ڈاکٹراسراراحمدؒ:شخصیت و خدمات

ڈاکٹراسراراحمدؒ:شخصیت و خدمات
 ڈاکٹراسراراحمدؒ:شخصیت و خدمات

  

ڈاکٹراسراراحمدؒ نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ عالم اسلام کیایک معتبرومعروف مذہبی سکالرتھے۔ آپ اسلام کے سیاسی،معاشی اور معاشرتی نظام پر ایک اصولی اورجاندارموقف رکھتے تھے۔آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھرمیں آپ کے چاہنے والوں،متاثرین اورشاگردوں کی بڑی تعداد اسلام اورقرآن کریم کی خدمت میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔

ڈاکٹراسراراحمدؒ قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان تشریف لائے- میٹرک کے امتحان کے بعد آپ اپنے بھائی کے ساتھ مل کرمولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے جاری کردہ مجلہ ماہنامہ ترجمان القرآن میں شائع شدہ سورہ یوسف کی تفسیر کا مطالعہ کیا کرتے تھے، جس سے انہیں قرآن پاک سے خصوصی قلبی لگاؤ پیدا ہوا۔آپنے میڈیکل کی تعلیم کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہورسے حاصل کی اورابتدائی دور میں ہی اول اسلامی جمیعت طلبہ اوربعدازاں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم آپ نے نظریاتی و اصولی اختلاف کی بناپر جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کرلی اورانیس سو پچھتر میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی۔آپ نے کچھ عرصہ میڈیکل کے شعبہ میں کام کیا، بعدازاں آپ نے اپنی پوری زندگی قرآن کی دعوت کوعام کرنے کے لیے وقف کردی۔ڈاکٹراسراراحمدؒ نے امت کے قرآن حکیم کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے 1972ء میں لاہورمیں مرکزی انجمن خد ام القرآن کی بنیاد رکھی۔ اس انجمن خدام القرآن کی اندرون ملک کئی شاخیں قائم ہیں، جن میں سے ایک انجمن خدام القرآن سندھ(کراچی) بھی ہے۔

ڈاکٹر اسراراحمدؒ بہت سے سادہ زندگی بسرکیا کرتے تھے،قرآن اکیڈمی،لاہورسے ملحقہ ایک چھوٹے سے گھر میں آپ کا قیام تھا۔آپ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے دورمیں مختصرمدت کیلئے ان کی منتخب کردہ مجلس شوریٰ کے ممبر بھی رہے۔آپ نے اندرون و بیرون ملک بے شماردروس و لیکچرز دیے، تاہم پی ٹی وی پرآپ کے پروگرام "الہدیٰ"کو عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ملک بھر میں لوگ بڑے شوق سے یہ پروگرام دیکھتے تھے۔آپ کو تاریخ اور فلسفے پر بھی بڑاعبورحاصل تھا،آپ بیشمار کتب کے مصنف تھے۔ہفت روزہ ندائے خلافت،ماہنامہ میثاق اور سہ ماہی حکمت قرآن کے نام سے مقبول جرائد بھی آپ کی زیرسرپرستی شائع ہوتے رہے۔جن کی اشاعت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ 2004 میں مجھے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا ایک لیکچر حضورؐ بحیثیت داعی انقلاب سننے کا موقع ملا اوربیشمارعلمی نکات کی وضاحت سادہ الفاظ میں سننے کو ملی۔آپ مغربی مفکرین فرائیڈ اورکانٹ کے فلسفے سے بخوبی آگاہ تھے۔آپ مصر کے عالمی شہرت یافتہ قاری عبدالباسط عبدالصمد کی تلاوت بے حد پسند کرتے تھے۔آپ مفکراسلام ومبشرپاکستان علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال کی شاعری سے بہت متاثر تھے اوران کے اشعار کو بکثرت اپنے دروس و تقاریر کی زینت بناتے تھے۔آپ آخرت کی کامیابی کو ہی اصل کامیابی گردانتے تھے اوراس میں آپ کے پیش نظر سورۃ العصر کی جامع شرح تھی۔آپ فرمایاکرتے تھے کہ قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے میں اس کی اصل عظمت کا راز مضمر ہے۔اس لیے کہ کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے۔اوراس میں متکلم کی پوری شخصیت ہویدا ہوتی ہے۔چنانچہ آپ کسی بھی شخص کا کلام سن کر یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسکے علم اور فہم و شعور کی سطح کیا ہے۔درحقیقت قرآن اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کا مظہرہے۔اسی حقیقت کو علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے خوبصورت اندازمیں بیان کیا ہے۔

فاش گویم آنچہ در دل مضمر است

ایں کتابے نیست،چیز یدیگر است

مثل ِحق پنہاں و ہم پیداست ایں!

زندہ و پائندہ و گویا ست ایں!

آپ ہرمجدون(Armageddon)کے واقعہ کو تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کرتے تھے۔سود کے سخت خلاف تھے۔خواتین کے اسلامی پردے کے قائل تھے۔آپ کی تقاریرآڈیواوروڈیو کیسٹس میں دستیاب ہیں۔آپ کا اندازِ بیان بڑا پراثرتھا۔ اورآپ کی محفل میں موجود لوگ اپنی اپنی طلب اور صلاحیت کے مطابق ضرورفیض یاب ہوتے تھے۔ان کی اعلی خدمات کے صلے میں ان کو 1981 میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازہ گیا۔

میرے خیال میں ڈاکٹر اسراراحمد ؒ کی سب سے اہم کاوش تفسیر بیان القرآن ہے-جس کی پہلی جلد(تعارف تدوین قرآن پاک،سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ) ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ہی مرتب ہو گئی تھی، باقی جلدیں ان کی تقاریر سے مرتب کی گئی ہیں۔سات جلدوں پر مشتمل یہ تفسیرضروری نقشہ جات اورحاشیوں کے ساتھ موجودہ دور کی مقبول ترین تفسیر ہے۔جس کی جلدوں کا سیٹ کئی لوگ تحفے کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔جیسا کہ سعودی عرب کی حکومت حجاج کرام کو واپسی پر قرآن پاک کا تحفہ دیتی ہے۔بیان القرآن میں تعارفِ قرآن کے ضمن میں ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ انسانی علم کے تین دائرے ہیں۔ایک علم بالحواس، دوسرا علم بالعقل تیسرا علم بالقلب، جس کے لیے پہلے وجدان(Intuitionکا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ایک دوسری جگہ وہ مائیکل ہارٹ کی کتاب (The 100سے حضرت محمد ؐ کی بابت بیان کرتے ہیں۔

He was the only man in History who was Supremely Successful on both the Religious and Secular Levels

آپ رمضان المبارک میں نماز تراویح میں پڑھی جانے والی آیات کی تفسیربیان کیا کرتے تھے۔ایک مختصرمضمون میں آپ کی شخصیت،علمی وادبی خصوصیات اورقرآنی خدمات کا احاطہ بہت مشکل ہے -آپ کی شخصیت پر کئی کتب اورمقالے لکھے جا چکے ہیں۔ڈاکٹر اسراراحمدؒ نے ارسطو کے استخراجی منطق (Deductive Knowledge) اور قرآن کے استقرائی منطق (Inductive Knowledge)کا جائزہ بھی لیا ہے۔ایک اورمقام پر آپ بیروں بیں (Extroverts)،دروں بیں (Introverts) اور متوازن شخصیت (Ambiverts)کے حامل لوگوں کا ذکر کرتے ہیں۔سورۃ الحدید سے ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کو خصوصی محبت تھی۔اور وہ اس کی تفسیربیان کرتے ہوئے ایک خاص روحانی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے تھے۔اس سورت کی ترتیب اور تدوین کے بعد اسے کتابی شکل بعنوان"امّ المسبّحات " مکتبہ خدام القرآن لاہور نے شائع کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے انگریزی زبان میں بھی لیکچرزریکارڈ کروائے اورآپ کی بے شمار کتب کا انگریزی زبان میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ تاکہ بین الاقوامی سطح پر قرآن کی تعلیم اوراس کا عالمگیر پیغام پہنچ سکے۔ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے وحدت الوجود، وحدت الشہود،علم الکلام اور دیگراہم اسلامی موضوعات پربھی اپنی تقاریراورتصانیف میں بخوبی اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد14 اپریل 2010 کو تقریباً 78 سال کی عمر میں لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مگرآپ کا مشن جاری ہے،اور اس میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔آپ تقریباً 60 سال تک قرآن اور اسلام کی خدمت کرتے رہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بقول ڈاکٹر اسراراحمدؒ اردو زبان کے سب سے بڑے مفسّر قرآن تھے۔آج جبکہ آپ کواس دارِفانی سے رخصت ہوئے تقریباً دس سال کا عرصہ ہو گیاہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے کے تمام حلقوں بالخصوص علمی اوردینی حلقوں میں آپ بڑی قدر کی نگا ہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ڈاکٹر اسراراحمدؒ کی فکرزندہ ہے اورتاقیامت زندہ رہے گی۔بقول علامہ اقبالؒ

آسمان ہو گاسحر کے نور سے آئینہ پوش

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائیگی

پھر دلوں کو یاد آئے گاپیغام سجود

پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی

مزید :

رائے -کالم -