دعوؤں کے باوجود حفاظتی سامان نہ ملا، ملک بھر میں 272ڈاکٹرز،طبی عملہ کرونا کا شکار

دعوؤں کے باوجود حفاظتی سامان نہ ملا، ملک بھر میں 272ڈاکٹرز،طبی عملہ کرونا کا ...

  

لاہور(رپورٹ جاوید اقبال،تصاویر ذیشان منیر) ملک بھر میں کرونا وائرس کی فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والے 272 ہیلتھ پروفیشنلز کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں جن میں اکثریت ڈاکٹرز کی ہے دوسرے نمبر پر نرسیں اور تیسرے نمبر پر پیرامیڈیکل ملازمین ہیں۔ مختلف ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دیتے ہوئے کرونا کا شکار ہونے والوں میں 152 ہیلتھ پروفیشنل کا تعلق صوبہ سندھ، 52کا پنجاب،22 کابلوچستان، 24 کا کے پی کے،4کاگلگت بلتستان،8کا اسلام آباد 8،2کاآزاد کشمیر،19کا ملتان سے ہے جبکہ پنجاب میں 49ڈاکٹروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ مشتبہ 100 ڈاکٹروں کے مذید ٹیسٹ بھجوا دئیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب،سندھ، بلوچستان، کے پی کے، آزاد کشمیر، گلگت،ملتان کے عہدیداران نے کہا ہے کہ ایسا حکومتی نااہلی کے باعث ہوا ہے۔ حکومت نے ڈاکٹروں کو کرونا سے بچاؤ کے لئے ضروری سازوسامان مہیا نہیں کیا۔جن ڈاکٹروں کو کرو نا ہوا ہے ان میں کے پی کے اور بلوچستان کے تین سینئر ترین پروفیسر جاوید ناک کان گلا،بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر جلال اچکزئی اور پروفیسر ڈاکٹر سید لیاقت آغا شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اندورن سندھ میں سب سے زیادہ 102 ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف، کراچی میں 52 ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کرونا کا شکار ہوگئے ہیں جن میں ڈاکٹر نوید، ڈاکٹر پرویز، ڈاکٹر صفدر، ڈاکٹراویس،ڈاکٹر عدنان وغیرہ شامل ہیں۔ٹراما سینٹر کراچی کے 10 ڈاکٹر متاثر ہوئے ہیں۔اسی طرح قرنطینہ میں کام کرنے والے 7 ڈاکٹراوردو نرس بھی وائرس کی زد میں آگئی ہیں۔ بلوچستان میں کل 24 ڈاکٹرز اور پروفیسرز کو کرونا ہوگیا ہے جن میں ڈاکٹر فضل الرحمن بابر،سینئر ڈینٹل سرجن سول ہسپتال، ڈاکٹر ضیاء الحق ناصر،سینئر ڈینٹل سرجن بی ایم سی، ڈاکٹرقیصر پانیزئی،پوسٹ گریجویٹ ریزیڈینٹ میڈیسن یونٹ-III،سول ہسپتال، ڈاکٹر عمر ناصر،پوسٹ گریجویٹ ریزیڈینٹ، میڈیسن یونٹ-III سول ہسپتال، ڈاکٹر انور ناصر،پوسٹ گریجویٹ ریزیڈینٹ سرجری یونٹ بی ایم سی ہسپتال، ڈاکٹر عبداللہ جان،میڈیکل آفیسر ڈاکٹر احمد علی،پوسٹ گریجویٹ ریزیڈینٹ پیڈز سرجری سول ہسپتال، ڈاکٹر عجب مندوخیل،میڈیکل آفیسر شعبہ حادثات سول ہسپتال،پروفیسر ڈاکٹر جلال اچکزئی،سبراہ شعبہ کارڈیالوجی سول ہسپتال، ڈاکٹر اسحاق درانی،کنسلٹنٹ جنرل سرجن سول ہسپتال ڈاکٹر بہاوالدین اچکزئی، ڈاکٹر جبار اچکزئی،پروفیسر ڈاکٹر سید لیاقت آغا،ہیلتھ کیئر ورکرز مین،بصیر خان ٹیکنیشن،نور ٹراما اوٹی اسسٹنٹ منظور رہیسانی میل نرس،عصمت ٹیکنیشن شامل ہیں۔ کے پی کے میں بائیس ڈاکٹرز اور پروفیسرز اور نرسز کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں جن میں ڈاکٹر سلمان ایچ ایم سی کاڈیالوجی ڈاکٹر ساجد پلمانولوجی کے ٹی ایچ ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن ڈسٹرکٹ ہوہسپتال مردان پروفیسر جواد ای این ٹی ایچ ایم سی ڈاکٹر کریم مولوی جی ڈاکٹر حسن ہیلع آر ایچ ایمرجنسی ڈاکٹر عزیز ٹاکرنیاز ڈاکٹر امان کے نام شامل ہیں۔ ملتان میں 20 کے قریب ڈاکٹروں میں کرونا پازیٹو ہوگیا ہے جن میں ڈاکٹر عمر غفار نام سرِ فہرست ہے۔ اسی طرح آپ وفاقی دارالحکومت میں آٹھ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسوں کو پرونا ہوا ہے جن میں ڈاکٹر امتیاز ڈاکٹر سرور ڈاکٹر عابد کے نام سرفہرست ہیں۔ گلگت کے چار ڈاکٹر اور نرسیں بھی متاثر ہوئی ہیں جن میں ایک ڈاکٹراسامہ دنیا سے چلے گئے۔گجرات کی سٹاف صدف بھی کرو نا میں مبتلا ہوکر وفات پاگئیں ب ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر سلمان حسیب چیئرمین ڈاکٹر ایوب سبز کے چیئرمین ڈاکٹر محمود الحسن سندھ کے صدر ڈاکٹر عمر سلطان کے پی کے کے ڈاکٹر رضوان کنڈی بلوچستان کے صدر ڈاکٹر یاسر گلگت کے صدر ڈاکٹر محبوب وفاقی دارالحکومت کے ڈاکٹر رہنما ڈاکٹر ڈاکٹر اسفند یار سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے لائن کو ہی کرو نا توڑ رہا ہے آج تک ڈاکٹروں کو کرونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی سازوسامان نہیں دیا گیا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تین سو کے قریب ہیلتھ پروفیشنل کرونا میں مبتلا ہو چکے ہیں لگ یہ رہا ہے کہ یہ فرنٹ لائن توڑنیکے لئے ہیلتھ پروفیشنلز کے خلاف ایک سازش ہورہی ہے۔چائنا اور دیگر ملکوں سے جو امدادی سلمان کے جہاز آئے وہ پتہ نہیں کہاں تقسیم ہوگئے ہسپتالوں تک نہیں پہنچ سکے۔چاروں صوبوں میں سازوسامان جو ڈاکٹروں کو کرونا سے محفوظ کرتا ہے وہ نہیں دیا گیا۔ ڈاکٹرز اپنی مدد آپ کے تحت حفاظتی سازو سامان خرید کر استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے شروع دن سے ہی کہہ دیا تھا اگر فرنٹ لائن پر لڑنے والے مجاہدوں کو مکمل سازوسامان نہ دیا گیا تو یہ ڈاکٹر کرونا بانٹنے کا باعث بنے گے آج یہی ہوا کہ چاروں صوبوں میں درجنوں نہیں سینکڑوں کے حساب سے ڈاکٹر کرونا میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ان حالات میں کام کرنا مشکل ہورہا ہے ڈاکٹروں پر عرصہ حیات تنگ ہورہا ہے۔ جب ہیلتھ پروفیشنلز ہی کرو نہ میں مبتلا ہو جائیں گے تو غریبوں کا علاج کون کرے گا۔ ملتان کے اندر سو ڈاکٹروں کے خون کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے ہیں۔ان میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر متاثر ہو سکتے ہیں حکومت سازوسامان نہیں دے سکتی تو گھر چلی جائے۔

حفاظتی سامان

مزید :

صفحہ اول -