برازیل میں کورونا وائرس کے مریضوں کا ملیریا کی دوا سے علاج، لیکن اس کا ایسا سائیڈ ایفیکٹ سامنے آگیا کہ ڈاکٹروں نے استعمال فوری روک دیا

برازیل میں کورونا وائرس کے مریضوں کا ملیریا کی دوا سے علاج، لیکن اس کا ایسا ...
برازیل میں کورونا وائرس کے مریضوں کا ملیریا کی دوا سے علاج، لیکن اس کا ایسا سائیڈ ایفیکٹ سامنے آگیا کہ ڈاکٹروں نے استعمال فوری روک دیا

  

برازیلیا(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے ملیریا کی دوا’ہائیڈروکسی کلوروکوئین‘ کے متعلق خوشخبری سنائی گئی کہ یہ کورونا وائرس کے مریضوں پر انتہائی موثر ثابت ہو رہی ہے۔ اس کے بعد جہاں لوگوں نے اپنے تئیں اس کا استعمال شروع کر دیا وہیں مختلف ممالک نے اس کے مریضوں پر ٹرائیلز بھی شروع کر دیئے لیکن یکے بعد دیگر یہ ممالک اس دوا کا استعمال ترک کر رہے ہیں۔ پہلے سویڈن نے کورونا وائرس کے مریضوں پر اس دوا کا استعمال بند کیا اور اب برازیل نے اس کے ٹرائیلز روک دیئے ہیں کیونکہ اس کے انتہائی سنگین مضراثرات سامنے آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برازیل کے سائنسدانوں نے اس دوا کے تجربات کرنے کے لیے کورونا وائرس کے 440مریضوں کا انتخاب کیا اور انہیں یہ دوا دیتے رہے۔ ان میں سے اکثر مریضوں کو اس کا فائدہ کم اور نقصان انتہائی زیادہ ہوا۔ ان میں دیگر کئی عارضوں کی ساتھ دل کی بیماری عام ہو گئی۔ان میں سے 81مریضوں کو دل کی بیماری ’ہارٹ ارتھمیاس‘ لاحق ہوئی اور ان کی موت واقع ہونے کا خطرہ دوسرے مریضوں کی نسبت کئی گنا بڑھ گیا۔ انہیں 600ملی گرام کلوروکوئین دی جاتی رہی تھی۔ان تجربات میں صرف ایک مریض ایسا تھا جو ہائیڈروکسی کلوروکوئین ملنے سے کورونا وائرس سے صحت یاب ہوا۔ باقی تمام میں کوئی نہ کوئی مزید عارضہ سامنے آ گیا اور ان میں کورونا کی علامات پر بھی کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔

مزید :

بین الاقوامی -