مساجد پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہو گا، پنجگانہ نماز اور تراویح بھی پڑھی جائے گی، اعتکاف بھی ہو گا، مفتی منیب الرحمان نے اعلان کر دیا

مساجد پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہو گا، پنجگانہ نماز اور تراویح بھی پڑھی جائے ...
مساجد پر لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں ہو گا، پنجگانہ نماز اور تراویح بھی پڑھی جائے گی، اعتکاف بھی ہو گا، مفتی منیب الرحمان نے اعلان کر دیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے تمام مسالک کے جید علمائے کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  مساجد میں لاک ڈاؤن نہ کرنے اور باجماعت پنجگانہ نماز کیساتھ رمضان المبارک میں تراویح پڑھنے اور آخری عشرے میں اعتکاف کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں جاری جزوی لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے کی توسیع کردی ہے تاہم اس کا اطلاق مساجد پر نہیں ہو گا، کل  سے تمام مساجد کھول رہے ہیں کیوںکہ تین یا پانچ افراد کی پابندی قابلِ عمل ثابت نہیں ہورہی،نماز،تراویح،اعتکاف سمیت تمام عبادات کاسلسلہ جاری رہےگا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھلی رہیں گی،جماعت اور جمعہ جاری رہے گا،جو بزرگ اور بیمار ہیں وہ مسجد نہ آئیں،انہیں گھر پر ثواب ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مساجد سے قالین ہٹا کر ہر نماز کے بعد جراثیم کش محلول سے دھویا جائے، دوصفوں کے بعد ایک صف کا فاصلہ ہو اور آپس میں بھی فاصلہ رکھاجائے، تمام حضرات وضو گھر سے کرکے آئیں، مقتدی حضرات صابن سے ہاتھ دھو کر اور ماسک پہن کرآئیں۔

 مفتی منیب نے بتایا کہ حکومت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مساجد بند نہیں ہونی چاہئے،پولیس نے بہت سی زیادتیاں کی ہیں،حکمران وعدہ کچھ کرتے ہیں تاہم ہوتا کچھ اورہے،امام کاکام نمازیوں کوروکنانہیں بلکہ نماز پڑھانا ہوتا ہے،سیکیورٹی اداروں کوچاہیےکہ ادب کامظاہرہ کریں اورگالی گلوچ سے اجتناب کریں،برطانوی حکومت نے شہریوں کو سہولیات فراہم کیں  اگر پاکستانی حکومت نے اقدامات نہ اٹھائے تو عوام کا اعتماد کھو دے گی،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ باشندوں کو مشکل سے نجات دلائے،دینی اداروں سے متعلق ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئےجس سے نفرت پیدا ہوتی ہو،مسجد کو آئندہ ہدف بنانا قابل قبول نہیں ہوگا،دینی مدارس کے بلز ایک سال یا کم ازکم 3 ماہ تک معاف کردئیے جائیں۔

پریس کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ  تمام مکاتب فکر کے علماءنے اس بات پر اتفاق کیا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ نسل انسانی کیلئے ایک آزمائش ہے اور لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والوں کی مدد ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آرز کی خلاف ورزی حکومت نے کی ہے،حکومت مساجد میں گرفتاریاں کرنے کی بجائے  گرفتار ہونے والے لوگوں کو رہا کرے،  اس سلسلے میں ایک 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ علماءکرام کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جو احتیاطی تدابیر ہیں، ان پر عمل کرنا ہے لیکن ایک مسلمان کیلئے رمضان میں باجماعت نماز ضروری ہے لہٰذا احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھلی رہیں گی۔ 

خیال رہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر وفاقی حکومت نے لاک ڈاﺅن میں مزید 14 روز کی توسیع کا اعلان کردیا ہے تاہم حجام، مکینک ، درزی سمیت کنسٹرکشن سیکٹر کو مکمل کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن مارکیٹس، سینماءسمیت دیگر تمام پبلک مقامات بند رہیں گے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -کورونا وائرس -