وزیراعلی کی قیادت میں تمام ایم پی ایز کوکرونا وباء کیخلاف لڑنا ہوگا: ضیاء اللہ بنگش

وزیراعلی کی قیادت میں تمام ایم پی ایز کوکرونا وباء کیخلاف لڑنا ہوگا: ضیاء ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کی پارلیمانی ٹاسک فورس نے کرونا وائرس کے بحران کے حوالے سے یو این ڈی پی کے تعاون سے آن لائن اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں کرونا وائرس جو کہ عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کے تدارک کے لیے صوبائی حکومت کی امدادی کوشیشوں کی حمایت کے لیے قانون سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ صوبائی ٹاسک فورس ایک کثیر فورم ہے جو کہ بین الاقوامی طور پر پائیدار ترقی کے 17 نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی پیشرفت کی حمایت کرنے پر کام کرتا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف بین الاقوامی سترہ اہداف کا ایک مجموعہ ہے۔ جو سب کے لیے زیادہ پائیدار ترقی کا حصول یقینی بنانے کے لیے ایک ڈیزائن یا بلوپرنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ پائیدار ترقی کے اہداف تقریبا زندگی کے تمام پہلو کو مدنظر رکھتے ہیں جس میں شعبہ صحت،تعلیم،معیشت، سماج، غربت وغیرہ شامل ہیں۔ اس اجلاس کی صدارت مذکورہ ٹاسک فورس کے کنوینئر ر اور وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے معدنی ذخائر عارف احمدزی نے کی۔ جبکہ اجلاس میں وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش، وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے زکاۃ وعشر ظہور شاکر, اور ممبران اسمبلی سید فخر جہان، محترمہ ریحانہ اسماعیل، محترمہ حمیرہ خاتون، محترمہ عائشہ بانو،ڈاکٹر آسیہ اسد، بابر سلیم سواتی، محترمہ آسیہ خٹک، بلال خٹک یو این ڈی پی اور یو این ڈی پی کے دیگر ممبران نے بھی شرکت کی۔ عارف احمد زئی صاحب نے اجلاس کو بتایا کہ یہ صوبائی پارلیمنٹ اور قانون دانوں کے لیئے موقع اور آئینی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اس بین الاقوامی کرونا وباکے تدارک کے لیے قانونی موشگافیوں کو ختم کرنے میں میں اپنا کردار ادا کریں۔ قانون سازی کی تیاری کو یقینی بنانے کے لئے اور اس کورونا وبا کے تناظر میں حکومتی امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کے لئے ٹاسک فورس کو حکومتی ہم منصبوں کے ساتھ ہمہ وقت منسلک کیا جائے گا۔ ضیاء اللہ بنگش صاحب نے کرونا وباء کے تدارک کے حوالے سے اپنے ضلع کے اندر تمام اداروں کے ساتھ مل کر کر لئے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور خیراتی اداروں, سماجی اداروں،غیر سرکاری اداروں اور اس کے علاوہ جتنے بھی اسٹیک ہولڈرز ہیں ان کے ساتھ مل کر ایک باہمی تعاون کی شکل میں اس وباء کے خلاف لڑنا ہوگا۔ تمام صوبائی ممبران نے اس بات پر زور دیا کہ اس کرونا وباء کے خلاف جنگ میں صفحہ اول کے طور پر شعبہ صحت کے تمام ملازمین جس میں ڈاکٹرز نرسز اور جملہ پیرامیڈیکل سٹاف کی کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور ان کے لئے ذاتی حفاظتی سامان کی خریداری اور ان تک رسائی ممکن و یقینی بنائی جائیں۔ تمام صوبائی ممبران نے اس تجویز پر بھی اتفاق کیا کہ ایک ایسا ڈیٹابیس سوفٹ ویئر بنایا جائے جو کہ حکومتی امدادی سرگرمیاں یہ اور غیر حکومتی سرگرمیاں ریکارڈ کر سکیں تاکہ کسی قسم کی سرگرمی بار بار دہرائی نہ جائے اور ایک مربوط نظام کے طور پہ اس کورونا وبا کے خلاف ایک موثر جواب دیا جاسکے۔ اور خیبرپختونخوا کے عوام کو سہولت اور رعایت مل سکے۔ تمام ممبران کا کورونا کے خلاف لئے گئے اقدامات کو سراہا گیا۔ اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی جانب سے ایک متفقہ اور مجموعی طور پر مشترکہ جواب دیا جائے۔صوبائی ممبران نے یہ تجویز دی دی کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ مل کر ایم پی اے صاحبان اس وبا کے خلاف ایک ذمہ دارانہ کارکردگی کا تعین کیا جائے۔تا کہ صوبائی حکومت کی امدادی سرگرمیوں میں مددگار ثابت ہوسکے اور اس وبا کے خلاف حکومتی جواب کو یقینی بنایا جاسکے۔ ممبران میں سے ایک سفارش و تجویز یہ بھی آئی کہ ان حالات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے مشترکہ صوبائی اجلاس بلایا جائے تاکہ اس وباء کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل بنایاجائے اور معاشی چیلنجز جو درپیش ہے اس کا حل نکالا جائے۔ صوبائی ممبران نے یہ بھی تجویز دی کہ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر صاحب پارلیمانی لیڈر ان کا کا ایک اجلاس بلالیں جس میں غریب عوام کیسان اور زمیندار طبقہ مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ، چھوٹے پیمانے پر پیداواری طبقہ، صنعت و تجارت کا طبقہ جو کہ ان حالات کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوا ہے ان کی مالی مدد کے لییقانونی معاملات کو دیکھا جا سکے۔اور ہر ایک شعبے کے حوالے سے سبسڈی بھی دی جا سکے۔تمام صوبائی ممبران نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ موثر انداز میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ جن کے تحت فی الوقت اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے جیسا کہ صحت معیشت، قانونی معاملات، شعبہ خوراک اور دیگر ضروری شعبوں کے مسائل کا مربوط حل نکالا جاسکے۔ اجلاس کے تمام ممبران نے اس وبا کے خلاف ہر ایک ادارہ، تنظیم اور لوگوں کی کاوشوں کو سراہا اور خاص طور پر اس وبا کے خلاف صفہ اول کے طور پہ محکمہ صحت و محکمہ انتظامیہ کے ملازمین اور سرکاری و غیر سرکاری میڈیا کے نمائندوں کو خراج تحسین پیش کیا۔اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -