کوویڈ۔19:  کاروباری دنیا کو کیش فلو کے چیلنج کا سامنا

کوویڈ۔19:  کاروباری دنیا کو کیش فلو کے چیلنج کا سامنا

  

لاہور(پ ر)اے سی سی اے کے 10,000فنانس پروفیشنلز کے مابین نئی عالمی تحقیق کے مطابقسرکاری اور نجی شعبوں میں بڑی اور چھوٹی تنظیموں نے، کویڈ۔19 کے باعث اپنے لوگوں، پیداوری اور کیش فلو پر پڑنے والے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں پاکستان کے 353 ماہر پینل شامل ہیں۔پاکستان میں اے سی سی اے کے سربراہ، سجید اسلم نے کہا:‘ہماری تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کاروبار پر سب سے زیادہ شدید اثر ملازمین کی پیداوری پر منفی اثر پڑ رہا ہے، 56%جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ہے۔ نیز 46% کاروباری رہنما مشورہ دیتے ہیں کہ ان کی تنظیموں کو نقد بہاؤ کے اہم مسائل کا سامنا ہے۔‘صرف 31 فیصد کاروباری مالی اعانت کا اعلان کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ان میں 39 39 بدترین صورتحال پر پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 50 فیصد یا اس سے زیادہ کی منفی آمدنی ہوگی۔ پہلے سے ہی 34 recruitment تنظیموں میں بھرتیوں کو منجمد کرنے کے ساتھ، کاروبار بینکوں اور قرض فراہم کرنے والوں کی مدد حاصل کرنے کے درپے ہیں۔سجید اسلم نے انکشاف کیا کہ اس سروے کا مقصد ملک بھر میں ہر قسم کی تنظیموں کو درپیش مشکلات کو تلاش کرنا تھا۔انہوں نے کہا:‘اس تحقیق کا مقصد ملک بھر کی تنظیموں کو ہونے والے کاروبار اور مالی ضربوں کو سمجھنا ہے۔

 اس کو اے سی سی اے پاکستان کے ممبروں - فنانس پروفیشنلز نے بہت مشکل وقت میں بہت سارے کاروباروں اور تنظیموں کی حمایت کرنے والے عینک سے دیکھا ہے۔‘نتائج سے مختصر سے درمیانی مدت کے مضمرات کا اندازہ ہوتا ہے، جبکہ تنظیموں کی طرف سے اس نقصان کو کم کرنے کے اقدامات اور اقدامات پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ 

اس سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ ہم سب وبائی مرض سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں۔ ’

مزید :

کامرس -