موبائل فون کے استعمال سے نا آشنا مزدوروں کا احساس پروگرام سے محروم رہ جانے کا امکان

  موبائل فون کے استعمال سے نا آشنا مزدوروں کا احساس پروگرام سے محروم رہ جانے ...

  

لاہور(لیاقت کھرل)موبائل فون کے استعمال سے نا آشنا مزدوروں کاحکومتی احساس کفالت پروگرام سے محروم رہ جانے کا امکان،پہلے مرحلہ میں ہزاروں دیہاڑی دار اور مزدوروں کو امدادی رقوم کے سرکاری پیغامات نہ مل سکے، ماہ رمضان کی آمد پر دیہاڑی دار طبقہ میں بڑے پیمانے پر تشویش پائی جانے لگی، احساس کفالت پروگرام کا نئے سرے سے سروے اور بجلی، پانی اور گیس کے بل معاف کرنے کا مطالبہ۔روزنامہ پاکستان نے وزیراعظم پاکستان کے احساس کفالت پروگرام کے تحت لاک ڈاؤن کی زد میں آنے والے عام شہریوں، دیہاڑی دار طبقہ اور مزدور کا ایک بہت بڑا حصہ مالی امداد محروم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ روزنامہ پاکستان کی تحقیقاتی رپورٹ میں مزدور رہنماؤں، مزدور تنظیموں سمیت دیہاڑی دار طبقہ نے انکشاف کیا کہ کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے ملک بھر میں ایک کروڑ 80لاکھ سے زائد افراد کاروزگار متاثر ہوا ہے۔ اور اس میں 90فیصد دیہاڑی دار طبقہ، روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں سمیت فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت دکانوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی ہے۔ جبکہ ڈیلی ویجز اور ورک چارج کی بنیادوں پر کام کرنے والے مزدور الگ ہیں۔ مزدور تنظیموں کے رہنماؤں کے مطابق کرونا وائرس سے بے روزگار ہونے والے پونے دو کروڑ سے زائد مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ میں سے اکثریت جدید ٹیکنالوجی سے ناآشناء ہونے پر احساس کفالت پروگرام سے محروم رہ جائے گی کیونکہ 30فیصد مزدور اپنا اندراج ہی نہیں کراسکے جبکہ صنعتوں، فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت ورکشاپوں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس سمیت دکانوں پر روزانہ کی اجرت اور 90روز کے لیے مزدوری کرنے والے 70فیصد محنت کشوں کا ریکارڈ حکومت کے پاس نہیں۔ جس میں محکمہ لیبر لاہور سے صرف اڑھائی ہزار جبکہ پنجاب بھر سے 11لاکھ مزدوروں کا ریکارڈ سوشل سکیورٹی پنجاب کو فراہم کرسکا،علاوہ ازیں احساس کفالت پروگرام کے پہلے مرحلہ میں لاکھوں مزدوروں کو امدادی رقم کے پیغامات موصول نہیں ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم کے احساس کفالت پروگرام میں سیاسی رہنماؤں اور کوآرڈی نیٹر کی جانب سے دی گئی لسٹوں میں شامل زیادہ تر افراد کو امدادی رقوم ملنے لگی ہیں۔جس پر لاکھوں مزدوروں اور دیہاڑی دار طبقہ میں بڑے پیمانے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مزدوروں کا موقف ہے کہ رمضان المبارک کی آمد آمدہے، گھروں کے خرچے تین گناہ بڑھ جائیں گے۔لہٰذا حکومت کو چاہئے موجودہ صورتحال کے پیش نظرحکومت کو نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔مزدوروں نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ احساس کفالت پروگرام کے لیے نئے سرے سے سروے کروایا جائے اور امدادی رقوم تک اْن کی بھی رسائی کو ممکن بنایا جائے،سکولوں کی فیسیں بجلی اور گیس کے تین ماہ کے بلوں کو معاف کیا جائے۔

امکان

مزید :

صفحہ آخر -