ماہِ مبارک میں کرنے والے کام!

ماہِ مبارک میں کرنے والے کام!
ماہِ مبارک میں کرنے والے کام!

  

رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، مسلمان اس مہینے میں نیکیاں سمیٹنے کے لئے تیاریاں شروع کر دیتے ہیں بلاشبہ یہ ماہِ مبارک گناہوں کی مغفرت کے ساتھ اپنے اندر نیکیوں کا بے حدوحساب اجروثواب رکھتا ہے۔حضور نبی اکرم ؐ کا فرمان ہے ”بدبخت ہے وہ جس نے رمضان پایا اوریہ مہینہ اس سے نکل گیا اور وہ اس میں (نیک اعمال کر کے) اپنی بخشش نہ کروا سکا“۔

بطور مسلمان رمضان نصیب ہونے پر ہمیں اپنے  رب کا شکر بجالانا ہوگا اور اس ماہ مبارک کو غنیمت جانتے ہوئے گناہوں کی مغفرت کے لئے نماز و روزہ،صدقہ وخیرات،ذکر الٰہی، قیام وسجود اور عمل صالح کرکے اللہ کو راضی کرنا ہوگا اوراللہ تعالیٰ سے اس بات کی توفیق طلب کرنی ہوگی کہ وہ ہمیں اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کردے۔اس مہینے کا پانا بڑی سعادت کی بات ہے،جس کی قسمت میں رمضان نہ ہو وہ کبھی اسے نہیں پا سکتا لہٰذا، ہمیں اس ماہ کی حصول یابی پررب کریم کا شکر بجا لانا چاہئے اور اس کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے اس کے آداب وتقاضے کو نبھانا چاہئے اور جوبندہ نماز قائم کرتا رہا اور گناہ کبیرہ سے بچتا رہا اس کے لئے اس ماہ مقدس میں سال بھرکے گناہوں کی بخشش کا وعدہ ہے۔نبی اکرم  ؐ کا فرمان ہے کہ ”جس نے رمضان کا روزہ ایمان کے ساتھ،اجر وثواب کی امید کرتے ہوئے رکھا اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں“۔

ایک اور موقع پر نبی اکرم ؐ نے فرمایا  جو رمضان میں ایمان اور اجر کی امید کے ساتھ قیام کرتا ہے اس کے سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اورسرکش جن جکڑدیئے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اورجنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بندنہیں کیاجاتا، پکارنے والا پکارتاہے خیر کے طلب گارآگے بڑھ، اور شرکے طلب گار رْک جا اور اللہ اس رات آگ سے بندوں کو آزاد کرتا ہے (توہوسکتاہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو) اور ایسارمضان کی ہررات کو ہوتا ہے۔ اللہ کے نبیؐ اس ماہ مبارک میں مسجد میں اپنا قیام بڑھا دیتے اور قران پاک کی تلاوت فرماتے اور رمضان کے آخری دس دن اعتکاف میں ذکر الٰہی میں مزید مشغول ہو جاتے۔ مندرجہ بالا احادیث بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایسا مہینہ ہے،جو بڑی سعادتوں والوں کو نصیب ہوتا ہے اور ہمیں اس مہینے میں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم نے سارا سال کیا کمایا تھا اور اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے اور اللہ کے حضور شکر بجا لانا چاہئے کہ اس نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اس بابرکت اور بڑے سعادت والے مہینے میں اللہ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں اور ہمیں اپنے ارد گرد نظر دوڑانی چاہئے دیکھنا چاہئے تا کہ ہمیں احساس ہو کہ گزشتہ رمضان میں ہمارے قریبی رشتہ دار، دوست احباب جو ہمارے ساتھ موجود تھے اب ہم میں نہیں ہیں تو اللہ کا شکر ادا کریں اور اس ماہِ مبارک کو پانے کی خوشی میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں، غریبوں کے کام آئیں۔

کورونا کا دور ہے تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمارے بھائی اکثر جن کے گھر راشن نہیں ہے ان کے گھر راشن پہنچانے کا بندوبست کریں، جن کو اللہ نے توفیق دی ہے انہیں بڑھ چڑھ کر اس نیکی کے موقع پر اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ صدقہ گناہوں کی مغفرت کا اہم ذریعہ ہے۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں،جو کسی سے سوال نہیں کرتے، کسی کے آگے جھولی نہیں پھیلاتے ان کے لئے حکومت کو اشیا ضروریہ سستی کرنی چاہیں، کورونا کی وجہ سے جن کے کاروبار ختم ہو گئے ہیں ان کے لئے روزگار کا عارضی بندوبست بھی کیا جائے تا کہ وہ رمضان المبارک میں اپنے اہل خانہ کو اس بابرکت مہینے کی فیوض و برکات سمیٹنے میں مدد کر سکیں۔ دوسرا ہمارے ہاں دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی تہوار آتا ہے تو لوگ اشیا کی قیمتیں آسمان پر لے جاتے ہیں، جس سے وہ طبقہ جن کی سکت پہلے ہی کچھ خریدنے کی نہیں ہوتی ان کے لئے اس ماہ میں کپڑے خریدنا یا اپنے بچوں کے لئے عید کی خریداری کرنا آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے اِس لئے لوگوں کو مسلمان ہونے کے ناطے اس کا خود بھی خیال کرنا چاہئے اور اللہ کی رضا کے لئے چیزوں کی قیمتوں کو  کم کرنا چاہئے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اس بابرکت مہینے کے طفیل کورونا جیسی بیماری سے انسانیت کو نجات عطا فرما آمین۔ 

مزید :

رائے -کالم -