جنوبی پنجاب: موسمی حالات، 60فیصد آم باغات خالی، کسانوں کو کروڑوں کا نقصان

  جنوبی پنجاب: موسمی حالات، 60فیصد آم باغات خالی، کسانوں کو کروڑوں کا نقصان

  

ملتان(سپیشل رپورٹر) جنوبی پنجاب کی دوسری اہم نقد آور فصل آم کی ناموزوں موسمی حالات اور حکومتی اداروں کی جانب سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہوچکی ہے رواں سال سے آم کے باغات 60فیصد بے ثمر ہوچکے ہیں کروڑوں میں فروخت ہونے والے باغات اب ہزاروں میں بھی فروخت نہیں ہوپارہے ہیں آم کاپھل نہ ہونے کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کے باغات کو (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

خرید کرنے والے ٹھیکیدار ہی نہیں ہیں جن آڑتھیوں نے گزشتہ سال پیشگی بیانے دے کرباغات خرید کئے ہوئے تھے وہ بیانہ چھوڑکر بھاگ گئے ہیں اس وقت آم کے باغبانوں کوشدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے دریائی علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے 80فیصد باغا ت ختم ہوچکے ہیں اسی طرح روں سال ریکارڈ سردی اور کورا پڑنے سے باغات پر پھل کم آیا ہے اس کے بعد فروری مارچ اور اپریل تک مسلسل موسلادھار بارشوں سے آم کے پھول پھل سب بٹور کی بیماری کاشکار ہوگئے ہیں جس سے اربوں روپے کے باغات خالی ہوگئے ہیں باغبانوں کو اب باغات ٹھیکے پر دینے کی بجائے خود پرداشت کرنے پڑرہے ہیں اس پر حکومتی اداروں نے ابھی تک باغبانوں کی کوئی رہنمائی نہیں کی اور سرکاری سطح پرباغبانوں کوکوئی ریلف نہیں دیا گیا ہے آم کے کاشتکاروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ باغات کی بے ثمری کی وجہ سے کوئی ریلف پیکیج کااعلان کیا جائے ورنہ کسان اور باغبان آم کے باغات کے درختوں کی لکڑی فروخت کرنے پر مجبور ہوجائیں گئے۔

باغبان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -