ریاستی مشینری عوام کوریلیف دینے میں مکمل ناکام ہوچکی، ایمل ولی  

ریاستی مشینری عوام کوریلیف دینے میں مکمل ناکام ہوچکی، ایمل ولی  

  

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ کرونا وباء از خود نوٹس کیس میں آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے،آج حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ ابھی تک صرف چودہ ہزار خاندانوں کو سرکاری راشن دیا گیا ہے،کیا چودہ ہزار خاندانوں کو راشن ملنے سے مسئلہ حل ہوجائیگا؟اس سے زیادہ راشن تو باچا خان ٹرسٹ نے ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں غرباء اور مستحق لوگوں میں تقسیم کیا ہے،اگر حکومت ایک خیراتی ادارے کے مقابلے میں بھی کسی کو ریلیف نہیں دے سکتی تو کیا اُن کو حق حکمرانی حاصل ہونی چاہیے؟ باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ پوری کی پوری ریاستی مشینری کرونا وباء کے دوران ناکام ہوچکی ہے،لوگوں کے گھروں میں فاقے ہیں اور اس صورتحال میں بھی سیلکٹڈ اعظم کبھی ایک وزیر کو نواز رہے ہیں تو کبھی دوسرے۔ انہوں نے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے ایک وزیر کی چھٹی کردی ہے لیکن ایک وزیر کے جانے سے مسائل حل نہیں ہونگے یہ وہ وقت ہے کہ سیلکٹڈ اعظم کو احتساب کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کردیا جائے اور بی آر ٹی سے لیکر چینی سکینڈل تک اُس سے پوچھا جائے کہ کیوں اُس کی لیڈرشپ میں یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ آج چیف جسٹس نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ اس نازک وقت میں بھی صرف میرے تبدیل ہورہے ہیں،ایک سال پہلے کرپشن پر نکالا گیا بندہ کس طرح دوبارہ کابینہ کا حصہ ہوسکتا ہے؟یہ صرف اور صرف حکومت عمرانی میں ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج درفوج کابینہ پر ہمیں پہلے ہی سے اعتراض تھا،آج سپریم کورٹ نے بھی اُس طرف اشارہ کیا ہے۔ ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ عمران خان اس وقت بھی اپنے انوسٹرز کو خوش کرنے میں لگے ہوئے،وہ اس وقت بھی جس انوسٹر کو خوش کرنا چاہتے ہیں اُن کو من پسند وزارت سے نواز دیا جاتا ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -