نشتر ہسپتال، لیبارٹری انتظامیہ کی بوکھلاہٹ، غلط ٹیسٹ کرنیکا انکشاف، آئسولیشن وارڈ میں نرسوں سے نارواسلوک

  نشتر ہسپتال، لیبارٹری انتظامیہ کی بوکھلاہٹ، غلط ٹیسٹ کرنیکا انکشاف، ...

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)نشتر انتظامیہ کی بڑی نا اہلی سامنے آگئی آئی سو لیشن وارڈ میں کورونا کے شبہ میں داخل نرسوں کی رپورٹ نیگیٹیو آنے کے باوجود پازیٹیو مریضوں کے(بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

ساتھ بٹھائے رکھا،بیشر نرسوں نے جگہ کی کمی کے باعث رات کرسیوں اور فرش پر گزار دی،انتظامی افسراں پریس کانفرنس تک محدودہوگئے،ینگ نرسز کا شدید احتجاج تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال انتظامیہ اپنے ہی طبی عملے کو سہولیات دینے میں ناکام ہو چکی ہے،گزشتہ دو روز سے آئی سو لیشن وارڈ میں کورونا کے شبہ میں زیر علاج نرسوں کو پہلے نمونے لینے کے لئے گھنٹوں انتظار کروایا گیا جبکہ اس دوران آئی سو لیٹ کرنے کی بجائے سب کو ساتھ بٹھائے رکھا جبکہ رپورٹس آنے کے بعد دو نرسوں اور دیگر شہریوں سمیت ڈاکٹروں میں کورونا پازیٹیو آنے کے بعد نیگیٹیو رپورٹ کی حامل نرسوں کو بھی پوری رات ڈسچارج سلپ نہ دی گئی اور نہ ہی انہیں علیحدہ کمرے دئیے گئے جس کے باعث بیشتر نرسوں نے رات وارڈ کے برآمدے کی کرسیوں اور فرش پر بیٹھ کر گزار دی،ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی رہنماوں نورین،شازیہ اور صائمہ یامین کا کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف لڑنے میں نشتر ہسپتال انتظامیہ بری طرح فیل ہو چکی ہے اور بیشتر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس ایکسپوز ہو چکے ہیں۔ نشتر کے عملہ میں کورونا کے پھیلاؤ کے زمہ داران نشتر کے وائس چانسلر، پرنسپل اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو استعفی دینا چاہیے،جو نرسز اور ڈاکٹر پازیٹو آئے ہیں یہ ملتان اور نشتر انتظامیہ کی زمہ داری ہے کہ انکو ہسپتالوں میں آئسؤ لیٹ کیا جائے،مگر ان نرسز کے لئیے نہ ہسپتال میں کوئی جگہ ہے, نہ کوئی احترام ہے، ساری رات وارڈ کے کوریڈور میں بیٹھ کے گزاری ہے ادھر نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج ایک سو پچاس سے زائد طبی عملے میں سے اتوار کی رات پہلے مرحلے میں اسی اگلے مرحلے میں ستر سے زائد ڈاکٹروں نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف سمیت دیگر مریضوں کی رپورٹ جاری کی گئی جس میں چار مزید ڈاکٹروں ڈاکٹر ساجد اختر اور ڈاکٹر وہاب جبکہ دو خواتین ڈاکٹروں سمیت دو نرسز میں بھی کورونا کی تصدیق ہو گئی جبکہ دیگر دو افراد میں بھی کورونا کی تصدیق ہوئی یوں دو روز کے دوران مجموعی طور پر نشتر ہسپتال کے سترہ ڈاکٹر کورونا کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ دو نرسز اور پیرا میڈیکس پر مشتمل طبی عملہ بھی کورونا کا شکار ہو چکا ہے جبکہ دوسری جانب نشتر ہسپتال کا بیشتر عملہ اب تک حفاظتی کٹس سے محروم ہے،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج کا کہنا تھا اب تک سترہ ڈاکٹر کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں دو نرسز اور پیرا میڈیکس بھی متاثر ہو رہے ہیں حفاظتی کٹس فراہم نہ کی گئی تو حالات مزید ابتر ہو جائیں ں گے۔علاوہ ازیں نشتر ہسپتال انتظامیہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کی اس دوران جب پوچھا گیا کہ اب تک کتنے ڈاکٹروں نرسز پیرا میڈیکس میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے تو وائس چانسلر نے تین سے چار بار بیان بدلا کبھی سترہ ڈاکٹر بتاتے رہے چھ پیرا میڈیکس کہتے رہے پھر سولہ ڈاکٹر اور ایک پیرا میڈیک جبکہ پریس کانفرنس کے آخر تک صیح تعداد بتانے کے حوالے سے شدید کنفیوژن کا شکار رہے،ادھر نشتر ہسپتال لیبارٹری انتظامیہ بھی ایک ساتھ 200 سے زائد طبی عملے کے ٹیسٹوں میں بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی اور ایک جیسے نام ہونے پر ڈاکٹر عمر غفار کو 11 اپریل کی لسٹ میں کورونا پازیٹیو بتایا اور انہیں دیگر پازیٹیو ڈاکٹروں کے ہمراہ رجب طیب اردوان ہسپتال مظفر گڑھ منتقل کر دیا گیا جبکہ اگلے روز بارہ اپریل کو جو لسٹ جاری کی گئی اس میں ڈاکٹر عمر غفار کو نیگیٹیو قرار دے دیا گیا جس کے بعد ملتے جلتے نام والے ڈاکٹر عمر سلمان جنہیں 11 اپریل کی لسٹ میں نیگیٹیو قرار دیا گیا تھا انہیں واپس آئی سو لیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا جبکہ ڈاکٹر عمر غفار کو کورونا پازیٹیو سے کورونا کا مشتبہ مریض بنا کر دوبارہ نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے چئیر مین ڈاکٹر خضر حیات اور ڈاکٹر فاران اسلم کا کہنا تھا کہ انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر میڈیا کو بھی غلط معلومات فراہم کر رہی ہے جبکہ اس کیس کو سامنے رکھتے ہوئے لیبارٹری سے آنے والی رپورٹ بھی متنازعہ حیثیت اختیار کر چکی ہیں ادھر کورونا میں مبتلا ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز کے رہنما ڈاکٹر سعید چودھری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عمر غفار کو پہلے پازیٹیو پھر نیگیٹیو کر کے مشتبہ قرار دینا مجرمانہ غفلت ہے جبکہ جس ڈاکٹر عمر سلمان کو نیگیٹیو قرار دیا گیا تھا وہ دوبارہ گھر چلا گیا سب سے ملتا جلتا رہا اب اس کا قصور انتظامیہ کے سر جاتا ہے۔ نشتر ہسپتال انتظامیہ آئی سو لیشن وارڈ میں انتظامات کرنے اور طبی عملے کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے،نشتر ہسپتال کا تمام عملہ کورونا کے تشخیصی ٹیسٹ کروانے آئی سو لیشن وارڈ پہنچ رہا ہے جس کے باعث ایک وقت میں 100 سے 200 کورونا کے مشتبہ مریضوں پر مشتمل طبی عملہ ایک ساتھ کاونٹر پر کھڑا کر دیا جاتا ہے جبکہ مشتبہ مریضوں کو ایک ساتھ کمروں میں بھی رکھا جا رہا ہے جس کے باعث انہی میں سے اکثر ڈاکٹر پازیٹیو آتے ہیں جو کہ دیگر کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں گزشتہ روز بھی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے رہنماؤں ڈاکٹر خضر حیات،ڈاکٹر فاران اسلم اور ڈاکٹر علی رضا نے آئی سو لیشن وارڈ کی ویڈیو اور تصاویر جاری کی جس میں ایک ہی کاونٹر پر سینکڑوں ڈاکٹر نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو کھڑا کیا گیا تھا جبکہ اسی رش کے دوران کورونا کے شبہ میں دم توڑنے والی بزرگخاتون کی میت بغیر حفاظتی اقدامات کے وارڈ میں گھنٹوں پڑی رہی جبکہ توجہ دلوانے پر میت کو رش میں سے گزار کر لے جایا گیا،ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ مشتبہ مریض دم توڑ رہے ہیں طبی عملہ خوف زدہ ہے جبکہ انتظامی افسران سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں۔ دریں اثنا ابدالی مسجد قرنطینہ سے پہلے دس پازیٹیو کورونا کے مریضوں کو چند روز قبل رجب طیب اردوان ہسپتال مظفرگڑھ کی بجائے زیر تعمیر ڈی ایچ کیو ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا اور پھر شجاع آباد قرنطینہ میں موجود مزید 14 افراد میں کورونا کی تصدیق ہونے کے بعد انہیں بھی زیر تکمیل ڈی ایچ کیو ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا یوں مریضوں کی تعداد 24 ہو گئی،گزشتہ روز پی ایم اے کے وفد نے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج کی قیادت میں نئے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا اور ڈاکٹرز میں حفاظتی سامان تقسیم کیا،اس دوران ڈیوٹی پر موجود طبی عملہ پھٹ پڑا،ڈاکٹروں نے وفد کو بتاہا کہ پانچ سے سات افراد کو اوپری منزل منتقل کیا گیا جہاں واش روم تک فعال نہیں تھے جس پر کورونا میں مبتلا افراد سٹاف کے کمرے میں پہنچ گئے بعد ازاں ڈیوٹی پر موجود عملے نے رات لان میں گزار کر مریضوں کو سٹاف روم میں جگہ دے دی جبکہ محکمہ صحت کے مطابق بتایا گیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایک حصے میں 100 بستروں کو مکمل فعال کر دیا گیا ہے،طبی عملے نے وفد کو محکمہ صحت کی جانب سے کئی جانے والے دعووں کی قلعی کھولتے ہوئے بتایا کہ زیر تعمیر ڈی ایچ کیو کہ ایک حصے کو کارکردگی شو کرنے کیلئے فعال دکھایا گیا تاہم وہاں موجود مریض اور عملہ چمگادڑوں اور مچھروں کی بہتات سے پریشان ہیں،صفائی کی ناقص ترین صورتحال ہے جبکہ کورونا کے مریض شدید اذیت کا شکار ہیں،پی ایم اے ملتان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج نے بتایا کہ عملے کو سیناٹئزرز،گوگلز اور این 95 ماسک تک فراہم۔نہیں کئے گئے،محکمہ صحت ملتان طبی عملے کی جانوں سے کھیل رہا ہے،پی جبکہ وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا نے کہا ہے کہ نشتر ہسپتال میں معمول کے مطابق کام جاری ہے ڈاکٹر اور عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، نشتر ہسپتال میں ابتک سولہ سے سترہ ڈاکٹر پازیٹیو آ چکے ہیں،جبکہ ایک ڈاکٹر کی رپورٹ دوبارہ کروائی جا رہی جس کی پہلے نیگیٹیو تھی اس طرح دیکھا جائے تو تعداد سولہ بنتی ہے،پازیٹیو مریضوں کو اب تک رجب طیب اردوان منتقل کیا گیا اب سے برن یونٹ ملتان میں مریضوں کو رکھا جائیگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا انکا مزید کہنا تھا کے کورونا کے حوالے سیپریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ابتک نشتر لیبارٹری میں 2800 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے صرف 37 افراد کے ٹیسٹ رپورٹس پازیٹو آئی ہیں،جبکہ ہسپتال میں کٹس،گلوز،ماسک کی کمی نہیں ہے، کورونا کے مریضوں کے ٹیسٹ کے لئے پانچ سو کے قریب ٹیسٹ کٹس موجود ہیں اور جلد نئی کٹس بھی پہنچ جائیں گی،جس مریض میں کورونا کی بعد از وفات تصدیق ہوئی اس کی وجہ سے طبی عملہ ایکسپوز ہوا،اس مریض میں بھی ابتدائی طور پر کورونا کی کوئی علامات نہیں تھیں،اس موقع پر پرنسپل نشتر میڈیکل کالج ڈاکٹر افتخار حسین نے پریس نے بتایا کے رجب طیب اردگان ہسپتال نے مزید مریض لینے سے انکار کیا ہے اس لئے پالیسی کے مطابق برن یونٹ کو کورونا کے مریضوں کے لئے مختص کرنے جا رہے ہیں برن یوں ٹ میں 76 کے قریب بیڈز اور پانچ وینٹی لیٹرزموجود ہیں جبکہ نشتر ہسپتال میں وینٹی لیٹرز کے سسٹم کو برن یونٹ میں منتقل کرنے کی کیپسٹی بھی موجود ہے انکا مزید کہنا تھا کے ہسپتال میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے ہمارے پاس این 95 ماسک دو ہزار سے زائد ہیں،ہم 800 سے زائد ڈاکٹرز کو دے چکے ہیں جبکہ مزید ماسک بھی ہسپتال کو جلد مل جائیں گے،انکا مزید کہنا تھا کے پی پی ایز کٹس ہمارے پاس 2400سے زائد ہیں،ہم لیول ٹو اور تھری دونوں لیول پر کام کرنے والے ڈاکٹرز کو کٹس دے رہے ہیں،جبکہ 24 ہزار گلوز موجود ہیں،افتخار حسین کا کہنا تھا کیدولاکھ مزید گلوز کا آرڈر بھی کر دیا ہے پریس کاں فرنس کے اختتام پر وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کا کہنا تھا کے کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے اور اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں نشتر انتظامیہ اور ڈاکٹر حالات سے نمٹنے کے لئے مکمل تیار ہیں۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -