رحیم یار خان‘ کرونا کیس سامنے آمنے پر متعدد علاقوں کو سیل کرنیکا فیصلہ

  رحیم یار خان‘ کرونا کیس سامنے آمنے پر متعدد علاقوں کو سیل کرنیکا فیصلہ

  

رحیم یار خان‘ کوٹ ادو‘ دائرہ دین پناہ (بیورو رپورٹ‘تحصیل رپورٹر‘ نامہ نگار) ضلع میں کورونا وائرس کیس کی رپورٹ مثبت آنے پر ضلعی انتظامیہ نے متعدد علاقوں کو سیل(بقیہ نمبر13صفحہ6پر)

کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔تفصیل کے مطابق کورونا کیسز میں اضافے کے تناظر میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حسن کالونی،عباسیہ ٹاون، جناح پارک،علامہ اقبال ٹاون،کینال کالونی،نورے والی دستگیر کالونی،جناح پارک گلی نمبر 5نزد صفہ مسجد،میڈیکل کالونی شیخ زید ہسپتال،تحصیل خانپور کی بستی سندیلہ،صادق آباد کی بستی محمد پور لمہ،لیاقت پور کی بستی صادق احمد یار،فوجی کالونی لیاقت پور کے علاقوں کو سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا،مذکورہ علاقوں کے مکین گھر سے باہر نکلنے اور خاص طور پر ان علاقوں میں جانے سے پرہیرز کرکرنے جبکہ رش والے مقامات مثلا،ڈاکٹروں کے کلینک،میڈیکل اسٹور،کریانہ شاپ وغیرہ پر جانے سے پہلے ماسک کا استعمال لازمی رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کوٹ ادومیں مشتبہ مریضوں کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعدشہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے، شہر کے تمام کاروباری اور تجارتی مراکز سمیت تمام دوکانیں بند ہیں جس کی وجہ سے یومیہ اجرت پر دوکانوں سمیت مختلف کام کرنے والے لاکھوں افراد بیروزگار ہوکر فاقہ کشی پر مجبورہوچکے ہیں،لاک ڈاؤن ہوئے 21روز گزرجانے کے باوجود حکومت کی جانب سے غریب دیہاڑی دار مزدور کو مالی امداد بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ابھی نے نظیر انکم سپورٹ سے امداد لینے والی خواتین میں امدادی رقم دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ غریب دیہاڑی دار مزدور وں میں بے چینی بڑھ رہی ہے،دوسری جانب لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھا کر موقع پرست بڑے دوکانداروں نے اشیاء خورد نوش سمیت اشیاء ضروریات کی ذخیرہ اندوزی کرکے من مانی قیمت پر کھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر سامان فروخت کررہے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو مزید مالی مشکلات میں ڈال دیا ہے اورغریب شہری فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ افغانستان اور کے پی کے سے تعلق رکھنے والے 12 تبلیغی جماعت کے افراد نورمحمدولد جمعہ شیراز،عبدالحکیم ولد عبدالرحمٰن رحمانی،محمدشاہ ولد سیدعبداللہ حیدری،عبدالغنی ولد محمدرحیم افغانی،عبدالرحیم ولد عبدالرحمٰن محمدی،محمدعظیم ولد جمعہ خان شیراز،عبدالمستقیم ولد علی محمدحنیف ساکن ہرات افغانستان،محمدنعیم ولدمحمدقیوم،محمدبلال ولد عمرنواز،شیرداد خان ولد گل بازخان،محمدنسیم اللہ ولد محمدحلیم،ولی رحمٰن ولد غازی رحمٰن ساکن تحصیل وضلع بنوں جوکہ گزشتہ ماہ سے تبلیغ کی غرض سے دائرہ دین پناہ کے موضع ہنجرائی چاہ حقانی والا کی جامعہ مسجدصدیقیہ میں مقیم تھے انتظامیہ نے مسلسل 14روز تک کرونہ کے شبہ کے باعث مسجد میں قرنطینہ کیئے رکھا تاہم گزشتہ رات اچانک مسجد صدیقیہ سے ان 12افراد کو سخت پہرے میں رات گئے شہر دائرہ دین پناہ کی جامعہ مسجد حسینیہ مدینہ میں قرنطینہ سنٹرقائم کرکے مسجدکو سیل کردیا گیا جبکہ نمازیوں اورشہریوں کی آمدورفت اور مسجد کے استعمال پر مکمل پابندی عائدکرتے ہوئے سیکورٹی کیلئے پولیس اہلکارتعینات کردیئے گئے شہرکی مسجد کو قرنطینہ سنٹرقائم کرنے پر شہریوں میں تشویش کی لہردوڑگئی جس پر شہریوں تاجربرادری،صحافی تنظیموں نے کمشنرڈیرہ غازیخان،ڈی سی مظفرگڑھ،اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو سے افغانستان اور خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے مذکورہ افراد کو فوری طورپر طیب اردگان ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -