی صحت کو لاحق ہے۔ فطرت نے انسان کا امیون سسٹم (Immune System) زیادہ پختہ کار اور دائمی بنانا ہے۔ اس لئے اس پراسس میں اگر دنیا کی سات ارب کی انسانی آبادی میں سے سات لاکھ انسان مار دیئے جائیں تو یہ ورلڈ ہیلتھ لیبارٹری میں ایک نیا خدائی تجربہ (Experiment) ہوگا۔…… اور یہ شرفِ انسانی کے اوج کی طرف ایک اگلا اقدام بھی ہوگا۔ اس میں اگر ناکامی ہوئی تو انسان اپنے ارزل ترین ہونے کا ثبوت دے گا جو اللہ کے وعدوں میں سے ایک خدائی وعدہ بھی ہوگا جس کی تکمیل انسان شائد کرونا وائرس کی شکل میں دیکھے گا۔

مزید :

رائے -کالم -