حکومت تنخوا ہوں کی ادائیگی اور ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنائے: حافظ نعیم الرحمن

  حکومت تنخوا ہوں کی ادائیگی اور ملازمتوں کا تحفظ یقینی بنائے: حافظ نعیم ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ مختلف اداروں، کارخانوں اور فیکٹریوں کے ملازمین اور مزدوروں کو تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور ان کی ملازمتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے فوری طور پر سہہ فریقی لیبر کانفرنس بلائے،اگرکسی ملازم کو ادارے یا فیکٹری سے نکالا جارہا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ادارے کے خلاف کارروائی کرے،آج ٹھیکداری نظام کے باعث مزدوروں کی بڑی تعداد اپنے حقوق سے محروم ہے،پاکستان اسلام اور عدل کی بنیاد پر بنا تھا لیکن عملاًاسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم نہ ہو سکا، لاک ڈاؤن سے قبل وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اجلاس میں خود وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا تھا کہ مزدوروں کو ان کی تنخواہیں دی جائیں اور انہیں ملازمت سے نہ نکالاجائے اور ہم نے اس بات سے اتفاق بھی کیا تھا لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا۔ہم صنعت کار وں کے خلاف نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ کاروبار بھی چلے اور غریب کو روزگار بھی ملے۔صنعتوں کو چلانے والے قابل قدر ہیں مگر مزدور کے استحصال کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسٹیٹ بینک کے ذریعے اگر سرمایہ داروں کو آسان قرضے ودیگر سہولیات دی جاسکتی ہیں تو محنت کشوں کو بھی ورکرز ویلفیئر بورڈمیں ان کے اپنے فنڈ سے ادائیگیاں کی جاسکتی ہیں۔کراچی محنت کشوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔محنت کشوں کو جلد ادئیگیاں نہیں کی گئی تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوسکتا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں نیشنل لیبر فیڈریشن کے تحت کراچی کی اہم ٹریڈ یونینز کے اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی،این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان، جوائنٹ سیکریٹری امیر روان،ٹریڈ یونین رہنما محمد سلیم، پاورلومز سیکٹر کے رہنما محمد فیاض اخونزادہ،ٹیکسٹائل مل کے محمد نوید، شنائڈر پاکستان کے سید اشفاق علی، پیکسار فیکٹری کے فرقان احمد انصاری، سید مظہر علی،سویا سوپریم آئل کمپنی کے جنر ل سکریٹری ارشاد علی بھٹو،عزیز اللہ سواتی،شاہد منشی،گل زمین خان،خواجہ مبشر،عزیز الرحمن ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، جنرل سکریٹری این ایل ایف قاسم جمال ودیگر بھی موجود تھے۔اجلاس جس میں ڈیلی ویجز ورکر،دیہاڑی دار مزدور،پاور لوم کے محنت کش اورروز کے کھانے کمانے والے محنت کشوں کے بڑھتے ہوئے مسائل پر غوروخوص کیا گیا۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ این ایل ایف ان تمام محنت کشوں کا ڈیٹا جمع کرے جنہیں ملازمتوں سے نکالا گیا ہو یا ان کی ادائییگیاں نہیں کی گئی ہوں۔جماعت اسلامی اس سلسلے میں اعلی حکام سے بات کرے گی اور ہم کسی بھی قیمت پر غریب محنت کشوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی نہیں ہونے دیں گے اور پوری قوت کے ساتھ محنت کشوں کا ساتھ دیا جائے گا۔انہوں نے محکمہ محنت کے ذمہ داران کو بھی متنبہ کیا کہ وہ اپنا قبلہ درس کرلیں اور محنت کشوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ظلم وزیادتی سے باز رہا جائے،انہوں نے کہا کہ سینیٹر سراج الحق نے کراچی کے مزدوروں سے اظہار یکجہتی کیا ہے اور موجودہ حالات میں بے روزگارکیے جانے پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ این ایل ایف نے ہمیشہ مزدور مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کی ہے،حقو ق جدوجہد کرنے سے ملتے ہیں،مزدوروں کو اپنے حقوق کے لیے مذاکرات اور احتجاج دونوں راستے اختیار کرنے ہوں گے اور بات چیت کا راستہ ہم ہمیشہ کھلا رکھناچاہتے ہیں۔ غیر منظم محنت کش کے مسائل کے بارے میں تو کسی نے غور ہی نہیں کیا۔پرائیوٹ سیکٹر میں پاور لوم،گارمنٹس فیکٹری،ٹیکسٹائل اور دیہاڑی کا مزدور کارخانے بند ہونے کی وجہ سے اس کے گھر پر فاقے ہورہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -