کوٹ ادو: پرائیویٹ تعلیمی ادارے کا ٹیچرز کو تنخواہ دینے سے انکار‘ احتجاج پر سکول سے آؤٹ

  کوٹ ادو: پرائیویٹ تعلیمی ادارے کا ٹیچرز کو تنخواہ دینے سے انکار‘ احتجاج پر ...

  

کوٹ ادو (تحصیل رپوٹر) پرائیویٹ نجی تعلیمی ادارے نے اساتذہ کو3ماہ سے تنخواہیں ادا نہ کیں،گھریلو حالات سے (بقیہ نمبر26صفحہ6پر)

تنگ اساتذہ کا تنخواہ مانگنا جرم بن گیا، تعلیمی ادارے کے پرنسپل نے 3اساتذہ کو فراغت کے لیٹر تھما دئیے اس بارے نجی تعلیمی ادارے کے ٹیچروں میاں عاشر،طفیل عظیم وٹو اور زاہد بلوچ نے بتایا کہ پرنسپل عبدالمالک نے محمود کوٹ میں سکول بنایا ہوا تھا جس میں وہ پڑھاتے تھے جہاں انہیں 3ماہ سے تنخواہیں نہ ملی تھیں،انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے پرنسپل عبدالمالک سے تنخواہ مانگی جس پر انہیں تنخواہ دینے کی بجائے انہیں سکول سے نکال دیا گیا، انہوں نے کہا کہ کم تنخواہ 4 سے 8 ہزار تک مزدور سے بھی کم دے جاتی ہے جبکہ حکومت کے واضع احکامات کے باوجود انہیں سکول سے نکال دیا،ایک تو تنخواہ کم 6ہزار دوسرا وقت پر نہیں دیتے،2مہینے 3 مہینے بعد دیتے ہیں جو تنخواہ کے لیے آواز اٹھائے اسے سکول سے نکال دیا جاتا ہے جبکہ ان پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں ٹیچر کو استاد کا درجہ بھی نہیں دیاجاتا،انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں نجی تعلیمی ادارے اساتذہ کاساتھ دینے کی بجائے3 ماہ تنخواہ نہیں دے رہے،انہوں نے صدر پاکستان عارف علوی،وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار، صوبائی وزیرتعلیم پنجاب، ڈی سی مظفرگڑھ انجینئر امجد شعیب خان ترین سے بھی اپیل کی وہ اس کا نوٹس لیں اور اساتذہ کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور تنخواہیں بڑھانے اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی جائیداد کی انکوائری نیب سے کرا نے کا مطالبہ کیا ہے

آؤٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -