کرونا سے دفاع کی ذمہ داری حکومت نہیں پوری قوم کی ہے،اسد عمر

        کرونا سے دفاع کی ذمہ داری حکومت نہیں پوری قوم کی ہے،اسد عمر

  

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ کرونا کے دفاع میں ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے، پابندیوں پر 100 فیصد عمل در آمد نہیں کیا گیا لیکن بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم نے ذمہ داری کامظاہرہ کیا، لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے لیے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بندشیں ختم کرنے کے حوالے سے فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا۔وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں کورونا وائرس سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا 'کل نیشنل کمانڈ سسٹم کا ایک اجلاس ہوگا جس میں تجاویز پر غور کیا جائے گا'۔اسد عمر نے کہا کہ 'نیشنل کمانڈ سینٹر کے اجلاس کے بعد آج دوپہر کو وزیراعظم کی صدارت میں این سی سی کا اجلاس ہوگا جس میں فیصلے کیے جائیں گے کہ 15 تاریخ سے آگے کیا کرنا ہے'۔اس اجلاس میں معیشت سے جڑے معاملات، آمد و رفت کے ذرائع اور صحت سے جڑے معاملات پر غور کیا جارہا ہے اور ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے مربوط انداز میں فیصلے کیے جائیں گے'۔انہوں نے کہا کہ 'این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے اجلاس کو ٹیسٹ کٹس اور کورونا کے علاج اور دفاع کے لیے ضروری اشیا کی فراہمی کے حوالے سے آگاہ کیا جس پر صوبوں نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا'۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'کرونا کے دفاع میں ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے، پابندیوں پر 100 فیصد عمل در آمد نہیں کیا گیا لیکن بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم نے ذمہ داری کامظاہرہ کیا'۔اسی وجہ سے ہمارے ہاں نتائج بھی آئے ہیں جس دنیا میں خصوصی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں کورونا جس تیزی سے پھیلا اور اموات ہوئی ہیں اللہ کے فضل سے ہم اس خراب صورت حال کے اندر نہیں آئے ہیں '۔اس کی ایک وجہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات بھی ہیں اور پاکستانی قوم کی جانب ذمہ داری کا مظاہرہ بھی ہے'۔'کاروباری افراد کہہ رہے ہیں جو حفاظتی اقدامات کرنے ہیں ہمیں بتائیں تاکہ ہم اپنا کاروبار چلائیں اور عمومی طور پر ہم اس سے اتفاق بھی کرتے ہیں کھولیں تاہم کل اس حوالے سے صوبوں سے مشاورت سے فیصلے کیے جائیں گے' انہوں نے کہا کہ 'ہماری استدعا بھی ہے اور غور بھی ہورہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی قانون بنانے کی ضرورت پڑی تو قانون بھی بنایا جائے

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹریکنگ پر بھی اچھا کام ہورہا ہے اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے پائلٹ پروجیکٹ کی بات کی تھی وہ تمام صوبوں میں شروع کردیا گیا ہے جس کے نتائج اگلے 2 کے اندر آئیں گے اور قرنطینہ کے حوالے سے بھی کام کررہے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے 4 صوبوں اور اسلام آباد میں کام کررہے ہیں۔مقامی سطح پر وبا پھیلنے کی شرح اب 50 فیصد سے بڑھ گئی جس کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں

اسد عمر،ڈاکڑظفرمرزا

مزید :

صفحہ آخر -