چینی مافیا بے نقاب

چینی مافیا بے نقاب

  

اب سے چند روز بعد یعنی 25اپریل کو چینی سکینڈل کی فرانزک رپورٹ سامنے آجائے گی جس کے بعد اس سکینڈل میں ملوث ایسے کئی نام بے نقاب ہو جائیں گے جنہوں نے اپنے بنک اکاؤنٹس میں اربوں روپے شامل کر کے عوام کے حق پر ڈاکہ مارا اور اس کے ساتھ پارٹی ڈسپلن اور ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا۔موجودہ حالات کی جانب اگر نظر دوڑائی جائے تو پوری دنیا اس وقت کورونا جیسے مہلک اور جان لیوا وائرس سے جنگ لڑتی دکھائی دے رہی ہے اس کے بر عکس پاکستان میں حالات خاصے گھمبیر ہو رہے ہیں ایک ملک میں کورونا وباء سے نمٹنا حکومت کے لیے چیلنج سے کم نہیں دوسرا وزیر اعظم عمران خان کے سب سے قریبی دوست اور ساتھی جہانگیر ترین کا چینی سکینڈل میں نام آنا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے یہ اٹل فیصلہ کر لیا ہے کہ اس سکینڈل کے ذمہ داروں کو منفی انجام پہنچا کر ہی دم لیں گے چاہے انہیں کسی بھی قسم کا نقصان برداشت کرنا پڑے انہوں نے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کا پلان مرتب کر لیا ہے۔اس حوالے سے یہی بات سامنے آرہی ہے کہ اس ماہ آنے والی فرانزک رپورٹ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گی۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور پارٹی کے سینئر رہنماء جہانگیر ترین میں اختلافات کی خبریں زد عام ہیں اور اس حوالے سے ایک نام جو سب سے زیادہ سامنے آرہا ہے وہ نام ہے اعظم خان کا۔اعظم خان کون ہیں؟اور کیا وہ اختلافات پیدا کر سکتے ہیں؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آپ کو ضرور معلوم ہونے چاہیے۔اعظم خان اس وقت وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہیں اور وہ پاکستان ایڈمنسڑیٹیو سروس گروپ کے افسر ہیں۔ ضلع مردان کے علاقے رستم میں پیدا ہونے والے اعظم خان کا تعلق ایک بڑے زمیندار گھرانے سے ہے۔انہوں نے برن ہال کالج ایبٹ آباد سے تعلیم حاصل کی اور سول سروس کے امتحان میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے کے بعد متعدد اہم پوزیشنز پر تعینات رہے۔ اپنی سروس کا زیادہ تر عرصہ اعظم خان نے صوبہ خیبر پختونخوا میں گزارا۔ وہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پولیٹکل ایجنٹ بھی رہے اور پشاور کے کمشنر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔صوبے کے مختلف محکموں میں جوائنٹ سیکرٹری، ایڈشنل سیکرٹری کے طور پر کام کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے پچھلے دور حکومت میں اعظم خان صوبائی چیف سیکرٹری کے عہدے تک پہنچے جہاں صوبائی حکومت کے اہم اجلاسوں میں شرکت کرنے والے پارٹی چیئرمین عمران خان کی نظر انتخاب ان پر ٹھہری۔سینیئر بیورو کریٹ کا کہنا تھا کہ اعظم خان بیوروکریسی کو سمجھتے ہیں اور معاملات کو بہتر طریقے سے چلانے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔تاہم نیب کے مالم جبہ ریزورٹ لیز کیس میں ان کا نام بھی لیا جاتا ہے اور اس کیس میں وہ نیب کے دفتر میں پیش بھی ہو چکے ہیں۔نیب کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں لیز پالیسی تبدیل کرکے محکمہ جنگلات کی 270 ایکڑ زمین لیز پر دے دی گئی جو قواعد کی خلاف ورزی ہے تاہم اعظم خان اپنے خلاف الزامات کی مکمل تردید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کا اس سکینڈل سے کوئی تعلق اس لیے نہیں بنتا کہ متنازعہ ٹھیکہ دیے جانے کے بعد ان کی متعلقہ محکمے میں تعیناتی ہوئی تھی۔بظاہر پریشر اعظم خان پر بھی ہے پر بھی ہے کیونکہ وہ اس وقت وزیر اعظم پاکستان کے پریسپل سیکرٹری بھی ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کرپٹ عناصر کو پسند نہیں کرتے۔ان کی سیاسی مجبوری ہے کہ ان کے ارد گرد کرپٹ عناصر نے گھیرا ڈال رکھا ہے لیکن وزیر اعثظم عمراں خان کسی بات کی پرواہ کئے بغیر اپنے ارد گرد کرپٹ عناصر کے لئے فوری طور پر ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے یہ کرپٹ عناصر ٹولہ بہت جلد بے نقاب ہو جائے گا۔اس ساری صورتحال کے بعد اعظم خان پر تنقید یا انہیں ان سارے معاملات میں شامل کرنا وقت ضائع کرنے والی بات ہے کیونکہ اعظم خان اپنی شخصیت اور قد کاٹھ کے حوالے سے خاصے مشہور ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہو کر ان کا کیرئیر داؤ پر لگ سکتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں کبھی بھی کمپرومائز کو ترجیح نہیں دیا۔

مزید :

رائے -کالم -