سٹیٹ بینک کی نئی ری فنانس سکیم کا خیر مقدم کرتے ہیں: اسلا آباد چیمبر

    سٹیٹ بینک کی نئی ری فنانس سکیم کا خیر مقدم کرتے ہیں: اسلا آباد چیمبر

  

اسلام آباد (پ ر) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا کہ ملازمین کو برطرفیوں سے بچانے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کاروباری اداروں کیلئے پانچ فیصد مارک اپ پر ایک عارضی ری فنانس اسکیم جاری کی ہے جس کا تاجر برادری خیرمقدم کرتی ہے۔تاہم انہوں نے کہا بہتر ہوتا اگر سٹیٹ بینک اس مشکل گھڑی میں کاروباری اداروں کیلئے بلا سود قرضوں کی اسکیم متعارف کراتا تا کہ کاروباری ادارے جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، بلا سود قرضے لے کر دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے اور معیشت کی ترقی و روزگار فراہم کرنے میں مزید فعال کردار ادا کرے۔ محمد احمد وحید نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی اس عارضی کے تحت جو کاروباری ادارے اپریل تا جون 2020کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہیں کریں گے ان تین مہینوں کی اجرتوں و تنخواہوں کے اخراجات کیلئے ان کو فنانسگ فراہم کی جائے گی جبکہ قرض کی اصل رقم کی ادائیگی دو سال میں کرنی ہو گی اور قرض لینے والوں کو جو چھ ماہ کی رعایتی مہلت بھی دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں اس وقت ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں جن کو دوبارہ بحال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ اصل رقم کی ادائیگی کیلئے دو سال کی مدت کو بڑھا کر کم از کم پانچ سال کیا جائے تا کہ کاروباری ادارے اس سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں اور اپنے ملازمین کو بھی برطرف ہونے سے بچا سکیں۔

سلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر طاہر عباسی اور نائب صدر سیف الرحمٰن خان نے کہا کہ اسکیم کے تحت چھوٹے کاروباری اداروں کو قرضوں کیلئے ترجیح دی جائے گی جو خوش آئند ہے تاہم انہوں نے کہا کہ کیونکہ یہ اسکیم بینکوں سے حاصل ہو گی لہذا بینکوں کا مارک اپ ملا کر کاروباری اداروں کو اس اسکیم کے تحت قرضوں پر تقریبا 8فیصد شرح سود دینا ہو گا جو ان مشکل حالات میں ان کیلئے مشکل ہو گا لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مارک اپ کو مزید کم کر کے 2یا3فیصد تک لایا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ کاروباری ادارے اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور تاجر برادری کے لکویڈیٹی مسائل کم ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کو جلد بحال کرنے میں مد دملے۔

مزید :

کامرس -